مظلوم کشمیری علاج معالجے سے محروم، عالمی تنظیمیں مداخلت کریں

مظلوم کشمیری علاج معالجے سے محروم، عالمی تنظیمیں مداخلت کریں

  

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور کشمیری مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دینے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ درگاہ حضرت بلؒ میں کشمیری مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ کشمیری رہنماؤں علی گیلانی اور میر واعظ کی قیادت میں جو لوگ درگاہ حضرت بلؒ تک مارچ کرنے کے بعد معمول کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے روانہ ہوئے، بھارتی فوجیوں نے ان پر بے پناہ تشدد کیا۔ پیلٹ گن کا اندھا دھند استعمال کیا، جس کے نتیجے میں مزید تین کشمیری شہید ہوگئے جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج نے بہت سے لوگوں کو گرفتار بھی کیا۔ تاہم احتجاج کرنے والوں نے سڑک پر ہی نماز جمعہ ادا کی۔ درگاہ حضرت بلؒ میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کا یہ پہلا واقعہ ہے، تاریخ میں نماز کی ادائیگی سے کبھی نہیں روکا گیا۔

بھارتی فوجیوں کے بہیمانہ مظالم میں کمی نہیں آئی۔ کشمیری رہنماؤں نے احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ 12 اگست تک بڑھا دیا ہے۔ پیلٹ گن اور فوجی اسلحہ سے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سری نگر اور دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی محدود سہولتیں ہونے اور ادویات کی نایابی کے باعث زخمیوں کی حالت خراب ہے۔ ڈاکٹروں کی بھی کمی ہے، زخمیوں کو جبراً ہسپتالوں سے چھٹی دے کر گھروں کو بھجوایا جاتا ہے۔ اس پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت کئی فلاحی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے زخمیوں کے لئے ضروری ادویات اور دوسرا سامان ٹرکوں میں بھر کر بھجوایا لیکن اس امدادی سامان کو لائن آف کنٹرول پر روک لیا گیا۔ حالت یہ ہے کہ تین ہفتے سے زیادہ کرفیو نافذ ہے، کوئی وقفہ نہیں دیا جاتا۔ ویسے بھی لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء نہیں اور بہت سے لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے سخت پریشانی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے عالمی سطح پر اپیل کی ہے کہ بھارتی فوجیوں کو امدادی سامان تقسیم کرنے کی اجازت دینے کے لئے دباؤ ڈالا جائے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے بھی بھارتی فوجیوں کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ زخمیوں کے فوری علاج معالجہ کے لئے آزاد کشمیر اور پاکستان سے ڈاکٹرز، ادویات اور دوسرا ضروری سامان کرفیو زدہ علاقوں میں پہنچانے کی اجازت دی جائے۔ بھارتی حکومت نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے۔ پیلٹ گن سے زخمیوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس ظالمانہ اور افسوسناک صورت حال کا عالمی اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیئے۔

مزید :

اداریہ -