وائے ڈی اے کے وی سی کی خدمات واپس ، پرائمری ہیلتھ میں ٹرانسفر کر دیا گیا

وائے ڈی اے کے وی سی کی خدمات واپس ، پرائمری ہیلتھ میں ٹرانسفر کر دیا گیا

  

لاہور(جنرل رپورٹر،نمائندہ پاکستان)جناح ہسپتال میں مریضوں سے لڑائی جھگڑے اور زبردستی ہڑتال کرانے کے الزام میں نکالے گئے وائے ڈی اے کے وائس چیئر مین ڈاکٹر شبیر احمد نے پورے ہسپتال کو اپنی جاگیر بنا رکھا تھا۔انتظامیہ کو خوف زدہ کر کے گریڈ بیس کی سرکاری رہائش گاہ بھی لے رکھی تھی اور ان پڑھ بھائی کو گریڈ سولہ میں لیب میں بھرتی بھی کروا رکھا تھا۔گزشتہ دنوں کالج کیفے ٹیریا شاہین مال میں خون کا عطیہ دینے والے غریب لواحقین کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر مقدمہ بھی درج ہوا مگر اس کو کوئی پوچھنے کے لیے تیار نہ تھا۔ایم ایس ڈاکٹر سہیل ثقلین نے پہلی دفعہ ایک ذمہ دار ایڈمنسٹریٹر کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے محکمہ صحت کو اس ڈاکٹر کی حرکات کے بارے میں لکھا جس پر محکمہ صحت نے پہلی دفعہ ایکشن لیا اور اس کی خدمات واپس لیں اور انہیں پرائمری ہیلتھ میں ٹرانسفر کر دیا۔بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شبیر پورے جناح ہسپتال میں ایک خوف کی علامت کے نام سے جانے جاتے تھے ان کے سامنے ایم ایس ،پرنسپل اور پروفیسر بے بس تھے مبینہ طور پر کنٹینوں سے بھی چندہ وصول کرتے اور پارکنگ سٹینڈوں کے ٹھیکیدار بھی ان سے محفوظ نہ تھے جبکہ سابق انتظامیہ کو بلیک میل کرکے اپنے ان پڑھ بھائی کو گریڈ چودہ میں ہسپتال میں ملازمت دلا رکھی تھی۔گریڈ سترہ میں ہوتے ہوئے سرکاری کالونی میں دھونس دھاندلی سے گریڈ بیس کی سرکاری رہائش لے رکھی تھی۔آئے روز ہسپتال میں ہڑتال کرواتے ۔دو روز قبل انہوں نے ہسپتال کے ایم ایس سمیت ہسپتال کی انتظامیہ کو خوفزدہ کیا اور ہسپتال میں ہڑتال کروائی ۔جس کے بعد اسے ہسپتال سے نکال دیا گیا۔اس حوالے سے ڈاکٹر شبیر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا انتظامیہ ذاتی عناد کا نشانہ بنا رہی ہے مجھ پر تمام الزامات بے بنیاد ہیں ینگ ڈاکٹرز کے حقوق کی بات کرتا رہوں گا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل ثقلین سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر شبیر ہسپتال میں ایک خوف کی علامت تھا کار سرکار میں مداخلت کرتا،مریضوں کو مارتا،ہڑتالیں کرواتا اور بھتہ بھی لیتا تھا اس لیے ان کی خدمات محکمہ صحت کے حوالے کر دی گئی ہیں ۔ایم ایس نے کہا کہ ایسے ڈاکٹروں کی ہسپتال میں کوئی جگہ نہیں ہے جو مریضوں کے لیے مسائل پیدا کریں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -