رواں سال امریکہ نے آٹھ ہزار شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہا

رواں سال امریکہ نے آٹھ ہزار شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) اوبامہ انتظامیہ موجودہ مالی سال کے دوران پہلے ہی آٹھ ہزار شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہہ چکی ہے اور ستمبر تک مزید دو ہزار کی آمد متوقع ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری اینی رچرڈ نے آج یہاں ایک کانفرنس کال میں میڈیا کو بتایا کہ امریکی حکومت اپنے وعدے کے مطابق اس سال 10 ہزار شامی مہاجرین کو قبول کرنے کا ہدف پورا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آغاز میں شامی مہاجرین کی آمد کی رفتار سکریننگ کے عمل کے باعث سستی رہی کیونکہ ایسے افراد کو روکنا مقصود تھا جن کا کسی دہشت گرد تنظیم یا بشار الاسد حکومت سے ہو۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ری پبلکن لیڈر شامی مہاجرین کی امریکہ آمد سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ حال ہی میں ایک فرانسیسی پادری کی ہلاکت اور جرمن میوزک فیسٹول میں بمبار حملے کا تعلق بھی مہاجرین سے نکلتا نظر آیا ہے جو مہاجروں کے سبب پیدا ہونے والے خطرات کا ایک ثبوت ہے۔ تاہم اس تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے اوبامہ انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ 12 سے 18 ماہ تک سکریننگ کا عمل بہت موثر ہے جس کے بعد ایسے شامی مہاجروں کو قبول کرنے میں ترجیح دی جائے گی جو خواتین اور بچوں پر مشتمل ہوں گے اور انہیں شام میں جان کا زیادہ خطرہ ہو یا پھر ایسی شدید طبی امداد کی ضرورت ہو۔

مزید :

صفحہ آخر -