ٹرمپ ہیلری سے پندرہ پوائنٹ پیچھے رہنے کے بعد پینترے بدلنے میں مصروف

ٹرمپ ہیلری سے پندرہ پوائنٹ پیچھے رہنے کے بعد پینترے بدلنے میں مصروف

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی جائزوں میں اپنی حریف ڈیمو کریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن سے پندرہ پوائنٹ پیچھے رہنے کے بعد مسلسل پینترے بدلنے میں مصروف ہے۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ان پارٹی امیدواروں کے چناؤ کیلئے آئندہ ہفتے پرائمری انتخابات ہو رہے ہیں جن کا اصل انتخاب بھی 8 نومبر کو صدارتی انتخاب کے ساتھ ہی ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست وسکولسنن کے شہر گرین بے میں اپنی ایک انتخابی ریلی میں ایک بار پھر اپنے بیانات بدل کر مبصرین کو چکرا دیا ہے۔ قبل ازیں وہ غیر قانونی تارکین وطن اور مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور ان پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اب اپنے تازہ بیان میں انہوں نے قانونی تارکین وطن کو بھی نہیں بخشا جو ان کے مطابق امریکہ کیلئے سکیورٹی خطرات پیدا کرنے کا باعث ہوسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان ممالک سیلوگوں کو آنے کا موقع دے رہے ہیں جہاں دہشت گردی عام ہیجن میں اگر دہشت گرد گھسے ہوں تو انہیں تلاش کرکے الگ کرنا بہت مشکل ہے۔ ٹرمپ اس وقت اپنی انتخابی مہم جہاں چلا رہے ہیں وہ سپیکر پال رائن کی ریاست ہے۔ پہلے پال رائن نے ٹرمپ کی توثیق کرنے سے انکار کردیا تھا اور ٹرمپ نے ایوان نمائندگان کی رکنیت کیلئے منگل کو پال رائن کے پرائمری انتخابات کیلئے اب توثیق کردی ہے جہاں پہلے ہی پال رائن کو نامزدگی ملنے کا واضح امکان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خلاف معمول ایک دن میں کم از کم دو مرتبہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی ہے۔ پہلے انہوں نے اوبامہ انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ ایران کو 40 کروڑ ڈالر کے فند کی ادائیگی دراصل امریکی قیدی کی رہائی کا تاوان ہے۔ اب انہوں نے اس پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی غلطی تھی اور اب انہیں اصل صورتحال کا پتہ چلا ہے۔ دوسری تبدیلی انہوں نے یہ کی ہے کہ اپنے پہلے مؤقف کے برعکس انہوں نے اب سپیکر پال رائن اوردو سینیٹر جان مکین اور کیلی ایوٹ کی توثیق کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انہیں خصوصاً سفید فام قدامت پسندوں کی واضح تعداد کی حمایت ضرور حاصل ہے لیکن پارٹی کے اندر اور باہر ان کی عدم مقبولیت ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اس نقصان کے ازالے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -