ہم شہری،سیاحتی مقامات اور انتظامی ضرورت!

ہم شہری،سیاحتی مقامات اور انتظامی ضرورت!

  

خط غربت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہم نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ سفر وسیلہ ظفر کے طور پر ہوا بدلی کے لئے لاہور سے نتھیا گلی کے لئے عازم سفر ہوئے اور جاتے جاتے جو دیکھا وہ بھی عرض کر دیا۔ ایک قاری نے ہمارے کالم کے عنوان پر ہی حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق ہمیں اسلام آباد اور گلیات کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی تو عرض یہ ہے کہ ہمارا لاہور تو ہر وقت ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے کہ لوٹ کر تو پھر لاہور ہی آنا ہے اور آج ہم واپس لاہور کی طرف روانہ ہو رہے ہیں کہ جمعہ کو ہی اپنے پاکستانی بھائیوں کی جو دلچسپی دیکھی، اس سے اندازہ ہو گیا کہ چھٹیوں کے موسم میں مری اور گلیات میں عوامی ہجوم اور ٹریفک کے حوالے سے جو رپورٹیں دیکھیں اور پڑھیں وہ بہت مناسب تھیں۔

یہ ہم ہی ہیں جو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے تمام قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور قطار یا اپنی لین میں چلنا پسند نہیں کرتے۔اپنے سے آگے والے کو اوورٹیک کرکے سامنے سے آنے والے کے ساتھ متھا لگا لیتے ہیں اور پھر جھگڑا بھی کرتے ہیں، اگر اسلام آباد اور راولپنڈی سے مری اور مری سے نتھیا گلی تک کا سفر کریں تو معلوم ہو گا کہ سڑک پہلے سے بڑی کر دی گئی ہے،چوڑائی مری روڈسے زیادہ ہو گئی ہے، تین سے چار گاڑیاں آسانی سے گزر جاتی ہیں، اسی طرح اسلام آباد، مری ایکسپریس وے دو رویہ ہے، یہ بھی صاف ستھری ہے، اب اگر آنے جانے والے ہی صبر کا مظاہرہ نہ کریں تو کسی کا کیا قصور!

ہمارا مشاہدہ تو یہ ہے کہ اگر کہیں معمولی سی رکاوٹ نظر آئے تو ہم میں سے ہی کچھ حضرات یک طرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی بھی کر لیتے ہیں اور پھر نتیجہ سب لوگ بھگتتے ہیں کہ ٹریفک جام ہو تو گاڑیاں پھنستی چلی جاتی ہیں۔یہ سب کچھ ٹھیک اسی صورت میں ہو گا، جب ہم خود نظم و ضبط کی پابندی کریں گے۔ جو حضرات گلیات کی تفریح کر چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ مرکزی سڑکوں کی تعمیر کی وجہ سے گاڑی چلانا آسان ہو گیا ہے ،پھر اکثر علاقوں میں سٹریٹ لائٹ کا بھی انتظام ہے، چنانچہ اب ان سڑکوں پر رات گئے بھی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔

ہم شہری گاڑی چلانا تو سیکھ لیتے ہیں، لیکن گاڑی چلانے کے آداب سے واقف نہیں ہیں۔رات کے وقت آمنے سامنے سے آتے جاتے ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ خود گزرجائے اور دوسرے کو موقع نہ جائے۔ اس سے بسا اوقات گاڑیوں کو پہاڑ کی گہرائی کی طرف بالکل کنارے سے گزرنا پڑتا ہے، پھر اترائی اور چڑھائی پر رفتار کم کرنا بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت سامنے سے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے کو روشنی کی گنجائش نہیں دیتیں۔ قواعد کے مطابق اگر دونوں طرف سے آنے والے حضرات ’’فل لائٹ‘‘ بیم جلا کر آ رہے ہوتے ہیں تو آمنے سامنے آتے ہی ہر دو کو ’’ڈپر‘‘ پر آکر روشنی نیچے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری صورت میں روشنی اونچی ہونے کے باعث سامنے والے کی ونڈ سکرین پرپڑتی ہے گاڑی چلانے والے کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، اس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہتر عمل اور قاعدہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنی اپنی گاڑی کی ہیڈ لائٹیں نیچی کر لے، جب گاڑی ایک دوسرے کے پاس سے گزر جائے تو پھر فل لائٹ کی جا سکتی ہے، لیکن یہاں تو کچھ شوقین حضرات فالتو لائٹ بھی لگوا لیتے ہیں اور اصل بیم کی روشنی کچھ اس انداز سے ایڈجسٹ کراتے ہیں کہ وہ سامنے سے آنے والے کی سکرین پر براہ راست اثراندازہوتی ہے،حادثات کا سبب بنتی ہے۔

ہمارے شمالی علاقہ جات بہت خوبصورت ہیں۔ دیر،چترال،سوات، کاغان، ناران اور گلیات میں سیاحوں کے لئے بہت کچھ ہے ،پھر یہ دیکھ کر کہ آبادی بڑھی ہے توخطِ غربت کا بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا۔ سیزن میں بھاری تعداد میں لوگ ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن معقول سہولتوں کے فقدان یا کمی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ مری اور گلیات میں زیادہ رش کی وجہ ان کا قریب ہونا ہے، جبکہ سوات اور کاغان ویلی کا رخ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں۔لوگ بچوں کے ساتھ جاتے ہیں۔ آپریشن سوات اور بعدازاں ضرب عضب کی وجہ سے امن بھی بحال ہو چکا، اس لئے لوگ بے فکری سے جانے لگے ہیں۔ فوجی جوان یوں بھی متاثرہ علاقوں میں موجوداور الرٹ ہوتے ہیں۔

ان علاقوں میں مسائل کی بات نہ کرنا غیر مناسب ہوگا۔ ایک تو یہ کہ ان علاقوں میں درختوں کی بوجوہ کمی کے باعث نہ صرف موسم پر اثر پڑا ہے، بلکہ لینڈ سلائیڈنگ بھی جاری رہتی ہے اگردرخت زیادہ اور گھنے ہوں تو جنگلات کی موجودگی مٹی کو مضبوط کرتی ہے ۔ آمد و رفت کے لئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاوہ بلوچستان والوں کو بھی توجہ دینا ہوگی۔ سڑکیں ایسی ہوں، جیسی اسلام آباد سے مری اور مری سے نتھیا گلی تک ہیں۔ خیبرپختونخوا والوں کو نتھیا گلی سے ایبٹ آباد والی سڑک کی مرمت جلد کرا لینی چاہیے۔کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مرکزی سڑکیں تو درست حالت میں ہوں اور ذیلی سڑکوں کو بھول جائیں جو سیاحوں کو دلچسپی کے مراکز تک لے جاتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کو تو ذیلی سڑکیں بھی ایسی بنانی چاہئیں، جیسی نتھیاگلی میں گورنر ہاؤس والی ذیلی سڑک ہے۔

بات ختم کرنے سے پہلے ایک بہت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے، وہ یہ کہ سیاحوں کو رہائش اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان صحت مند مقامات پر اچھے ہوٹل اکا دکا ہی ہوتے ہیں اور ان کے نرخ بھی بہت زیادہ ہیں، جنہیں ایک خاص درجہ (اشرافیہ) والے حضرات ہی برداشت کرتے ہیں۔ نچلے درجے کے ہوٹلوں میں سہولتوں کی کمی ہوتی ہے اور وہ بھی سیزن میں مہنگے ہو جاتے ہیں۔ ان کی جانچ پڑتال کا انتظام لازم ہے، جبکہ خوراک کے معیار کو درست کرانا تو انتہائی ضروری ہے۔ ناقص گھی، غیر معیاری مصالحے ،سبزیاں اور گوشت وغیرہ کا استعمال عام ہے، جو صحت مند مقامات پر غیر صحت مند ماحول کو جنم دیتا ہے۔بجلی مقامی سطح پرپیدا کرنے کا انتظام ضروری ہے کہ لوڈشیڈنگ بہت ہوتی ہے۔ اس کے باعث جنریٹر چلتے اور ماحول خراب کرتے ہیں۔ اللہ نے سفر بخیر و خوبی گزار دیاہے،دعا ہے کہ سفر سب کا ہی بخیریت گزرے اور کوئی خط غربت کے نیچے نہ رہے۔

مزید :

کالم -