میثاق حاکمیت کی ضرورت

میثاق حاکمیت کی ضرورت
 میثاق حاکمیت کی ضرورت

  

سفاک شب کی کیفیت جتنی تندو تیز ہوتی ہے،سحر کا خمار بھی اتنا ہی سخت ہوا کئے۔رات کی سیاہ مستیوں کے بعد اگر نواز شریف کو صبح خمار کی تلخ کامیوں سے ہی پالا پڑنا تھاتو جی کی حسر ت تو نکال لی ہوتی۔اپنی گفتگو میں انہوں نے نپے تلے پیمانے کی جگہ جام کے جام لنڈھا دیئے ہوتے۔پر نہیں کہ حسرت کی دنیا دوسری رہی اور مصیبت کا فلک بھی اک حقیقت ٹھہرا۔سیاست کی کم مائیگی اور پارلیمان کی تہی دامنی کہ اس کے پاس 12صفحاتی دستور کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ۔’’طاقت ‘‘ اور ’’مساوات‘‘کے پاس بڑے بڑے جن ،جادوگر اور سامری ہیں جو چٹکی بجاتے ہی مشکلیںآساں کیا کئے۔کہا جاتا ہے شبِ نکبت کتنی ہی طوالت رکھتی ہو،آخر کار اس کے پیٹ سے سپیدہ سحر پھوٹ کے رہتا ہے۔مٹھی بھر نہتے لوگ بھی اگر کسی مہم پر صدق دلی سے سر بکف ہو جائیں،خواہ وہ فوری کامیاب ہوں نہ ہوں مگر مستقبل کی کامیابی کی بنیاد تورکھ ہی دیتے ہیں۔

بے نظیر بھٹواورنواز شریف کو جلا وطنی جھیلنے کے دوران ادراک ہوا کہ میثا ق جمہوریت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد اب میثاق حاکمیت کی ضرورت آن پڑی ہے کہ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔پی پی کی پچھلی حکومت نے تمام تر مخالفتوں ،مزاحمتوں اوررکاوٹوں کے باوجود اپنی آئینی مدت تمام کی۔اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو کہ اس کے پیچھے میثا ق جمہوریت کے نقش پا کا سراغ ملتا ہے۔یہ الگ بات کہ بیچوں بیچ ناہموار موڑ،اجاڑ رستے اور ویران دن بھی آئے۔تسلیم و تائید کہ میمو گیٹ میں میاں صاحب کالا کوٹ پہنے سپریم کو رٹ کی چوکھٹ پر جبیں جھکا آئے۔۔۔شاید یہی پہاڑ ایسی غلطی تھی جس کے اثرات آج ان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔سو چا چاہئے اس روزگارِ خراب میں سیاسی زندگانی بِتانے اور پارلیمانی روایات آگے بڑھانے کے لئے آخر مصلحت یا مصالحت کی اتنی حاجت کیوں رہی؟اگر پھڈا بازی اورکشمکش کی آلودگیاں مخل و مانع نہ ہو ں تو شاید پھر کامرانی کا بھی مزا کیا!سیاست دانوں کو ماننا اور جاننا چاہئے کہ پاک سر زمین ایسی عجائب الدھر اورنادرۃ الارض میں سیاسی کھیل کبھی اتنا سہل نہیں رہا۔اس مقتلِ سیاست میں تو وہ کمبخت آئیں جنہوں نے سر شا نوں پر نہیں ہتھیلیوں پر دھرا ہو۔

داغ دہلوی نے کہا تھا اردو آتی ہے آتے آتے او رمغل تاجدار اورنگزیب معنی خیز انداز میں گویا ہوا تھا کہ خوئے سلطانی جاتی ہے جاتے جاتے۔آتے جاتے سمے میں تقسیم سے تاایں دم درون خانہ طاقت مسلسل سیاست کے تعاقب میں رہی ۔جہاں عقل کشف و کرامات کی زد میں ہو تو سیاست سازش کا شکار ہو جائے پھر تحیر کیونکر!خواجہ ناظم الدین،محمد علی بوگرا،چودھری محمد علی،حسین شہید سہروردی،فیروز خان نون، اور محمد خان جونیجو۔۔۔ایسے مجبور محض وزرائے اعظم کا تو خیر مذکور کیا کہ یہاں ذوالفقار علی بھٹو ،بے نظیر اورنواز شریف ایسی قد آور ،رعنا و توانا شخصیتوں کو بھی جادو گروں کے جنتر منترکا سامنا رہا۔پاکستان میں سیاسی و عسکری بالا دستی کی کہانی او رکھینچا تانی بڑی پرانی رہی ۔ایوب خان کی وزارت دفاع میں شمولیت سے حاکمیت کا جو کھیل شروع ہوا ،ہنوز سیاسی صورتحال میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی۔

ایٹمی پالیسی پر تو خیر دفاعی اداروں کا حق فائق گردانا گیا۔خارجہ پالیسی،افغان پالیسی،مسئلہ کشمیر ،پاک بھارت تعلقات ،پاک امریکہ تعلقات اور دفاعی بجٹ پر بھی ناحق مختاری کی مجبوروں پر تہمت دھری رہی۔ایسی صورت میں ملکی طویل المیعاد مفاد کسی میثا ق حاکمیت کا تقاضا نہیں کرتا؟کہا جاتا ہے 1988ء میں سانحہ بہاولپور کے بعد جادوگروں نے انتقال اقتدار کا نہیں ،شراکت اقتدار کا فارمولا طے اور فیصلہ صادر کیا تھا۔میثا ق حاکمیت کی حاجت تو خیر 88ء میں بھی در پیش تھی

کٹھ پتلیوں کے کھلاڑیوں ،جادوگروں اورجنوں کو بھی دیر سویر مانتے بنے گی کہ فروع اصل سے مل کر ،قطرہ قلزم میں رہ کر اور شعاع خورشید سے جڑ کر ہی باقی اور با معنی رہی ہے۔باقی سب افسوں ہے،سحر ہے ،طلسم ہے اور قصہ گو کالم نویسوں کی کہانیاں ہیں۔پاکستانی سیاسی تاریخ میں نواز شریف پہلے آدمی ہیں جن کے دوسرے اور تیسرے عہد میں گاہ گاہ گماں ہوتا رہا کہ دستور ی اور جناتی طاقتوں کا ٹکراؤ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو ا چاہتاہے۔مقام مسرت کہ دونوں جانب سے کبھی آگے بڑھ کر اور کبھی پیچھے ہٹ کر صورتحال کو معمول کی جانب لوٹایا جاتا رہا۔لیکن آخر کب تک؟ہماری قومی اور جمہوری تاریخ میں پارلیمان کبھی چراغ مفلس کی مانند ٹمٹماتی رہی اور ناگاہ نگاہ کو ایسا بھی لگا کہ آئینی تھپیڑوں کے آگے الہ دین کا چراغ بس بجھا چاہتا ہو۔دیکھئے بات کسی ادارے کے اتفاق یا اختلاف کی نہیں کہ آئینی حدود و قیود کا جیومیٹرائی مسئلہ ہے۔بات سیاسی بالا دستی کی ہے تو سہی لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کرآئین کی فرمانروائی مقدم ہے۔بلکہ سب سے آگے بڑھ کر دراصل قضیہ کبریٰ 18کروڑ عوام کے حق حکمرانی کا ہے اور یہ حق نا قابل تنسیخ حق ہے۔نوا ز شریف اپنے تمام تر حسن نیت کے باوجود پاکستانی سیاست کو ایک نئی صبح سے ہنوز ہمکنار نہیں کر پائے۔دوڑ دھوپ ،تگ و تاز ،ہیوی مینڈیٹ ،مواقع اور صدق دلی کے باوجود آخر وہ ناکام کیوں؟اس کا سبب اب اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں سے میثا ق حاکمیت کرنے کا وقت آن پہنچا۔

مزید :

کالم -