یہ کیا ہو رہا ہے؟

یہ کیا ہو رہا ہے؟
 یہ کیا ہو رہا ہے؟

  

سابق وزیر اعظم نوازشریف کے عدالت عظمیٰ سے نااہل قرار پانے اور شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے ساتھ ہی ملک میں طویل عرصے سے جاری مائنس ون فارمولے کی بحث اپنے انجام کو پہنچ گئی جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مقبول عام قائدین اب اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل ہوکر پس پردہ اپنا سیاسی کردار ادا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، وہ اب خود کنگ کی بجائے کنگ میکر بن گئے ہیں یہ صورتحال اتفاقی ہے سیاستدانوں کی سیاسی غلطیوں کا شاخسانہ یا پھر کسی خاص منصوبے کا نتیجہ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس وقت وطن عزیز کی سیاست میں کوئی بھی پاپولر لیڈر براہ راست اقتدار کے ایوان میں موجود نہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ انتخابی سیاست کے لئے بھی تاحیات نااہل قرار دے دیاہے ، جس کے بعد پارلیمنٹ نے انہی کے ایک وزیر شاہد خاقان عباسی کو ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کر لیا ہے، اس سے قبل بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اپنی مقبول ترین لیڈر سے محروم ہوگئی، جس کی قیادت بعد ازاں ان کے شوہر آصف علی زرداری کے پاس آگئی اگرچہ وہ صدر مملکت بن گئے تاہم وزارت عظمیٰ کے لئے پیپلزپارٹی کو یوسف رضاگیلانی کا انتخاب کرنا پڑا اس طرح پیپلزپارٹی برسراقتدار تو آگئی لیکن اقتدار کے ایوانوں میں کوئی بھٹو نہیں تھا۔ آج بھی سندھ میں اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود سندھ میں وزیراعلیٰ بھٹو خاندان کی بجائے قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ بنائے گئے، آئندہ الیکشن کے لئے اگرچہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو پیپلزپارٹی کی امیدوں کا مرکز ہیں، لیکن پیپلزپارٹی میں ایک فیصلہ ساز کردار کے حامل ہونے کی وجہ سے آصف علی زرداری مائنس ہونے کے خطرات سے دوچار ہیں ۔

ان کے مقتدر حلقوں سے تعلقات گرم سرد رہتے ہیں، کبھی وہ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے انہیں ہمہ وقت بورڈنگ کارڈ اپنی جیب میں تیار رکھنا پڑتا ہے۔ اب بھی وہ نواز شریف کی نا اہلی سے پہلے ہی بیرون ملک چلے گئے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔ ان کی اگلے انتخابات میں شرکت ابھی تک سیاسی حلقوں میں ایک سوالیہ نشان ہے ملک کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان ابھی تک خود براہ راست اقتدار میں نہیں آئے،انہوں نے ابھی اس پھل کا ذائقہ چکھا بھی نہیں کہ عدالتوں میں کیسز کی وجہ سے نا اہلی کی تلوار ان کے سر پر بھی لٹک رہی او ر خطرہ کہ ان کی پارٹی بھی کہیں مائنس ون نہ ہوجائے پارلیمنٹ کی چوتھی بڑی سیاسی قوت ایم کیو ایم بھی اپنی بانی قیادت سے محروم ہوچکی ہے، اور اردو بولنے والوں کی یہ بڑی سیاسی جماعت اس وقت چار دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم حقیقی اور اب پاک سرزمین پارٹی، سبھی اردو بولنے والوں کے اصلی اور سچل نمائندہونے کا دعویٰ کرتے ہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بعض پارلیمانی جماعتوں کی قیادت نے خود ہی اپنے لئے بادشاہ گر کا کردار منتخب کر لیا ۔ جن میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے والد مولانا مفتی محمود کے برعکس خود وزیر اعلیٰ بننے کی بجائے اپنی معتمد اکرم درانی کو 2002ء میں خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ بنوایا ، اس کے بعد پیپلزپارٹی اور اب نواز دور حکومت میں بھی بجائے وہ خود وزیر بننے کے اپنی پارٹی کے لوگوں کو وزارت دلواتے ہیں اے این پی میں بھی اسفند یار ولی نے خود کو پارٹی رہبر بنا لیا ہے اور وہ وزارتیں اپنے ارکان میں بانٹ دیتے ہیں۔ بلوچستان کی بڑی سیاسی قوت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے بھائی ریٹائرڈ بیوروکریٹ محمد خان اچکزئی کو گورنر بنوادیا ، بلوچستان حکومت میں اپنے لوگوں کو وزارتیں دلوا دیں۔

یہ تو ایک جائزہ ہے اس وقت پاکستان کی سیاسی بساط کا۔ جس میں مرکزی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتیں خاص طور پر مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ، مستقبل میں اپنی ٹاپ لیڈر شب کے بغیر ہی عملی سیاست میں نظر آئیں گی۔ یہ وہ منظرنامہ ہے جو مقتدر قوتوں کی طویل عرصے سے حسرت تھی۔ یہ خواہش 1999ء میں بھی تقریبا پوری ہو گئی تھی جب بینظیر بھٹو اور نواز شریف جلا وطن ہوگئے تھے اور جنرل پرویز مشرف آٹھ سال تک بلاشرکت غیر اقتدار پر برا جان رہے۔ اس عرصے میں کون کون سے اہم واقعات ہوئے، اور ان میں پاکستان کا کیا کردار رہا؟ آج کے حالات کی 1999ء سے اس حد تک بڑی مماثلت نظر آتی ہے کہ سیاسی لیڈر شپ ایک بار پھر پارلیمانی سیاست سے آؤٹ ہو چکی ہے یا کی جا چکی ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا وطن عزیز میں پھر کوئی غیر سیاسی سیٹ اپ لانے کی کوشش تو نہیں کی جارہی۔ تاہم 2017 ء اور 1999ء اس لحاظ سے مختلف ضرور ہیں کہ اس وقت بھٹو اور شریف پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں سے تو مائنس ہو گئے لیکن ملکی سیاست سے ان کے مائنس ہونے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا ، کیونکہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں اور مرکز کی کا بینہ اب بھی رائے ونڈ میں اور سندھ کی بلاول ہاؤس میں ہی بنتی ٹوٹتی رہیں گی۔ اگر تو یہ مائنس ون اتفاقی نہیں اور کسی ایجنڈے کا حصہ ہے تو پھر ایجنڈے والوں کو ابھی اور بہت محنت درکار ہے۔

مزید :

کالم -