دنیا سے باہر ایک ستارے پر پراسرار حرکت دیکھ کر سائنسدان بھی چکرا گئے

دنیا سے باہر ایک ستارے پر پراسرار حرکت دیکھ کر سائنسدان بھی چکرا گئے
دنیا سے باہر ایک ستارے پر پراسرار حرکت دیکھ کر سائنسدان بھی چکرا گئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہماری زمین سے 1480نوری سال کے فاصلے پر ہماری ہی کہکشاں کا ایک ستارہ ہے جسے کے آئی سی 8462852 کا نام دیا گیا ہے۔ کئی سال قبل اس سیارے کی روشنی میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں جس پر خلائی مخلوق کی موجودگی کے دعویداروں نے اس ستارے پر خلائی مخلوق کے موجود ہونے کا دعویٰ کر دیا اور کہا کہ وہ اس ستارے پر تعمیرات کر رہے ہیں جس کے باعث اس کی تہہ ان کی بنائی ہوئی تعمیرات میں چھپتی جا رہی ہے اور اس کی روشنی ماند پڑتی جا رہی ہے۔ بہت عرصہ تک سائنسدان اس مفروضے کو مسترد کرتے رہے تاہم انہوں نے بھی اس ستارے پر کسی پراسرار وجود کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ناسا کی کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ(Kepler Space Telescope)نے اس ستارے کے مدار میں چار سال گزارے ہیں۔ اس دوران سائنسدان اس کی روشنی میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔ اب ان سائنسدانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس کی روشنی میں حیران کن تیزی کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی کرنے والے کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں بین مونٹنٹ اور جوشوا سائمن کا کہنا ہے کہ ”ہم طویل عرصے سے اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ یہ سب کچھ حقیقی نہیں ہے تاہم ہم اس میں ناکام ہو چکے ہیں۔“ ان سائنسدانوں نے کے آئی سی 8462852

اور اس کے قریب واقع193ستاروں اور دوسری کہکشاﺅں میں موجود اس سے مشابہت رکھنے والے 255ستاروں کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مشابہت رکھنے والے دوسری کہکشاﺅں کے ستاروں میں ایسی تبدیلیاں رونما نہیں ہو رہی جو کے آئی سی 8462852 میں ہو رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ستارے پر کوئی پراسرار کام ضرور ہو رہا ہے۔اس کی پراسراریت کو دیکھ کر یہ یقین نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس پر خلائی مخلوق موجود ہے تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس ستارے پر کوئی بالکل نیا خلائی عمل وقوع پذیرہو رہا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -