دہشت گردوں کے خلاف ’’ڈومور‘‘ کا امریکی مشورہ

دہشت گردوں کے خلاف ’’ڈومور‘‘ کا امریکی مشورہ

  

امریکہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان اور بھارت کے لئے حقیقی خطرہ ہے جس سے نپٹنے کے لئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔دونوں پڑوسی تصفیہ طلب تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ 30کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روکے جانے کے باوجود پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی خفیہ پناہ گاہوں پر تشویش ہے۔ پاکستان صرف مخصوص گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان گروپوں کے خلاف بھی پاکستان کو کارروائی کرنی چاہیے جو ہمسایہ ملکوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کی کئی پناہ گاہیں ختم کیں۔ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اہم اقدامات جاری ہیں، جن کی قیمت بھی اسے انسانی جانوں کی شکل میں چکانی پڑ رہی ہے۔ پاکستان کی توجہ ان گروپوں پر ہے جو اس کے استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔ پاک فوج نے کئی محفوظ ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیں اور کئی مقامات پر حکومتی عملداری بحال کر دی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ ان گروپوں کے خلاف بھی کارروائی کرے جو خود اس کے لئے خطرہ نہیں۔ یہ باتیں امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے اپنی بریفنگ کے دوران بتائیں۔

دہشت گردوں کے خلاف پاکستان نے جو کارروائیاں کی ہیں وہ اتنی بدیہی اور واضح ہیں کہ امریکہ کو بھی ان کا اعتراف کرنا پڑتا ہے اور اس بریفنگ کے دوران بھی یہ بات تسلیم کی گئی ہے تاہم حسب روایت امریکہ نے یہاں بھی ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کر دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کو ان مشکلات کا احساس و ادراک نہیں ہے جو دہشت گردی کی اس جنگ میں عملاً درپیش ہیں یہ کام اگر اتنا ہی آسان ہے تو امریکہ نے افغانستان میں دہشت گردی ختم کرنے میں کیوں کامیابی حاصل نہیں کر لی حالانکہ امریکی فوج جو افغانستان میں مقیم ہے، بہتر ہتھیاروں سے مسلح ہے۔ امریکی فوجیوں کو ایسی سہولتیں بھی حاصل ہیں جو پاکستانی فوجیوں کو دستیاب نہیں۔ افغانستان میں نیٹو کے رکن ممالک کے فوجی بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جن کے پاس وسائل اور اسلحی سازوسامان کی کوئی بھی کمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود کیا امریکی حکمت کاروں نے کبھی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں کر سکا؟ اگر امریکی فوج کے جرنیل اس سوال کا جواب تلاش کریں گے تو ان پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ تمام تر بالا دستی کے باوجود وہ افغانستان میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکے اور دہشت گردی پوری طرح ختم کیوں نہیں ہو سکی۔

افغانستان میں اب بھی دہشت گردی کی وارداتیں تسلسل کے ساتھ ہوتی ہیں کابل کے باہر تو بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں امریکیوں سمیت افغان حکام کی کوئی عملداری نہیں اور نہ ان کا حکم وہاں چلتا ہے ان علاقوں میں افغان طالبان کا سکہ چلتا ہے اور انہی کی بات مانی جاتی ہے۔ ان علاقوں کا تو مذکور ہی کیا کابل میں جو افغانستان کا دارالحکومت ہے اور جہاں چپے چپے پر امریکی اور نیٹو فوجی موجود ہیں اور افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کی بڑی تعداد بھی یہیں خدمات انجام دے رہی ہے۔ لیکن کابل میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اس کا اگر کوئی یہ مطلب نکالے کہ امریکی فوجی وہاں کارروائیاں نہیں کر رہے تو یہ درست نہیں ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی اور تمام تر کوششوں کے باوجود یہ وارداتیں ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کے وسائل کا امریکہ کے مقابلے میں کوئی شمار و قطار ہی نہیں تاہم محدود وسائل کے باوجود پاکستانی فوج کے افسر اور جوان جرات و شجاعت کی ایسی داستانیں رقم کر رہے ہیں، جن کی مثال بہت کم ملتی ہے۔قبائلی علاقوں میں جہاں دہشت گردوں نے کمین گاہیں بنا رکھی تھیں، اسلحہ ساز فیکٹریاں قائم کر رکھی تھیں اور اسلحے کے اتنے ذخائر جمع کر رکھے تھے جو کئی برس تک لڑائی کے لئے کافی تھے۔ ان دہشت گردوں کو اگر پاک فوج نے اپنی حکمتِ عملی اور کامیاب جنگی چالوں کے ذریعے ان علاقوں سے نکالا ہے ان کی پناہ گاہیں ختم کی ہیں، ان کے اسلحہ کے ذخیروں کو تباہ کیا ہے ان کی تربیت کے مراکز ختم کئے ہیں، بڑی حد تک ان دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اور جو کسی وجہ سے بچ گئے انہیں تتربتر کرکے ان علاقوں میں مزید کارروائی کے قابل نہیں چھوڑا تو کیا یہ کوئی معمولی کامیابی ہے؟ پاک فوج اور فضائیہ نے ان آپریشنوں میں مشترکہ طور پر شرکت کی ہے اور جانی و مالی قربانیاں پیش کی ہیں۔ پاک فوج نے ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کی ہیں جن میں سے بعض فرار ہو گئے انہوں نے افغانستان جا کر وہاں پناہ لے لی اور وہیں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے اور مانیٹر کرتے رہے ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کا واقعہ ایسے ہی لوگوں نے منصوبہ بنا کر کیا تھا بہت سے دوسرے واقعات کی منصوبہ بندی بھی وہیں کی گئی، جس کا مقصد پاکستانی فوجیوں کے حوصلے پست کرنا تھا جس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ امریکہ کو اگر یہ شکایت ہے کہ پاکستان بلا امتیاز کارروائی نہیں کر رہا تو اس کی معلومات کے ذرائع قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔

امریکہ کا یہ مشورہ بھی اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔ اگر ایسا ہو سکتا تو بہت اچھا ہوتا لیکن پاکستان کے پاس تو ایسے ثبوت بھی موجود ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی بہت سی کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ادارہ ’’را‘‘ ملوث ہے۔ چند ماہ پہلے ایک بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد تو بھارت کا پورا منصوبہ طشت ازبام ہو کر رہ گیا ہے۔ اس جاسوس نے تسلیم کیا کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو نشانہ بنانے کے لئے خصوصی طور پر مامور کیا گیا تھا اور اس نے اس مقصد کے لئے مقامی نیٹ ورک بھی بنا رکھا تھا۔ اس نے سندھ میں بھی کئی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت بھی پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ (مصر) میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے حوالے کئے تھے۔ اب جو بھارت، پاکستان کے اندر خود دہشت گردی کی کارروائیاں کرا رہا ہے اوراپنی نیوی کے حاضر سروس افسر کو اس مقصد کے لئے پاکستان میں بھیجا ہوا تھا اس کے ساتھ مل کر پاکستان دہشت گردی پر کیا قابو پائے گا یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے امریکہ اور شمالی کوریا مل کر کسی دشمن کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنائیں۔ امریکہ کا مشورہ اس صورت میں درست ہوتا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات ہوتے جو باوجود کوششوں کے اب تک قائم نہیں ہو سکے، ابھی دو روز قبل بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان آئے تھے اور یہاں پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کشمیر میں بھارت کی دہشت گردی کا ذکر کر دیا تو وہ غصے کی حالت میں واپس چلے گئے ایسے میں دونوں ملک دہشت گردی کا مل کر کیا مقابلہ کریں گے؟ البتہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی روکی ہوئی فوجی امداد بحال کرے اور ایسا سازوسامان بھی دے جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے درکار ہے۔ خالی خولی ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔

مزید :

اداریہ -