مارشل لا عدالت کے سامنے

مارشل لا عدالت کے سامنے
 مارشل لا عدالت کے سامنے

  

جناب الطاف حسن قریشی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ کم و بیش چھ عشروں سے قلم اور قرطاس کی دنیا میں ان کا سکہ چل رہا ہے۔ان کا کوئی ہمسر نہیں ۔ وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔اپنی طرز کے بس ایک ہی آدمی۔ انہوں نے اپنے برادرِ اکبر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے ساتھ مل کر جرأت و استقامت کی ایک نئی تاریخ رقم کی اور ممتاز سے ممتاز تر ہو گئے۔ اہلِ پاکستان کو اولین ’’ڈائجسٹ‘‘ رسالہ ان ہی نے عطا کیا اور دنیائے صحافت میں دھوم مچا دی۔ یہ ادب، صحافت، تفریح اور معلومات کا ایک حسین امتزاج تھا (اور ہے) ان ہی کے زیرادارت ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ اور (بعد میں) روزنامہ ’’جسارت‘‘ کا اجرا ہوا۔ جناب الطاف حسن قریشی نے گزشتہ کئی برسوں میں قومی اور بین الاقوامی شخصیات کے جو انٹرویو کئے، اب انہیں کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ ’’ملاقاتیں کیا کیا؟‘‘ ہماری تاریخ اور سیاست کی مستندروداد بیان کرتی ہے۔ ان انٹرویوز کو کتابی شکل میں شائع کرتے ہوئے الطاف صاحب نے فٹ نوٹس کے ذریعے انہیں تروتازہ بنا دیا ہے۔ سیاق سباق سمجھنے کے بعد مطالعے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور بقول ان کے پوتے افنان کے نئی نسل بھی ان سے اسی طرح استفادہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے، جس طرح گزشتہ دو نسلیں کر چکی ہیں۔ اس مجموعے کی تقریب پذیرائی گورنر ہاؤس میں گورنر پنجاب جناب رفیق رجوانہ کے زیر صدارت ہوئی اور یوں سمجھیے کہ گلستاں کھل گیا۔ تفصیل میں جائے بغیر صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اس کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا انٹرویو شائع کرتے ہوئے الطاف صاحب نے ان کے دور کی ’’ہڈبیتی‘‘ بھی بیان کر دی ہے۔ میں اس وقت ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں ان کے زیر سایہ کام کرنے کا شرف رکھتا تھا، ممتاز اینکر اور کالم نگار سجاد میر بھی ہمارے ہم سفر تھے، بھٹو صاحب کے مارشل لا کے تحت قریشی برادران اور مجھے گرفتار کیاگیا تو ہم پر مارشل لاء عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ ہوا۔’’پنجاب پنچ‘‘ کے ایڈیٹر حسین نقی اور پبلشر مظفر قادر (مرحوم) بھی زندانیوں میں شامل کر دیئے گئے۔ ہم سب نے مارشل لا عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کر دیا اور ایک ہی مفہوم کے الگ الگ بیانات’’عدالت‘‘ کے سامنے پیش کئے۔ الطاف صاحب نے زیر نظر کتاب میں جہاں اپنا بیان شائع کیا ہے، وہاں میرا عدالتی بیان بھی جو زیادہ تفصیلی تھا، درج کر دیا ہے۔ یہ بیان جو 10اپریل 1972ء کو دیا گیا تھا۔اسے قارئین ذرا ملاحظہ فرمائیں، منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہی سہی!!!

برائے صدر سمری ملٹری کورٹ نمبر8، لاہور

مقدمہ سرکار بنام مجیب الرحمن شامی

جنابِ مکرم، سلامِ مسنون!

یہ عجیب اتفاق ہے اَور مَیں اسے سوءِ اتفاق سمجھتا ہوں کہ مجھے ملزم بنا کر آپ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے اَور آپ کو جج بنا کر میرے سامنے بٹھا دیا گیا ہے۔مجھے یقین ہے جس طرح مَیں ’مصنوعی ملزم‘ ہوں، اِسی طرح آپ بھی حقیقی جج نہیں ہیں، کیونکہ:

آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو، لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے اَور اِس ملک کے ہر پڑھے لکھے شخص کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب پاکستان کی مسلح افواج میں کوئی شخص کمیشن حاصل کرتا ہے، تو اُس وقت ایک حلف بھی اُٹھاتا ہے۔۔۔ دستور سے وفاداری کا حلف۔ آپ بھی یقیناًیہ حلف اُٹھا چکے ہیں، ذرا اِس کے الفاظ ذہن میں تازہ کیجئے، وہ یہی تو ہیں:’’مَیں خدا کی قسم کھا کر اقرار کرتا ہوں کہ پاکستان کے دستور اَور حکومت کی سچے دل سے وفاداری اَور اطاعت کروں گا اَور پاکستانی فوج میں ایمانداری اَور وفا شعاری کے ساتھ خدمت بجا لانے کو اپنا فرض سمجھوں گا۔ خشکی، ہوا یا سمندر کے راستے جہاں بھی جانے کا حکم ملے اَور جسے بھی میرا افسر مقرر کیا جائے گا، اُس کے تمام احکامات بجا لاؤں گا اَور اطاعت کروں گا، خواہ اِس میں مجھے جان ہی کا خطرہ لاحق کیوں نہ ہو جائے۔‘‘

اِس حلف کی رُو سے پاکستان کے دستور کی حفاظت آپ پر لازم ہے۔ اگر آپ نے کمیشن 1958ء سے پہلے حاصل کیا تھا، تو پھر دو بار اَور اگر1958ء کے بعد حاصل کیا تھا، تو پھر ایک بار آپ کے سامنے دستور کو روند ڈالا گیا۔براہِ کرم، مجھے بتایے، آپ نے اپنی قسم کی لاج رکھنے کے لیے کیا کِیا؟ جب طالع آزما ہماری آئینی اَور دستوری امنگوں سے کھیل رہے تھے، اُس وقت آپ کہاں تھے؟شواہد سے یہی پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اپنے حلف کو پورا کرنے کے لیے کچھ بھی نہ کیا۔ اگر یہ صحیح ہے، تو پھر ارشاد فرمایے کہ مَیں آپ کو جج کیسے مان لوں؟

ایک ایسا شخص جو اپنی قسم کو نباہ نہ سکے، ذمہ داری کے منصب کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کو تاریخِ اسلام پڑھائی گئی ہو، تو آپ کی نظر سے یہ واقعہ بھی گزرا ہو گا کہ حضرت عمر فاروقؓ کے آخری لمحات میں کسی نے اُن کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ وہ اپنے بیٹے عبداللہؓ کو اپنا جانشین مقرر کر جائیں۔ حضرت عمرؓ نے اِس تجویزکو رد کرتے ہوئے جو دلائل دیے، اُن میں ایک دلیل یہ بھی تھی:’’جسے اپنی بیوی کو طلاق دینی نہیں آتی، مَیں اُسے مسلمانوں کے امور کا فیصلہ کرنے والا کیسے بنا جاؤں؟‘‘ (یاد رہے جناب عبداللہؓ سے اپنی بیوی کو طلاق دیتے وقت ایک تکنیکی غلطی سرزد ہو گئی تھی)۔ اِس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام ذمہ داری کے مناصب پر فائز ہونے والوں اَور امور کا فیصلہ کرنے والوں کے لیے کِس طرح کی صفات ضروری قرار دیتا ہے۔آپ ہی بتائیں جو شخص اپنے حلف کا پاس نہ کر سکے، مَیں امور کا فیصلہ کرنے کا اختیار اُسے کیسے سونپ دوں؟مزید یہ کہ1962ء کے دستور کے تحت صدر اقتدار سپیکر ہی کو منتقل کرنے کا مجاز تھا، لیکن غیر آئینی طریقے سے اُس نے بری فوج کے کمانڈر اِن چیف کو اقتدار منتقل کر دیا، جیسے یہ مُلک اُس کی جاگیر اور یہاں کے کروڑوں باشندے اُس کے نجی ملازم تھے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں مارشل لا کے نفاذ کی کوئی قانونی اور آئینی بنیاد موجود نہیں، اِس لیے مَیں مارشل لا اَور اِس کے کسی بھی ضابطے کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ موجودہ مارشل لاء کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ1969ء میں اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے نے دسمبر 1971ء میں وراثت کے طور پر اِس مُلک کا نظم و نسق ایک ایسے شخص کو سونپ دیا جو مسلح افواج کا نمائندہ نہیں۔ عوام نے اُسے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے منتخب کیا تھا۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنا اُس کے ذمے تھا، لیکن وہ مُلک کی تقدیر کو پارہ پارہ کر دینے والے غدار کا جانشین بن بیٹھا۔ یوں تو یہ سب طریقِ کار ایک ڈھونگ اور یہ انتقالِ اقتدار سرا سر غیر قانونی ہے، لیکن اِس وقت خاص طور پر مارشل لا کی یہ انوکھی اور نرالی قسم بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر(جسے مَیں نام نہاد کہوں گا) اور دوسرے چار چھوٹے ایڈمنسٹریٹر، سب سویلین ہیں۔ یہ حضرات کسی طرح بھی اِن عہدوں کو سنبھال نہیں سکتے۔ یقین نہ آئے، تو بری، بحری اَور فضائی افواج کے سربراہوں کو بُلا کر اُن سے پوچھ لیجئے۔

اُن وجوہ کی بنیاد پر مجھے کہنے دیجئے کہ مَیں نے اگر کوئی جرم کیا ہے، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت عام قانونی(اور کھلی) عدالت میں مجھ پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ اختیار کیا جانے والا ہر راستہ ملکی قانون کی توہین کے مترادف ہے اور مَیں اِس توہین کا مرتکب نہیں ہو سکتا، اِسی وجہ سے مَیں آپ کو جج تسلیم کرنے اور آپ کے سامنے کسی قسم کی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہوں۔آپ اِس بات کو نظر انداز نہ کیجئے کہ آپ کا اصل فریضہ سرحدوں کی حفاظت ہے۔ بدقسمتی سے اِس وقت آپ کے ہاتھ سے تلوار چھین کر ایک قلم پکڑا دیا گیا ہے جو اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ لکھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا۔ آپ کے اختیارات کا اندازہ اِسی بات سے ہو جاتا ہے کہ اِس ’عدالت‘(جسے مَیں نام نہاد ہی سمجھتا ہوں) کی کارروائی کا آغاز ہونے سے پہلے ہی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (مَیں اُن کو بھی نام نہاد سمجھتا اَور کہتا ہوں) نے ہمیں مجرم قراردے ڈالا ہے۔ اِس ضمن میں اُن کا ایک بیان اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ آپ فوجی ہونے کی حیثیت سے مثالی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہوئے اپنے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی بات جھٹلانے کی جسارت کر سکتے ہیں۔مَیں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ وقتی مصلحتوں اور عہدوں کی خاطر اپنے تاریخ ساز کردار کو مسمار نہ کیجئے۔ اُٹھیے اور اپنے اصل فرض کی ادائیگی کے لیے ڈٹ جایے۔ یہ مصنوعی اور غیر معقول ذمہ داریاں ادا کرنے سے اُسی طرح انکار کر دیجئے، جس طرح مَیں نے حکومت کے اشارے پر چلنے اور لکھنے سے انکار کیا ہے اور جس کی پاداش میں مَیں آج یہاں کھڑا ہوں۔

جنابِ والا! انصاف مسلح افواج کی ذمہ داری نہیں، یہ عدلیہ کے افراد ہی کر سکتے ہیں۔ صحیح کام کے لیے صحیح آدمی اور صحیح ادارے کا انتخاب بھی صحت مند معاشرے میں ضروری ہے۔ یقین کیجئے اگر جناب جنرل ٹکا خاں کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور جناب حمود الرحمن کو پاکستان کی بری فوج کا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا جائے، تو دونوں ہی کا نظم تہ و بالا ہو جائے گا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ اِس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ پر فوج کا تسلط قومی خود کشی کے مترادف ہے۔ اگر بچے کھچے پاکستان کو بھی توڑ ڈالنے کا فیصلہ نہیں کر لیا گیا، تو پھر میری اِن گزارشات پر غور کیجئے اور عمل بھی، لیکن اگر آپ اِن گزارشات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں اور اِس کے باوجود جنگل کے قانون(مارشل لا) کے تحت اپنے آپ کو جج کی حیثیت سے منوانے اور مقدمہ سننے پر مصر ہیں، تو پھر مَیں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسی صورت میں مَیں آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں۔ براہِ کرم یہ بیان مثل میں شامل کر کے مجھے رسید دے دیں، تاکہ آپ مجھے سزا سنانے کی جسارت کا ارتکاب کر بیٹھیں، تو میرے پاس اِس امر کا ثبوت موجود رہے کہ مَیں نے آپ پر قانونی پوزیشن واضح کر دی تھی۔پھر سن لیجئے:آپ نے اپنے حلف کا پاس نہ کیا، تو آپ پاکستان کے آئین سے بے وفائی کے مجرم ہوں گے۔

آخر میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے براہِ راست مخاطب آپ ہی ہیں، لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ اِس وقت ایک اصول زیر بحث ہے، جنگل کے قانون (مارشل لا) کے ’جواز‘ پر بات ہو رہی ہے اور بدقسمتی سے آپ کو اِس کا نمائندہ بنا دیا گیا ہے۔ اِس وجہ سے مجھے یہ طرزِ تخاطب اختیار کرنا پڑا ہے۔ آپ اِسے اپنے آپ پر ہی لیں گے، تو اِس سے مجھے صدمہ ہو گا۔مارشل لا مردہ باد! پاکستان زندہ باد!

دستخط: مجیب الرحمن شامی، مدیر ہفت روزہ’’زندگی‘‘ لاہور،مورخہ10اپریل1972ء

مزید :

کالم -