یورپی نوجوان شام جاکر داعش میں شامل ہوگیا لیکن پھر چند ماہ بعد داعش نے خود ہی اسے واپس اس کے ملک بھیج دیا، ایسا کیوں کیا گیا؟ ایسی حقیقت بے نقاب ہوگئی کہ جان کر سکیورٹی اداروں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں

یورپی نوجوان شام جاکر داعش میں شامل ہوگیا لیکن پھر چند ماہ بعد داعش نے خود ہی ...
یورپی نوجوان شام جاکر داعش میں شامل ہوگیا لیکن پھر چند ماہ بعد داعش نے خود ہی اسے واپس اس کے ملک بھیج دیا، ایسا کیوں کیا گیا؟ ایسی حقیقت بے نقاب ہوگئی کہ جان کر سکیورٹی اداروں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی میں گرفتار ہونے والے داعش کے ایک کارندے نے شدت پسندتنظیم کے عزائم کے متعلق ایسے خوفناک انکشافات کیے ہیں کہ مغربی ممالک کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ 27سالہ جرمن شہری ہیری سارفو نے شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ کچھ عرصہ بعد اسے واپس جرمنی آتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ دوران تفتیش اس نے انکشاف کیا ہے کہ ”شدت پسند تنظیم نے مجھے جرمنی میں موجود دیگر شدت پسندوں کے ساتھ ملک کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے واپس بھیجا ہے۔ داعش مغربی ممالک سے آ کر اس میں شامل ہونے والے سینکڑوں شدت پسندوں کو واپس ان کے ملکوں میں کارروائیوں کے لیے بھیج رہی ہے۔“برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ہیری سارفو نے یہ بھی بتایا کہ ”داعش برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں تیزی لانا چاہتی ہے۔“

ملازمت کے وعدے ،شوہر کے جھانسے ،بھارت میں ہر سال لاکھوں خواتین جسم فروشی پر مجبور

رپورٹ کے مطابق ہیری سارفو کا کہنا تھا کہ ”داعش نہیں چاہتی کہ یورپی باشندے اس میں شمولیت کے لیے شام آئیں۔ وہ چاہتی ہے کہ یورپی باشندے اپنے ممالک میں رہ کر کارروائیاں کریں۔ یورپی ممالک میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جوانہی یورپی ممالک کے باشندے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ممالک میں حملے کرنے کے لیے شام سے ہدایات آنے کے منتظر ہیں۔داعش کے کمانڈر مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ تم واپس جرمنی چلے جاﺅ۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کئی یورپی ممالک میں بیک وقت حملے ہوں۔ بالخصوص برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں وہ ایک ہی وقت میں حملے کرنا چاہتے ہیں۔“ واضح رہے کہ ہیری سارفو اس وقت جرمنی میں قید ہے اور عدالتی کارروائی کا انتظار کر رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -