نواز شریف کا بھارتی فوج کے تشدد سے زخمی کشمیریوں کا علاج کرانے کا اعلان

نواز شریف کا بھارتی فوج کے تشدد سے زخمی کشمیریوں کا علاج کرانے کا اعلان

  

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف نے بجلی کے منصوبوں کی بر وقت تکمیل کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ وہ ہر 15 روز بعد منصوبوں کا خود جائزہ لیں گے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا،بجلی کی پیداوار میں اضافے سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا جس سے معیشت ترقی کریگی۔ترجمان وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت توانائی منصوبوں کاجائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف، وفاقی برائے پانی و بجلی خواجہ آصف ،وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان سمیت ،سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں سیکرٹری پانی و بجلی نے وزیر اعظم کو توانائی منصوبوں کی تکمیل اور رفتار سے متعلق تفصیلی آگاہ کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ توانائی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے خود سائٹ کا دورہ کروں گااور 15روز کی بنیاد پر منصوبوں کا خودنگرانی کروں گا، کیونکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل سے پاکستان میں ہمیشہ کیلئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا،بجلی کی پیداوار میں اضافے سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا جس سے معیشت ترقی کریگی۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2016میں بجلی کی پیداوار گزشتہ 10سال کے مقابلے میں بہتری رہی،منصوبے 2017کے وسط اور مارچ 2018تک مکمل ہونگے،منصوبوں میں گدو پاور ،نندی پور پاور پلانٹ کی گیس پر منتقلی شامل ہے۔سیکرٹری پانی و بجلی نے مزید بتایا کہ ایل این جی پلانٹ سے 2400میگاواٹ بجلی ملے گی،گڈو پاور سے 400،نندی پور سے 125میگاواٹ بجلی ملے گی۔منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ 1350میگاواٹ کے پنجاب اور ساہیوال میں 3ایل این جی منصوبے مکمل ہونگے،1320میگاواٹ پورٹ قاسم پاور پلانٹ اپنی مدت میں مکمل ہو گا،650میگاواٹ کے دو جوہری پاور پلانٹ 950میگاواٹ کا نیلم جہلم منصوبہ بھی شامل ہے جبکہ 1500میگاواٹ تربیلہ کے 4توسیعی منصوبے بھی مکمل ہونگے ،تاہم منصوبوں سے 2018کے وسط میں قومی گرڈ میں اضافی بجلی یقینی ہو گی۔

اسلام آباد ، سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زخمیوں کی مدد کرنا چاہتا ہے عالمی برادری سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پاکستان کو طبی امداد فراہم کرنے کیلئے مجبور کررہے ہیں۔ بھارت میں ریاستی آپریشن کے ذریعے کشمیر میں نہتے شہریوں کو چھلنی کیا جارہا ہے جبکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی ،بھارتی فورسز طبی امداد فراہم کرنے والے ہسپتالوں اور ایمبولینسز کو بھی نشانہ رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی تعداد 70 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد شہری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ بھارتی جبر کا شکار کشمیری شہریوں کی مدد کیلئے پاکستان امداد کرنا چاہتا ہے عالمی برادری سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔وزیر اعظم نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ پیلٹ گن کا شکار کشمیریوں کے علاج کا انتظام کیا جائے جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر آگاہی فراہم کی جائے۔دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنوں کا استعمال بند کیا جائے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کاکہناتھا کہ پیلٹ گنوں کا استعمال نامناسب اور بلا جواز ہے ،امن وامان کے قیام کیلئے اس مہلک ہتھیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی پیلٹ گنوں سے سینکڑوں کشمیری نابینا ہو چکے ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -