اپنی ذات نہیں جمہوریت بچانے کا وقت

اپنی ذات نہیں جمہوریت بچانے کا وقت
 اپنی ذات نہیں جمہوریت بچانے کا وقت

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان کہ ایسے پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ریاست کی رٹ قائم ہو گی اور کوئی قانون سے بالا نہیں ہو گا،کس بات کی غمازی کرتا ہے۔اِس بات پر سب کو اطمینان کا اظہار کرنا چاہئے یا پھر کیڑے نکالنے کی پرانی مشق جاری رکھنی چاہئے؟۔۔۔ریاست کی عملداری قانون اور آئین کی حاکمیت سے قائم ہوتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو جنگل کا معاشرہ ترتیب پاتا ہے۔اگر مُلک کا چیف آف آرمی سٹاف، جس کے پاس براہِ راست ایک طاقت ہوتی ہے،یہ کہے کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں تو پیغام واضح ہے کہ اب مُلک میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔یہ جو لوگ آج کل بڑھ چڑھ کر فوج اور عدلیہ پر حملہ آور ہو رہے ہیں،اُنہیں شاید یہ بات پسند نہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ماضی کی طرح اب بھی قانون اور آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہے تاکہ اُن کا کام بھی چلے اور مُلک میں استحکام بھی پیدا نہ ہو۔سوال یہ ہے کہ ہم لوگ آخر کس ادارے کو مانتے ہیں؟۔۔۔پہلے فوج پر الزامات آتے تھے کہ وہ سول حکومتوں کو چلتا کرتی ہے اور مُلک پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہ روایت ختم ہو گئی ہے تو اب مُلک کی سب سے بڑی عدالت پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ فیصلہ جو بھی ہوا ہے اُسے تسلیم کرنا پڑے گا۔جتنے منہ اُتنی باتیں کے مصداق اگر سپریم کورٹ سے فیصلے کا اختیار لے کر لوگوں کو سونپ دیا جائے تو خانہ جنگی کے سوا اور کیا ہو گا؟۔۔۔فیصلہ صحیح ہے یا غلط، اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا،اس کے لئے آئینی راستے موجود ہیں، اُن راستوں کی بجائے اگر دھونس اور دباؤ کا راستہ اختیار کیا جائے گا تو سوائے تباہی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف جو موقف اختیار کئے ہوئے ہیں،اگر وہ من و عن اس پر قائم رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے وہ مُلک کی سب سے بڑی عدالت کو چیلنج کر رہے ہیں۔وہ ایک آئینی عہدے پر فائز رہے ہیں اور اُن کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مُلک کو انارکی سے بچائیں۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اُن کے سیاسی مخالفین کی یہ بات درست ہو گی کہ وہ پورے سیاسی نظام کی بساط لپیٹ کر ہیرو بننا چاہتے ہیں۔معاف کیجئے اب ہیرو بننے کا وقت نہیں۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں اس سے بھی کم بحران کے نتیجے میں حکومتوں کو چلتا کیا جاتا تھا۔خود اُنہیں دو بار گھر بھیجا گیا۔اب یہ صورتِ حال نہیں۔وہ اگر منظر سے ہٹے ہیں تو نظام کو کچھ نہیں ہوا،اسمبلیاں کام کر رہی ہیں اور حکومت موجود ہے۔جمہوریت اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھ گئی ہے تو اُسے زبردستی دھکا دے کر گرانے کی ضرورت نہیں۔ایک طرف یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے جا رہی ہے اور دوسری طرف عوامی طاقت کے ذریعے اِس فیصلے کو رد کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔یہ تضاد ختم ہونا چاہئے،جو پہیہ آگے چل پڑا ہے،اُسے واپس لانا ممکن نہیں۔اب ہونا وہی ہے جس کی طرف آرمی چیف نے اشارہ کیا ہے کہ مُلک میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔اس حکمرانی کی زد میں چاہے کوئی بھی آئے اُسے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ نواز شریف کے پاس ایک بہت اچھا موقع ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں نا کہ اُس کے مخالف بن جائیں۔۔۔مثلاً آج اگر وہ یہ موقف اپنائیں کہ میرا احتساب ہو رہا ہے تو سب کا ہو،کوئی جرنیل، جج، بیورو کریٹ اور سیاست دان بھی قانون سے بالا نہ سمجھا جائے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو قوم اُن کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی، لیکن اگر وہ یہی کہتے رہے کہ اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،انہیں سازش کا نشانہ بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ نے صحیح فیصلہ نہیں کیا تو وہ ایک ایسے کردار کے طور پر اُبھریں گے،جو سب کچھ ملیا میٹ کر دینا چاہتا ہے،ہم مُلک کی سب سے بڑی عدالت کو بھی نہیں مانتے تو پھر ہمارے آئین،قانون اور نظم و ضبط کا پیمانہ کیا رہ جاتا ہے؟

جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل درست کہا ہے کہ ہمیں ایک نارمل پاکستان کی ضرورت ہے۔ایسا پاکستان جس میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہو۔ تمیز بندہ و آقا میں بٹا ہوا پاکستان ہمارے درد کا درماں ثابت نہیں ہو سکتا۔ کرپشن اور لاقانونیت بھی ایک نارمل پاکستان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ نواز شریف جیسے طاقتور سیاسی رہنما کے خلاف اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، تو یہ ایک بہت بڑی مثال بن گئی ہے۔اب کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں رہ گیا۔اگر ایک بڑی سیاسی جماعت کا حاضر سروس وزیراعظم قانون کی زد میں آ کر نااہل ہو سکتا ہے تو باقی لوگ کون ہیں جو کرپشن بھی کریں اور سزا سے بھی بچے رہیں؟۔۔۔ابھی تو چند روز گزرے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مثال بہت سے طاقتوروں کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گی۔یہ کوئی آمر یا مارشل لاء کے دور کا فیصلہ نہیں،بلکہ جمہوریت میں اور مُلک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ ہے، جو اس کا مضحکہ اُڑا رہے ہیں،وہ نہیں جانتے کہ اِن باتوں سے سپریم کورٹ کے فیصلے تبدیل نہیں ہوا کرتے۔عاصمہ جہانگیر جیسے کرداروں کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے ایسی چالیں نہیں چلنی چاہئیں، جو مُلک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں، اگر وہ اتنا ہی اِس فیصلے کو غلط سمجھتی ہیں تو انہیں اس کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ اِس مُلک کو آگے بڑھنا ہے، ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں نہیں گھوم سکتے۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے،لیکن اس اختلاف کو فیصلہ نہ ماننے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ہماری70سالہ تاریخ بناتی ہے کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کو ہر دور کے حکمرانوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیا ہے،ان میں جمہوری اور آمرانہ دونوں ادوار کے حکمران شامل ہیں۔ مقامِ شُکر ہے کہ ہماری سپریم کورٹ کبھی بے اختیار یا بے اثر نہیں ہوئی۔سو اِس بات کو ایک خوبی کے طور پر لینا چاہئے نا کہ خامی بنا کر پیش کیا جائے۔

نواز شریف ایک مقبول لیڈر ہیں،اس میں کسی کو کوئی شک نہیں۔مرکز اور دو صوبوں میں اُن کی جماعت برسر اقتدار ہے۔پنجاب میں انہیں ہمیشہ بھرپور مینڈیٹ حاصل رہا ہے۔یہ سب مثبت پہلو ہیں،لیکن اگر وہ تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں تو یہ انتہائی خطرناک بات ہو گی۔ پہلے انہوں نے موٹروے کے راستے لاہور آنے کا فیصلہ کیا، جو ایک اچھی بات تھی،کیونکہ اتنا لمبا راستہ ہجوم کے ساتھ رہنا کئی خطرات کو جنم دے سکتا تھا،مگر یہ فیصلہ تبدیل ہوا اور اب وہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور آئیں گے۔سوال یہ ہے کہ وہ اپنا یہ شو آف پاور کس کے خلاف کر رہے ہیں؟۔۔۔ظاہر ہے یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہے اور نہ کسی آمر کے خلاف،کیونکہ مُلک میں تو اُن کی اپنی حکومت ہے۔اگر وہ یہ شو آف پاور سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں کر رہے ہیں تو اس کا اس لئے کوئی فائدہ نہیں کہ ایسے فیصلے مظاہروں سے تبدیل نہیں ہوتے۔اپنی ہی جماعت کی حکومت کے دور میں ایسا عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ میری پیش گوئی ہے کہ نواز شریف کی اسلام آباد سے شروع ہونے والی ریلی رات گئے تک لاہور نہیں پہنچ سکے گی،اتنا طویل راستہ کچھوے کی رفتار سے طے کرنا کسی بھی طرح ایک بڑے سیکیورٹی رسک سے خالی نہیں اور وہ بھی ہزاروں افراد کی معیت میں۔اس سے نواز شریف کی مقبولیت کا تو اظہار ہو جائے گا،مگر خدانخواستہ اِس دوران دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟۔۔۔ظاہر ہے حکومتوں پر جو میاں صاحب کی اپنی ہیں۔چلیں چشمِ تصور سے دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی انتہائی کامیاب رہی،عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے اُن کا جگہ جگہ استقبال کیا، ثابت ہو گیا کہ وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے باوجود نواز شریف کے چاہنے والوں میں کوئی کمی نہیں آئی، تو پھر ہو گا کیا؟۔۔۔یہ کوئی ججوں کی بحالی تحریک والی ریلی تو ہے نہیں کہ راستے ہی میں کال آ جائے گی کہ جج بحال ہو گئے ہیں۔ یہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج کرنے والی ریلی ہے،جس سے قطعاً فیصلہ نہیں بدلے گا،تاوقتیکہ اُس کے لئے کوئی آئینی راستہ اختیار نہ کیا جائے۔اگر تصادم کی صورتِ حال پیدا ہوئی اور معاملہ حد سے بڑھ گیا تو یہ نظام جسے بڑی مشکل سے پاؤں پر کھڑا کیا گیا ہے، کہیں مفلوج ہو کر زمین بوس نہ ہو جائے۔۔۔جمہوریت کو بچانے کی ذمہ داری نواز شریف پر بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے، جتنی کسی اور پر۔ یہ بات اُنہیں ضرور یاد ہو گی،کیونکہ وہ اس کا پرچار کرتے رہے ہیں۔

مزید :

کالم -