فوجی عدالتیں برقرا ر رکھنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ، لیاقت بلوچ

فوجی عدالتیں برقرا ر رکھنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ، لیاقت بلوچ

لاہور( نمائندہ خصوصی)جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پاکستان ٹینریز فورم کے قائدین اور حبیب جالب مرحوم کی بیٹی کی شادی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتیں برقرا ر رکھنے کے لیے 21 ویں ترمیم برقرار رکھی ہے ۔ اعلی عدلیہ کا فیصلہ قبول ہے اور احترام کرتے ہیں ۔ ہماری اصلاً رائے وہی ہے جو اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے فاضل ججوں کی ہے ۔ پارلیمنٹ بااختیار ادارہ ہے اسے آئینی ترامیم کا حق حاصل ہے ۔ جمہوریت، پارلیمانی نظام اور آئین کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کا پیوند جمہوری حسن کو داغدار کرتاہے ۔ دہشتگردی ، انتہا پسندی ، ٹارگٹ کلنگ اور ٹارگٹ کلرز کے خاتمہ کے لیے جب حکومت فوج اور عوام ایک فرینکونسی پر ہوں تو اسی نظام میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا ۔ نظریہ ضرورت ریاست اور نظام کو مستحکم نہیں ہونے دیتا ۔ سپریم کورٹ کے فوجی عدالتیں برقرار رکھنے کے اکثریتی فیصلہ میں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے آنسوؤں کا بھی ذکر ہے ۔ اکثریتی فیصلہ میں اختلاف کرنے والے جج بھی آنسو ہی بہاسکتے ہیں ، بہر حال اکثریت کا فیصلہ بھی فیصلہ ہوتاہے ، احترام کرنا پڑتاہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاک فوج میں احتساب ،انصاف ،شفافیت برقرار رکھنے کے لیے این ایل سی سکینڈل کا فیصلہ خوش آئند ہے ۔کرپشن ، قومی سلامتی اور اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔ موثر نظام احتساب قومی سلامتی اور قومی معیشت کو زوال سے نکالنے کے لیے ناگزیر ہے ۔

لیاقت بلوچ

مزید : علاقائی