سیاست دان، اپنا کام خود کریں،جمہوریت کے لئے خدشات پیدانہ کریں

سیاست دان، اپنا کام خود کریں،جمہوریت کے لئے خدشات پیدانہ کریں

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کی پانچ سالہ مدت پوری کی اور اب مسلم لیگ (ن) بھی اس طرف گامزن ہے۔ ایوان میں موجود پیپلزپارٹی سمیت دوسری تمام جماعتیںیہی چاہتی ہیں کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے۔ گزشتہ دور میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بے لچک مفاہمتی پالیسی نے کام کیا اور ایوان میں واحد اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی حکومت کرتی رہی۔حتیٰ کہ صدر،وزیراعظم اور سپیکر تک بھی اسی جماعت سے تھے۔

مسلم لیگ (ن)کااقتدار اگرچہ دوسری جماعتوں کے ووٹ کامرہون منت نہیں کہ اس کے پاس ارکان کی اکثریت ہے ۔ اس کے باوجود مفاہمتی پالیسی جاری رکھنے ہی کا اعلان کیا گیا۔ البتہ عمران خان کی تحریک انصاف اور ڈاکٹرطاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے صورتحال پیدا کی ۔ اس میں ہردم ہے کہ نہیں والی کیفیت نظرآتی رہی لیکن آصف علی زرداری کے مفاہمانہ عمل اورجمہوریت جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ مولانا فضل الرحمان اور دوسری جماعتوں نے پارلیمنٹ کی بقا کی خاطر حکومت کا ساتھ دیا حتیٰ کہ ایم کیو ایم بھی حامی ہی رہی۔یہ مدوجذربالآخراپنے وقت پر تھا۔ایک دھرنا از خود کینیڈاچلا گیا اوردوسراحالات کے تحت ختم کرنا پڑا،چنانچہ حکمرانوں کو بھی دم لینے کی فرصت ملی اور پھر وہ عمل شروع ہوا جو اب ہر سطح پر نظر آنے لگا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ اب فیصلے سیاسی اورعسکری قیادت کی باہمی مشاورت سے ہی ہوتے ہیں اگرچہ اس حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ذرا پاکستان کے سیاسی پس منظر پر نظرڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کہ جمہوریت کے رکھوالے اورپارلیمنٹ کے چاہنے والے ہی ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کہ مداخلت کا تاثرملے اور آمریت پھر سے مسلط ہو ،آج بھی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ پارلیمنٹ کی حد تک پارلیمنٹ کی بالادستی اورجمہوری عمل کے جاری رہنے کے حامیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کے باوجود کچھ کونے کھدروں سے آنے جانے کی بات یا افواہ چلائی جاتی ہے ،اور اس میں قصور خود ہمارے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔

اس حوالے سے پہلے سیاسی بات کا جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف اورحکومت کے درمیان محاذ آرائی میں حکمرانوں کو برتری حاصل ہوگئی ہے اور واضح ہوگیا کہ تحریک انصاف کو ابھی انتظارکرنا ہوگا۔دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان خود ایسے حالات پیدا کر تے چلے جا رہے تھے اور ہیں کہ اگر کچھ لوگ ان کے ساتھ شامل ہورہے ہیں تو جماعت کے اندر تنازعات پھر سے سر اٹھانے لگے ہیں۔خود عمران خان جماعتی آمریت کا مظاہرہ کرنے لگ گئے ہیں ۔جسٹس وجیہہ الدین کی رکنیت معطل کرنا ایسا ہی عمل ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ اور خود حکمران جماعت کے اندر ایسے حضرات کی کمی نہیں جو عمران خان کو سہارا دے دیتے ہیں ۔ہمارے یقین کے مطابق وزیراعظم کے لئے یہ کوئی مشکل عمل نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین کے خلاف قراردادیں جلد واپس کرا لیتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا تو یہ عمل تحریک انصاف کے فائدے میں چلا گیا کہ جب جوابی طورپر چیلنج کیا گیا کہ استعفے منظورکرلو،رکنیت ختم کردو،ہم ضمنی انتخاب میں جیت کرآجائیں گے۔ایک ہی جماعت کے پچیس اراکین کی رکنیت بیک وقت ختم ہونے سے اتنے حلقے خالی ہوتے ہیں اور اسی کی پنجاب اسمبلی سے بھی دواڑھائی درجن نشستیں خالی ہوجائیں گی تو یہ ضمنی الیکشن منی الیکشن ثابت ہوتااوریوں حالات کچھ اور شکل اختیار کرلیتے لیکن اس عمل کو بلا وجہ گزشتہ روز تک لٹکایا گیا اور بالآخروزیراعظم کی ہدایت اور قیادت میں تحاریک واپس ہوئیں۔اوراب تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔

اس سلسلے میں ہم پھر اپنی پرانی درخواست اور استدعادہرائیں گے کہ اب بھی تمام سیاسی عناصراور تحریک انصاف پارلیمنٹ کی اہمیت کا احساس کریں، احتساب کا عمل شروع ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جرائم پیشہ کے خلاف آپریشن ہورہا ہے اور اب تک کسی امتیاز کے بغیر ہے۔اب سب مل کراپنی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بقا کے لئے انتخابی اصلاحات اور احتسابی قانون اور اداروں کے قیام کے لئے قوانین اور آئینی ترامیم کر لیں تاکہ سب اپنے فیصلے آپ کریں۔ملک سے دہشت گردی،جرائم اور کرپشن کا خاتمہ لازمی ہے اور شاید اب وہ وقت آہی گیا ہے جب ان کو ختم ہونا ہے۔ بہتر عمل یہ ہے کہ سیاسی عناصر خود کرلیں ۔ قراردادوں کی واپسی مستحسن ہے۔

مزید : تجزیہ