جلد انصاف کے حصول کے لئے علی ظفر کا مشن

جلد انصاف کے حصول کے لئے علی ظفر کا مشن
جلد انصاف کے حصول کے لئے علی ظفر کا مشن

  

انصاف کسی بھی معاشرہ کا بنیادی جزو ہے۔ کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔اس بارے میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا نظام انصاف درست کام نہیں کر رہا۔ اب تو شکر ہے کہ ہماری عدلیہ کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ ہمارا نظام انصاف درست کام نہیں کر رہا۔ لوگ ہمارے عدالتی نظام سے نا امید ہیں۔ اس سارے معاملے میں وکلا کا بھی ایک اہم کردار ہیں۔ ایک عمومی تاثر یہی ہے کہ وکلا حصول انصاف میں مدد گار نہیں بلکہ ایک رکاوٹ ہیں۔ وہ مقدمات کو لمبا کرتے ہیں۔ آئین و قانون سے کھیلتے ہیں۔ نظام انصاف کو آلودہ کرتے ہیں۔ عدالتوں میں بدمعاشی کرتے ہیں بلکہ عدلیہ کا بھی کسی حد تک موقف یہی ہے کہ وہ تو مقدمات کو جلد نپٹانے کے لئے تیار ہے لیکن وکلا اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ لیکن وکلا کے حوالہ سے تمام تاثر کی نفی کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے ایک بہت زبردست قدم اٹھا یا ہے۔ انہوں نے جلد انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا باعث بننے والے قوانین کے خاتمہ کے لئے ایک ترامیم تجویز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بطور سپریم کورٹ بار کے صدر یہ ان کی جانب سے ایک بڑا اور بہت قابل تحسین اقدام ہے۔ محترم علی ظفر نے یہ کام اکیلے کرنے کا بیڑا نہیں اٹھا یا بلکہ انہوں نے اس میں اپنے ساتھ سپریم کورٹ کے تمام موجودہ عہدیداران کو بھی شامل کیا ہے۔

محترم علی ظفر کی بھی عجیب منطق ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نظام انصاف اور قوانین میں موجود خامیوں کو ٹھیک کرنے کا کام صرف وکلا ہی کرسکتے ہیں اور اس کے لئے سپریم کورٹ بار سے بہتر کوئی ادارہ نہیں ہے۔ پورے پاکستان کے سنیئر ترین تین ہزار وکلا سپریم کورٹ بار کے ممبران ہیں۔ اور یہ وہ تین ہزار وکلا ہیں ۔ جنہوں نے اپنی تمام زندگی وکالت کے پیشہ کو دی ہے اور وہ اس نظام کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لئے اگر ان کی ساری عمر کے تجربہ سے فائدہ اٹھا کر نظام انصاف کو ٹھیک کرنے اور قوانین میں خامیوں کو دور کرنے کی تجاویز مرتب کی جائیں تو یہ بہترین ہو گا۔ وکلاء سے بہتر کون جانتا ہے کہ عدالتوں میں کون سے قوانین نظام انصاف میں التوا کا باعث بنتے ہیں۔ کن قوانین کیو جہ سے انصاف کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ یہ وکلا سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔

علی ظفر صاحب نے کل 23 شعبہ مارک کئے ہیں ۔ جن میں ترامیم تجویز کی جائیں گے۔انہوں نے اس ضمن میں 23 کور کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ اور 23 نامور وکلا کو ان کے کام اور تجربے کی بنیاد پر ان کور کمیٹیوں کا انچارج بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے اپنے تمام ممبران کو خط لکھا ہے کہ وہ اپنے اپنے تجربہ و مشاہدہ کی بنیاد پر نظام انصاف کو بہتر بنانے اور التوا کو ختم کرنے کے لئے ترامیم و تجاویز بھیجیں۔ یہ کور کمیٹیاں اپنے اپنے شعبوں کی ترامیم و تجاویز کو اکٹھے کریں گی اور پھر سپریم کورٹ کے ایک بڑے اجلاس میں ان تمام تجاویز اور ترامیم کی منظوری لی جائے گی۔ اس طرح تمام متفقہ ترامیم ایک کتاب کی شکل میں شائع کر کے حکومت کو پیش کی جائیں گی۔ جس کو گرین بک کہا جائے گا۔ یہ گرین بک پاکستان میں جلد انصاف کی فراہمی کے لئے ایک مشعل راہ ہو گی۔ جس میں پورے پاکستان کے وکلا کا دماغ اور تجربہ شامل ہو گا۔ جناب علی ظفر نہائت جوش میں جب اپنے یہ سارا منصوبہ مجھے بتا رہے تھے تو میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ تو کوئی پانچ سالہ منصوبہ لگتا ہے ۔ پاکستان میں تو ویسے ہی مشہور ہے کہ جو کام نہ کرنا ہو اس پر کمیٹی بنا دی جائے کام خود ہی لٹک جائے گا اور جناب کمیٹی پر کمیٹی کا ایک کھیل کھیل رہے ہیں۔ مجھے تو آپ کا یہ منصوبہ مکمل ہو تا نظر نہیں آتا۔ یہ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ میں نے کہا ویسے بھی آپ کی مدت صدارت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس لئے جاتے جاتے آپ ایک اچھا شوشہ چھوڑے جا رہے ہیں۔ یہ ایک سیاسی چال سے زیادہ کچھ نہیں۔

علی ظفر مسکرائے اور کہنے لگے کہ میرے چودہ سو ممبران نے اس کام میں میری عملی معاونت کرنے کے لئے نہ صرف ہاں کر دی ہے بلکہ مجھے ان کی تجاویز اور ترامیم موصول ہونا بھی شروع ہو گئی ہے۔ آپ اطمینان رکھیں ہم یہ کام مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں مکمل کر لیں گے۔ اور جس گرین بک کا ہم نے بیڑہ اٹھا یا ہے جسے آپ دیوانے کا خواب کہ رہے ہیں انشاء اللہ ستمبر میں آپ کے پاس ہو گی۔ ایک دفعہ یہ گرین بک شائع ہوگئی اس کے بعد تو ہم حکومت اور عدلیہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ہماری تجویز کردہ ترامیم کو پارلیمنٹ سے منظور کروائے اور جہاں عدلیہ نے کام کرنا ہے وہ کرے۔ اس طرح میں یہ کام اپنی مدت صدارت میں ہی مکمل کر لوں گا۔ علی ظفر نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر قانون سے مل کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس پروگرام کا اعلان کر دیاہے۔ خوشی کی بات ہے کہ وفاقی وزیر قانون نے اس پروگرام کی مکمل حمائت کا یقین دلا دیا ہے۔ وفاقی وزیر نے بھی ایک نئی اور عجیب کہانی ہی سنا دی ہے کہ حکومت پہلے ہی ایسی ترامیم تیار کر رہی ہے جس سے جلد انصاف ممکن ہو جائے۔ جن میں سول مقدمات کا فیصلہ ایک سال میں اور فوجداری مقدمات کا فیصلہ چھہ ماہ یقینی بنانی جیسی ترامیم شامل ہیں۔ میں تو بس ایک خواب ہی دیکھ رہا ہوں کہ اس ملک میں جلد انصاف اور بر وقت انصاف ممکن ہو جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہر پاکستانی ان سب کو دعائیں دے گا۔

مزید :

کالم -