صوبائی خودمختاری کو ختم کرنیکی کوشش کی گئی تو تاریک اپنا حساب خود لے گی :رضا ربانی

صوبائی خودمختاری کو ختم کرنیکی کوشش کی گئی تو تاریک اپنا حساب خود لے گی :رضا ...

  

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دی گئی صوبائی خود مختاری کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو تاریخ اپنا حساب خود لے گی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وفاقی کی موجودہ باؤنڈریز میں کوئی تبدیلی آ جائے، ہمیں بحیثیت قوم پارلیمان، پارلیمانی اداروں اور آئین کے تحت کام کرنیوالے اداروں کا احترام کرنا چاہیئے،اگر ہم اپنی پالیسیوں کی وجہ سے انسٹی ٹیوشنل فریم ورک کو ڈسٹرب کریں گے تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، یہ باتیں انھوں نے ہفتہ کو سینیٹ کے44ویں یوم تاسیس کے حوالہ سے منعقد ہونیوالی ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، میاں رضا ربانی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ایک حساس ایشو ہے جس کیخلاف تین صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں پاس ہو چکی ہیں اور اگر حکومت کالا باغ ڈیم کو بطور پالیسی لیکر چلنا چاہتی ہے تو انہیں مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کرنا چاہیئے نہ کی کسی کنٹریکٹ پر بھرتی بیوروکریٹ کو اس اہم او نازک معاملہ پر بیان بازی کرنے کیلئے کھلی چھوٹ دے دی جائے، چیئرمین سینٹ نے کہا کہ نصاب اور سلیبس اب صوبائی ایشوز ہیں وفاق ان میں مداخلت کر کے غیر آئینی کام نہ کرے، انھوں نے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان ایک ملٹی نیشنل اسٹیٹ ہے اور جب تک ہم مختلف زبان، کلچر اور مذہب کے ماننے والوں کو اُن کے آئینی حقوق نہیں دیں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، چیئرمین سینٹ نے کہا کہ بہت طویل جدوجہد کے بعد سینٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپنی حیثیت تسلیم کروائی ہے ، اور یہ کوئی بھیک میں نہیں دی گئی بلکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سینٹ کو پی اے سی میں نمائندگی نہیں دی گئی تھی تو یہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی، انھوں نے کہا کہ جب تک سینٹ کو مالی معاملات میں کردار نہیں دیا جاتا ہم وفاق کی بات کیسے کر سکتے ہیںِ ، میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کی نئی نسل اپنی قومیت اور اپنی زبان کو اپنانا چاہتی ہے اور جب تک ہم اپنی نئی نسل کی اُمیدوں کو آئینی طور پرتسلیم نہیں کرتے ہم وفاق کو مظبوط نہیں کر سکیں گے۔انھوں نے کہا کہ جب بھی ہم ملک کو درپیش چیلنجز اور مسائل کو حل کرنے کی بات کرتے ہیں تو ایسے ایشوز چھیڑ دیئے جاتے ہیں جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے اور جن پر سیر حاصل گفتگو اور بحث ہو چکی ہے انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے کہ اشرافیہ اور سول اور ملٹری بیوروکریسی کے اسٹیٹس کو کو مزید تقویت دی جاسکے، میاں رضا ربانی نے کہا کہ آج پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے اگر ہم نے ملک کو درپیش چیلنجز اور مسائل کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات نہ کیئے اور اسٹیٹس کو کو تقویت دینے کی کوشش کی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی، اسپیکر خیبر پختونخواہ اسد قیصر،سینیٹر مشاہد اللہ خان اور سابق چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

علاقائی -