جسٹس وجیہہ الدین احمد کو بالا آخر تحریک انصاف سے نکال دیا جائیگا یا وہ خود نکل جائیں گے

جسٹس وجیہہ الدین احمد کو بالا آخر تحریک انصاف سے نکال دیا جائیگا یا وہ خود ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اگرچہ(سابق)جسٹس وجیہہ الدین احمد کی تحریک انصاف کی رکنیت پارٹی چیئرمین عمران خان نے فی الحال ختم تو نہیں کی لیکن اب معطلی اور علیحدگی میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں رہ گیا۔ وجیہہ الدین احمد بنیادی طورپر سیاست کے نہیں، عدالت کے آدمی ہیں،تاہم اب وہ کافی عرصہ سے سیاست میں ہیں ۔جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف صدارتی الیکشن لڑ چکے ہیں۔تحریک انصاف میں انہیں ان کے وہ وکیل دوست لے آئے تھے جن کا یہ خیال تھا کہ اگلا دور عمران خان کا ہے۔یہ تاثر عمران خان کے مشہور مینار پاکستان والے جلسے کے بعد ابھرا تھا، جو ہر لحاظ سے ایک کامیاب جلسہ تھا۔ اور اس جلسے میں ایسے لوگوں نے بھی شرکت کی تھی جو زندگی بھر کسی سیاسی جلسے میں نہیں گئے تھے،بلکہ سیاسی جلسوں سے خاصے الرجک تھے اوران میں شرکت کو تضیع اوقات خیال کرتے تھے لیکن جلسے سے پہلے جو فضا تھی، اس میں سرگوشیوں میں جو باتیں ہو رہی تھیں اس کے بعد جلسے میں خاصی رونق رہی ۔ریٹائرڈ،سول اور فوجی افسر جلسے میں شریک ہوئے۔ اس جلسے کے بعد سیاسی مسافروں نے مختلف سیاسی جماعتوں سے نکل کر تحریک انصاف کا رخ کیا، اس وقت تک پیپلز پارٹی برسراقتدار تھی اور لوگ پیپلز پارٹی سے نکلنا شروع نہیں ہوئے تھے البتہ مسلم لیگ (ق) کو بہت سے رہنماؤں اور کارکنوں نے داغ مفارقت دے دیا، چودھری شجاعت حسین اس صورتحال سے شاکی بھی تھے اور انہوں نے گلہ بھی کیا تھا کہ عمران خان کے سرپرست ایک اعلیٰ فوجی افسر کے اشارے پر ان کی پارٹی کے لوگوں کو توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کرایا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف نے پارٹی انتخابات کرائے تو ہر جانب شورمچ گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، ووٹ خریدے گئے ہیں،ان شکایات پر عمران خان نے جسٹس وجیہہ الدین کو بے قاعدگیوں کی تحقیقات پر مامور کیا جنہوں نے کمال عرق ریزی سے یہ نتیجہ نکالا کہ پارٹی میں ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی ہے۔ اور اس کے ذمہ داروں کو پارٹی سے نکالا جائے ۔ جن رہنماؤں کو نکالنے کی سفارش کی گئی ان میں پرویز خٹک، جہانگیر ترین اور علیم خان شامل تھے۔یہ فیصلہ ایسا تھا جس نے عمران خان کے کان کھڑے کر دئیے تھے،ان میں اول الذکرخیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں جبکہ باقی دو رہنما ایسے ہیں جو پارٹی پر بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں، عمران خان جس جہاز پر اڑتے پھرتے ہیں وہ بھی جہانگیر ترین کا فراہم کردہ ہے۔اب اگر ان سب کو نکالا جائے تو پارٹی کیسے چلے گی، جہاز تو گراؤنڈ ہو جائے گا، چنانچہ یہی وہ مقام تھا جہاں سے جسٹس وجیہہ الدین اور عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھنا شروع ہوئے ، اوراب یہ عالم ہے کہ ان کی رکنیت معطل ہے۔عمران خان نے کہا کہ جسٹس وجیہہ الدین جو کچھ کر رہے ہیں اس کا انہیں اختیار نہیں، عمران خان نے وہ الیکشن کمیشن بھی ختم کر دیا جس کی سربراہی جسٹس وجیہہ الدین احمد کر رہے تھے۔اختلافات کی خلیج وسیع تر ہوتی گئی تو وجیہہ الدین احمدنے عمران خان سے ملاقات کی اس کے بعد یہ تاثر ملا کہ شاید اختلافات ختم ہوگئے لیکن چند دن بعد ہی ان کی معطلی کی خبر آگئی اور اب کوئی دن جاتاہے جب انہیں پارٹی سے بھی نکال دیا جائیگا، کیونکہ اختلافات جس مقام پر پہنچ چکے ہیں ،وہاں جہانگیر ترین اور جسٹس وجیہہ الدین کا ایک جماعت میں رہناممکن نہیں۔ معطلی کے بعد جج صاحب کا کہنا ہے کہ وہ محبوب کے ساتھ ساتھ محبوب کے کتے سے بھی پیارنہیں کر سکتے۔اب آپ ہی فیصلہ کریں یہ کوئی پارٹی میں رہنے والی باتیں ہیں؟لیلیٰ کی محبت میں سگ لیلیٰ کو پیارتوکرناپڑتاہے۔

جسٹس وجیہہ الدین تو اب تحریک انصاف سے نکلے کہ نکلے ان کے بعد غالباً حامدخان کی باری آئیگی،اگر آپ کو اس تجزئیے پر حیرت ہو رہی ہے تو گزشتہ ہفتے کے دوران حامد خان کے بیانات دوبارہ پڑھ لیں۔اوراگر آپ کے پاس سہولت موجود ہے تو ٹی وی پر ان کے بیانات کے پرانے کلپس دوبارہ دیکھ لیں،انہوں نے جہانگیر ترین کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کے بعد کیا کوئی گنجائش موجود ہے کہ وہ پارٹی میں رہ سکیں۔عمران خان نے اگر کسی دیرینہ تعلق کی بنا پر انہیں کچھ عرصے کے لئے برداشت بھی کر لیا تو جہانگیر ترین موقع ملتے ہی انہیں نکلوادیں گے۔ ذرا یاد کیجیے حامد خان نے جہانگیرترین کو پرویز مشرف کا ساتھی اور اسٹیبلشمنٹ کا ایسا مہرہ قرار دیا تھا جنہیں سیاسی جماعتوں کو برباد کرنے کے لئے بھیجا جاتاہے۔جہانگیر ترین کے احسانوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی پارٹی ایسے بیانات کا بوجھ کتنا عرصہ سہار سکتی ہے؟

وجیہہ الدین اور حامد خان کے بعد نسبتاً بعض نوجوان سیاستدان بھی ایسے ہیں جن کا مستقبل پارٹی میں اگر غیر محفوظ نہیں تو غیر یقینی ضرور ہے۔ان میں ایک نوجوان بیرسٹر حماد اظہر ہیں جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ہی تحریک انصاف سے کیا تھا۔ وہ سابق گورنر میاں محمداظہر کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے ساتھیوں میں ولید اقبال اورمحمد مدنی ہیں ان کو انتباہ کرنے کے لئے عمران خان کو چند گھنٹے کے لئے بنفس نفیس لاہورآنا پڑا ان سب کا قصوریہ تھا کہ وہ اس پریس کانفرنس میں موجود تھے جو گزشتہ دنوں حامد خان نے کی۔ اس موجودگی کا مقصد اگر حامد خان کے خیالات کی تائید لیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حامد خان پارٹی سے نکلے یا نکالے گئے تو پھر ان کے یہ نوجوان ساتھی بھی نکلیں گے یا نکالے جائیں گے۔ یہ مرحلہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے بھی آسکتا ہے اور بعد میں بھی ،تحریک انصاف اب تک غالباً واحد پارٹی تھی جس کے حصے بخرے نہیں ہوئے تھے ۔اب یہ بھی اسی خطرہ سے دو چارنظرآتی ہے۔ٍٍ

مزید : تجزیہ