پاکستان نے مخصوص دہشت گردوں کو ہدف بنانے سے متعلق امریکی حکام کا بیان مسترد کر دیا

پاکستان نے مخصوص دہشت گردوں کو ہدف بنانے سے متعلق امریکی حکام کا بیان مسترد ...
پاکستان نے مخصوص دہشت گردوں کو ہدف بنانے سے متعلق امریکی حکام کا بیان مسترد کر دیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان نے امریکی نائب ترجمان کی طرف سے تنقیدی بیان کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف محدود کارروائی کر رہا ہے اور ان کا تعاقب نہیں کرتا جو اس کے ہمسائیوں کے لئے خطرہ ہیں کو حقائق سے منافی اور اپنے ہی بیانات کی نفی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے رد عمل میں کہا کہ پاکستان نے امریکی نائب ترجمان کی طرف سے دیئے گئے بیان پر سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جو ان کے اپنے ہی بیان کی نفی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی پر تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے مرحلہ وار طریقہ سے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ کلمات یاد دلاتے ہوئے امریکی نائب ترجمان کے زمینی حقائق سے متعلق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اپنے حالیہ دورہ کے دوران سینیٹر جان مکین اور دیگر سینٹرز اور کانگریس کے اراکین نے متفقہ طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی طرف سے قابل ذکر کامیابیوں کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے میرم شاہ کا دورہ کیا اور ذاتی طور پر زمینی صورتحال کو دیکھا اور اپنی واپسی پر پاکستان میں اپنے تجربات کے حوالے سے آرٹیکل بھی تحریر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ ہمسایوں سے زیادہ پاکستان کو دہشتگردوں سے تشویش ہے۔ ہمسایہ ملک کے ایک حاضر سروس افسر کی گرفتاری اور پاکستان میں دہشتگردوں کی معاونت اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سرعام اقبال کے بعد حیران کن طور پر امریکہ کی طرف سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی نائب ترجمان کو فروری 2013ء کا چوک ہیگل کا بیان بھی یاد دلانا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا ہمسایہ کسی دوسرے ہمسائے کی سرزمین پاکستان میں عدم استحکام ، مالی معاونت کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ جنرل میک کرسٹل نے 2009ء کی رپورٹ میں پاکستان کے ایک ہمسائے کی ایک اور ہمسایہ ملک کی مدد سے دہشت گردی کے لئے سرگرمیوں کا ذکر کیا اور کہا تھا کہ وہ پاکستان اور خطہ کو عدم استحکام سے دو چار کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی اور 60 ہزار بے گناہ شہریوں کے جانی نقصانات اور اربوں ڈالر کے مالی نقصانات کے پیچھے کارفرما حقائق اب واضح ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے والے نہتے کشمیریوں کے ساتھ ہمسایہ ملک کی افواج کے غیر انسانی رویے کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی نائب ترجمان کے کلمات حقائق کے منافی ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -