کانگو بخار جان لیوا ہے جو مویشیوں میں موجود چیچڑ کی وجہ سے لگتا ہے :لیاقت مین

کانگو بخار جان لیوا ہے جو مویشیوں میں موجود چیچڑ کی وجہ سے لگتا ہے :لیاقت مین

  

پشاور( پاکستان نیوز)کانگو بخار جان لیوا بخار ہے جو مویشیوں کی جلد میں موجود ٹکس(چیچڑ) کی وجہ سے لگتا ہے اگر یہ ٹکس کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے ’’کریمین کانگو ہیمرجک فیور ‘‘ ایسا بخار ہے جس کے جراثیم ایک متاثرہ شخص سے دوسرے صحت مند شخص کو فوری طور پر لگ جاتے ہیں ۔ یہ ایک متعدی بیماری ہے جس میں شرح اموات بہت زیادہ ہے ۔ اس بخار کا سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو لائیو سٹاک ، زراعت اور ذبیحہ خانوں سے منسلک ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں میں یہ بخار عام افراد کی نسبت زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔ کانگو بخار ایک انسان سے دوسرے انسان کے خون ، اعضاء ، رطوبت اور جسمانی تعلقات سے پھیلتا ہے جبکہ طبی عملے میں حفاظتی لباس نہ پہننے سے متاثرہ شخص کا علاج کرتے ہوئے یہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ متاثرہ مریض کے لئے استعمال کئے گئے طبی آلات بھی اگر کسی اور شخص کے لئے استعمال کئے جائیں تو وہ بھی اس کا شکار ہو جائے گا ۔اس بخار کی ابتدائی علامات کچھ یوں ہیں ، اگر ٹکس کاٹ جائیں تو تین سے نودن کے درمیان بخار چڑھنا شروع ہوجاتا ہے ، پٹھوں میں درد ، تھکاوٹ ، گردن میں درد /کڑانو ، آنکھوں کا سرخ ہو جانا اور ا ن میں درد ہونا ، دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا ، جلد پر سرخ دھبے پڑ جانا شامل ہیں اگر فوری علاج پر توجہ نہ دی جائے تو جگر اور تلی بڑھ جاتی ہے ، ناک ، کان ، آنکھوں اور مسوڑوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔اگر بروقت علاج شروع ہو جائے تو صحت یابی ممکن ہے ، علاج میں دیر ہو جائے تو زیادہ تر کیسز میں ویکسین دستیاب نہیں اس لئے احتیاط سے ہی اس بخار پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔طبی عملہ بھی ہیمرجک فیور کے مریض کا علا ج کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر دستانے پہنے ، منہ کو ڈھانپے، خصوصی جوتے پہنے اور آلات جراحی استعمال کرتے ہوئے یہ حفاظت یقینی بنائیں تاکہ انہیں یہ آلات ہرگز نہ چبھیں او رنہ ہی کسی اور پر استعمال ہوں اس کے ساتھ ساتھ مریض کو آئسولین وارڈ میں رکھا جائے اور دیگر مریضوں اور افراد کا داخلہ وہاں ممنوع قرار دیا جائے ، مریض کے زیر استعمال چادریں ، تولیہ اور دیگر اشیاء کو تلف کر دیا جائے ۔ اس کے ساتھ مریض کے لواحقین بھی ماسک اور دستانے پہن کر اس کی تیمارداری کریں ، اس کے خون اور یااور مواد کو ہاتھ نہ لگائیں ۔ مریض کی وہ اشیاء جو جراثیم آلود ہو جائیں ان کو تلف کردیں اس کے بعد پورے گھر میں جراثیم کش اسپرے بھی کروائیں ۔ پاکستا ن میں عید الاضحی کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد مویشی خریدنے کے لئے بازاروں کا رخ کرتے ہیں اس لئے اس مرض کے پھیلنے کا خدشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔ خریداری کرتے ہوئے اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے پورے آستین والی قمیص پہنیں ، ہاتھوں پر دستانے پہنیں ، منہ کو ماسک سے ڈھانپ لیں ، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں ۔ اگر کوئی چیچڑ کپڑوں پر چپک جائے ، جوتوں کے ساتھ جرابیں پہن لیں ، ہاتھ جراثیم کش صابن سے دھولیں ، جانور کو باندھنے والی جگہ پر چونے کا چھڑکاؤ کریں ۔ مویشیوں کا کاروبار کرنیو الے اپنے جانور رکھنے کی جگہ پر اسپرے کروائیں ، جانوروں کے ڈاکٹر سے معائنہ کریں ، کسی جانور پر ٹکس نظر آئے تو اس کو فوری طور پر الگ کردیں ورنہ باقی جانور بھی بیمار ہو جائیں گے ۔ اس ضمن میں انتظامیہ محکمہ لائیو سٹاک اور وٹس معاون ثابت ہو سکتے ہیں ا ن سے مکمل آگاہی کے بعد جانوروں کے بیوپاری احتیاطی تدابیر یقینی بنا سکتے ہیں ۔ قربانی کا جانور لینے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کہیں جانور بیمار تونہیں یا اس کی جلد پر ٹکس تو نہیں چپکی ہوئی ہے جس وقت قربانی ہو تو اس جانور کے خون او رآلائشوں کو ہر گز ہاتھ نہ لگائیں منہ بھی احتیاط کے طور ڈھانپ لیا کریں ، جانور ذبح کرنے کے بعد آدھا گھنٹہ انتظار کریں تاکہ جانور سے خون نکل جائے ، پھر کھال اتاردیں اور گوشت بنائیں ، خون ہر گز اپنے جسم اور منہ پر نہ لگنے دیں ۔ قربانی سے فارغ ہو کر نہائیں اور صاف کپڑے پہنیں ۔ مویشیوں کی آلائش کو آبادی اور سڑکوں پر نہ پھینکیں ۔ انہیں محکمہ صحت کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق تلف کریں ، گوشت کو اچھی طرح پکاکر کھائیں ۔ اگر کسی شخص میں کانگو فیور کی علامات دیکھیں تو اس کو فوری طور ہسپتال لیجائیں ۔ بروقت علاج سے بہت سے جانیں بچ سکتی ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -