پاکستان میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے : ڈاکٹر رائے نیاز

پاکستان میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے : ڈاکٹر رائے نیاز

  

راولپنڈی(اے پی پی) پیر مہرعلی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمدنے کہاہے کہ پاکستان میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے ،ملک میں پانچ سالہ زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کر کے فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ،معیاری خوراک پر توجہ دے کر پاکستان کو دنیا میں خوراک برآمد کرنے والا بڑاملک بنایا جاسکتا ہے ، پانی کا تحفظ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،خطہ پوٹھوہار ملک بھر کی پھلوں اور سبزیوں کی غذا ئی ضروریات پوری کر سکتاہے۔پروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمدنے کہا کہ بڑھتی آبادی اور پانی کی کمیابی کے تناظر میں فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں فوری زرعی ایمرجنسی اشد ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں تمام وسائل اور ٹیلنٹ دستیاب ہے اور فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کا ہدف با آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے ، انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے تاہم پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے ہمیں اپنی درآمدات کو برآمدات میں بدلناہوگا اس مقصد کے حصول کے لیے زرعی یونیورسٹیوں اور زرعی اداروں کو تاریخ ساز کردار ادا کرناہوگا ۔بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کی حکمت عملی پوٹھوہارکے خطے میں اپنا کریہاں ہر قسم کا فروٹ اور سبزی وافر پیدا کی جاسکتی ہے ۔ فروٹ اور سبزیوں کی کاشت کے لیے اٹک کا علاقہ سازگار ہے وہاںیونیورسٹی کا ذیلی کیمپس بننا چاہیے تاکہ ریسرچ کو فروغ ملے ۔وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے اے پی پی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہاکہ پانی کے عالمی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ 2070تک دنیا میں صرف وہی ممالک اپنی بقاء برقرار رکھ پائیں گے جو کہ پانی کی ایک ایک بوند کے استعمال کی نعمت سے آگاہی رکھتے ہوئے پہلے ہی پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات کر چکے ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ پوٹھوہار میں گندم کی کاشت دانش مندی نہیں ہے یہاں پھل ،پھول اور نقد آور فصلیں باآسانی تیار کی جاسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان زرعی ملک ہے تاہم اس کے باوجود کھانے کاتیل ،بیج،ٹماٹر ،پیاز سمیت متعدد اشیاء ہم بیرون ممالک سے منگوارہے ہیں،ہمیں مقدار کی بجائے معیار پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جب چھوٹے کسان کو مارکیٹ تک رسائی نہیں ملے گی تو وہ دب جائے گا ساری دنیا میں سیزن میں پراسیسنگ ہوتی ہے جس کے بعد اشیاء سارے سیزن میں دستیاب ہوتی ہیں کوریاکھانے پینے کی 70فیصد اشیاء دارمد کرتاہے اگر ہم کوالٹی بہتر کریں تو کوریا پاکستان کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں چارسیزن ہیں ہم محنت سے دنیا میں نمبرون پر آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکاری کے جدید طریقے اور نت نئی زرعی تکنیکس کے استعمال سے زرعی پیداوار کو 200سے 500گنا تک بڑھایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جدید زرعی تکنیکس اور طریقہ کاشت کی بدولت نہ صرف پیداوار میں 500گنا تک اضافہ ممکن ہے بلکہ ان جدید طریقوں کی بدولت کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر خرچ کی جانے والی بھاری رقم کی بھی بچت کی جاسکتی ہے ۔ ہائیڈروپونک ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے کہاکہ پانی کا تحفظ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے بالخصوص بارانی علاقوں میں فصلوں کی پائیدار کاشت کے لیے یہ ایک چیلنج بن چکاہے ۔انہوں نے کہاکہ پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی خطہ پوٹھوہار کے نوجوانوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہتی ہے جس کی مدد سے وہ زیادہ سے زیادہ پیدوار حاصل کرنے کے لیے متحد ہوں ۔یونیورسٹی خطے کے غریب کسانوں کی ترقی میں معاونت کے لیے پڑھے لکھے نوجوانوں کو زراعت کے میدان میں خودروزگاری کی طرف مائل اور معاونت کے لیے تیار کررہی ہے جس کی مدد سے نہ صرف وہ خود بلکہ دیگر لوگوں کی معاشی بہتری بھی کرسکیں گے ۔انہوں نے بتایاکہ مندرہ (چکوال)کے مقام پر اڑھائی سوایکڑ زمین پر یونیورسٹی کی جانب سے ڈرپ ایریگیشن کا منصوبہ شروع کرایا گیاہے جس سے تحقیق میں معاونت اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے گا۔یونیورسٹی نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے پوٹوہارکے علاقہ میں گرمیوں میں ہونے والی بارشوں کا پانی جمع کرنے اور شمسی توانائی سے چلنے والے ایریگیشن سسٹم کی مدد سے مذکورہ اڑھائی سو ایکڑ زمین پر فصلیں پیدا کرنے کے لیے اس پانی کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،فارم پرسنگترہ، زیتون ،کھجور ، انگور اور سبزیاں ٹنل فارمنگ سے اگائی جائیں گی دراصل ان اقدامات کا مقصد کسان بھائیوں کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری کی طرف مائل کرناہے۔

مزید :

کامرس -