ہم غریب کیو ں ہیں ؟

ہم غریب کیو ں ہیں ؟

  

رپورٹ :اسد اقبال

غربت سے دہشت جنم لیتی ہے اور تما م برائیوں کی جڑ مفلسی ہے ناقص حکومتی معاشی پالیسیوں اور سیاسی ابتر صورتِ حال سے معاشرے میں امیر امیرترہو رہا ہے اور غریب کہیں زیادہ غریب ہو تے جا رہے ہیں۔غذائی قلت کا بحران خوفنا ک ہو چکا ہے۔سرچھپانے کے لئے کئی کنبے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں،جبکہ بیروزگاری کا عفریت سایہ فگن ہے ۔ کسی بھی ملک و قوم کے لئے غربت وافلاس انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ صرف غربت ہی کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ غربت وافلاس کے تلخ وناگوار ذائقہ کے بارے میں حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میں نے دنیا کی تمام تلخیوں کو چکھا ہے لیکن غربت وافلاس کی طرح کوئی بھی شے مجھے تلخ وناگوار محسوس نہیں ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت کی نظر میں غربت مہلک ترین بیماری ہے کیونکہ انسان کو ہر بیماری سے زیادہ غذائی کمی ذہنی و جسمانی نقصان سے دوچار کرتی ہے ، برائی پیدا کرتی ہے، اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ دنیا بھر غربت زدہ علاقوں میں ہر روز صج ایک ارب سے زیادہ افراد سو کر اٹھتے ہیں تو انھیں اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے۔ مناسب غذا ہر انسان کی جسمانی توانائی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے اہم ضرورت ہے اور اس کا شمار زندگی کی ابتدائی ضروریات میں ہوتا ہے۔اسی طرح انسان کی فکری نشوونما اور معاشرے میں ہوشیاری کے ساتھ زندگی گزار نے ،ترقی وپیشرفت اورتحرک کے لئے مناسب اور کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ رشوت ، کام چوری اور جھوٹ جو کہ برے اخلاق کی نشانیاں ہیں وہ معاشرے میں سرایت کر چکی ہوں تو امن و انصاف ختم ہو جاتا ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے معاشرے کی تنزلی شروع ہوتی ہے۔ میں اس میں یہ بھی اضافہ کرنا چاہوں گا کہ غربت صرف اس حالت کا نام نہیں کہ لوگوں کے پاس وافر پیسہ نہ ہو یا روزگار کی کمی ہواس کو اگر وسیع معنی میں لیا جائے تو ذہنی مفلسی سب سے بڑی غربت ہے۔ جب تک ریاست کے ارباب بست و کشاد عوام کی عزتِ نفس کا احترام نہیں کریں گے اس وقت تک اذہان میں مثبت خیالات کی بجائے منفی جذبات ہی پرورش پائیں گے معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا ہو گا کہ جو ذہنی پسماندگی کی طرف لے جاتا ہے اور نتیجہ معاشی پسماندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھرمیں17 اکتوبر کا دن غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ یہ دن سب سے پہلے1987ء میں فرانس میں منایاگیا جب Wresinski Joseph نے پیرس میں لیبرٹی پلازہ کے گرد ایک لاکھ لوگوں کو جمع کیا تاکہ غربت، بھوک، تشدد اور خوف کے ستائے لوگوں کے لئے آواز بلند کی جاسکے،جبکہ اقوام متحدہ نے 1992ء میں سترہ اکتوبر کو باضابطہ طور پرغربت کے خاتمہ کا عالمی دن قرار دیا۔17اکتوبرکا دن غربت اور محرومی کی زندگی گزارنے والے لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے مسائل کو سننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن غربت، محرومی اور عدم مساوات کے خاتمے، بچوں کے حقوق کے تحفظ اور غریب عوام کی حالت زار اور ان کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے سیمینارز، مذاکروں، مباحثوں اور خصوصی پروگرامز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مخیرحضرات اور ادارے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں معاونت فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے کے غریب عوام کو با عزت ذریعہ معاش میسر آسکے اور وہ اپنے خاندانوں کی خود کفالت کرنے کے قابل ہو سکیں۔

پاکستان رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 60فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں پاکستان کہیں سے زیادہ غربت پائی جاتی ہے۔ بھارت میں غربت کی شرح 68 اعشاریہ 7 فیصد اور بنگلہ دیش میں ساڑھے 76فیصد ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری ، مہنگائی اور ناخواندگی عوامی زندگی کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ حکومتی دعوؤں کے برعکس حالیہ چند برسوں میں غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی کثیرالجہت غربت کا شکار ہے۔ واضع رہے کہ کثیر الجہت غربت میں صرف آمدنی کو ہی معیار نہیں بنایا جاتا بلکہ صحت، تعلیم اور زندگی کی بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ غربت کی سب سے زیادہ شرح فاٹا اور بلوچستان میں ہے،جبکہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 9.3 فیصد ہے اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 54.6 فیصد ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات یا فاٹا میں 73 فیصد اور بلوچستان میں 71 فیصد افراد غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 49 فیصد، گلگت بلتستان اور سندھ میں 43 فیصد، پنجاب میں 31 فیصد اور آزاد کشمیر میں 25 فیصد افراد غربت کا شکار ہیں۔ آزاد کشمیر کی بہتر معاشی صورتِ حال کی بنیادی وجہ یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد کا بیرون ملک برسرروزگارہونا بتائی جاتی ہے۔آزادکشمیر کے بیرون ملک مقیم شہری قیمتی زر مبادلہ بھیجتے ہیں جو یہاں کے لوگوں کی خوشحالی کابنیادی سبب ہے۔ وزارت برائے منصوبہ بندی اور اصلاحات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں 10 فیصد سے کم افراد غربت کا شکار ہیں اور اس کے برعکس بلوچستان کے قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور برکھان میں 90 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

امریکہ کے بقول پاکستان دنیا کا 34واں غریب ترین ملک ہے اورتمام رپورٹیں واعدادوشمار بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان واقعی غریب ملک ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے بھلا اس ملک کو کس طرح غریب کہا جاسکتا ہے جو اپنے ایک شہر کراچی میں ایک نمائشی چشمہ بنائے جس کو چلانے کے لئے روزانہ1لاکھ16ہزار روپے خرچ ہوتے ہو،جس کے عوام ہر سال 8ارب کے چائے پی جاتے ہو،جس کے پاس سرکاری گاڑیوں کے تعداد 2لاکھ 63ہزار 800 سے زائد ہواوران پر سالانہ75ارب روپے خرچ کرتا ہو،جو بجلی کے اس شدید ترین بحران میں بھی واپڈا کے ملازمین کو53ارب کی سالانہ مفت بجلی فراہم کرتا ہو،جو اپنے وزیروں،مشیروں،وزیر مملکت اور پارلیمانی سیکرٹریوں پرسالانہ16ارب روپے خرچ کرتا ہو،دنیا کا اربوں کا مقروض ہونے کے باوجود اپنے سیاست دانوں،جاگیردانوں اور صنعت کاروں کے125ارب سے زائد قرض معاف کر دیتا ہو،جس کے وزائے اعظم اپنے اپنے دور میں صرف حج و عمروں میں کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہو،سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی اپنے دور اقتدار میں ایک وفد کے ساتھ حج وعمرہ پر 1کروڑ34لاکھ،چودھری شجاعت 1کروڑ 52 لاکھ،شوکت عزیز1کرو ڑ87لاکھ جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری2کروڑ روپے خرچ کر دیتا ہو، جس کا وزیراعظم 28بلٹ پروف لگژری گاڑیاں جن کی مالیتی قیمت2ارب تھی ان میں24 کو اپنے ذاتی تصرف میں رکھتا ہوجس کا وزیراعظم 10غیر ملکی دوروں پر17,60,16403روپے خرچ کر دے اور ایک دورہ ہانگ کانگ کا منسوخ ہونے کے باوجود10,912,205خرچ کر دے،جس کے 14غیر پیشہ ورانہ سفیر کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہو،جو اپنے ریٹائرڈ ہونے والے فوجی جوانوں کو ہزاورں ایکڑ ززمین سونپ دیتا ہو اور جس کی سرکاری عمارتیں ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ہو،جس کے صرف80سرکاری افسران 2ہزار6سو6کنال پر مشتمل رہائش گاہیں استعمال کر رہے ہو، جن کی نگہداشت،مرمت اور حفاظت کے لئے30ہزار ڈائریکٹ اوران ڈائریکٹ ملازمین ہواور صرف اس کے لانوں پر12سے18کروڑروپے سالانہ خرچ ہوتا ہو۔ان رہائش گاہوں کی مالیتی قیمت ایک کھرب سے زائد بنتی ہے اور اگر صرف ان رہائش گاہوں کو فروخت کر دیا جائے اوررقم واپڈا کو دے دی جائے تو، واپڈا کو4سال تک بجلی کی قیمت بڑھانے کی ضرورت نہ پڑے۔اگر یہ رقم ہائی وے کو دے دی جائے تو وہ موٹر وے جیسی 2سڑکیں اور کراچی سے پشاور تک نیشنل ہائی وے جیسی مزید ایک سڑک بنا سکتی ہے۔اگریہ رقم محکمہ صحت کے حوالے کر دی جائے تو یہ محکمہ پاکستان میں ’’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘‘جیسے70 ہسپتال بنا سکتا ہے۔اگر یہ رقم سول ایوی ایشن کو دے دی جائے تو یہ ادارہ پاکستان میں کراچی جیسا1 اور ائیر پورٹ بنا سکتا ہے۔اگر یہ رقم ’’ارسا‘‘ کے حوالے کر دی جائے تو وہ اس رقم سے سمندر کا پانی صاف کرنے کے12پلانٹ لگا سکتا ہے اور اگر یہی رقم پکی پکائی روٹی کے منصوبوں میں لگا دی جائے تو اس سے پاکستان کے ان غریبوں کو جو ایک وقت کی روٹی کھانے سے عاجز ہیں ان کو15برس تک مفت روٹی فراہم کی جاسکتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کرے گا کون؟بھلا ایسے ملک کوغریب کس طرح کہا جا سکتا ہے؟

غربت و افلاس کا خاتمہ میرے خیال میں دو کاموں سے کیا جا سکتا ہے۔ ایک انصاف اور دوسرا زکوۃو صدقات کا حصول و درست استعمال ! زکوہ ایک دینی فریضہ ہے اس لئے اس کو ضرور ادا کرنا چاہئیے اور یہ ضروری نہیں کہ حکومت کے کھاتے میں ہی جمع کروائی جائے خاص طور پہ آج کل کی کرپٹ حکومتیں اس کے ساتھ جو کچھ کرتی ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں۔

غربت کو کم کرنے کے لئے کثیر الجہت اقدامات کی ضرورت ہے جس میں سرفہرست تعلیم، صحت اور امن وامان کی صورت حال کو بہتر کرنا ہے۔حکومت بجٹ میں ان شعبوں کے لئے جو رقم مختص کرتی ہے وہ اول تو ناکافی ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ رقم درست طریقے سے استعمال میں نہیں لائی جاتی، اور اس طرح یہ رقم تنخواہوں کی ادائیگی اور انتظامی اخراجات کی نذرہو جاتی ہے۔پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ملک و قوم کی امانت وہ خطیر رقم ہے جو دوسرے ملکوں کے بینکوں میں پڑی ہے اور حکومت اس رقم کو ملک میں واپس لانے میں سنجیدہ نہیں۔ جب سے وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہاں اقتدار چند خاندانوں کے درمیان ہی رہا اور انہوں نے وسائل کو اس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا کہ پاکستان کے غریب افراد کے لئے جسم اور سانس کا رشتہ قائم رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔ آج ہمارے حکمران عوام کو صبر کی تلقین کرتے ہیں، کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں لیکن اپنی شہ خرچیوں میں کوئی کمی نہیں لاتے،اگر ہمارے حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کرلیں تو ملک سے غربت دور ہوسکتی ہے۔

پاکستان غریب ہر گز نہیں ہے غریب ہیں تو اس کی پالیسیاں،غریب ہیں تواس کے حکمرانوں کے ذہن جو یورپی اورامریکی حکومتوں کے حکموں پر عمل در آمد کرنے کے لئے تو ہر طرح کی دلیلیں نکال لیتے ہیں اور نہیں کچھ کر سکتے توپاکستان کو مضبوط بنانے کے لئے ٹھوس پالیسیاں نہیں بنا سکتے۔ ہمیں ضرورت مالی امداد کی نہیں بلکہ ایسے حکمرانوں کی ہے جن کی حکمرانی حضرت فاروق اعظمؓ کی یاد دلا دے،جو خود تو قناعت پسند ہو لیکن اپنے عوام کی ہر وقت خبرگیری کرتے ہوں جن کو صرف یہاں بسنے والے انسانوں ہی کی نہیں بلکہ اپنے وطن اور دین اسلام کے بھی فکر ہواور اگر ایسا ہمیں ایک بھی حکمران میسر آ جائے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور، خوشحال،معاشی مظبوطی اورپرامن ملک کے طور پر پہچانا جائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -