حکومت فوری طور پر کپاس اور دھان کی امدادی قیمت کا اعلان کرے،ڈاکٹر خالد حمید

حکومت فوری طور پر کپاس اور دھان کی امدادی قیمت کا اعلان کرے،ڈاکٹر خالد حمید

  

عصر حاضر میں فوڈ سیکیورٹی دُنیا کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے جس کو یقینی بنانے کے لئے دُنیا کے پیشتر ممالک اپنی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے لئے کوشاں ہیں۔پاکستان میں زرعی مقاصد کے لئے کم ہوتے پانی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود حکومتی ترجیحات میں زراعت کہیں نظر نہیں آتی۔

تارا گروپ پاکستان ملک کے زرعی شعبے کا ممتاز ترین ادارہ ہے جس کے چیئرمین ڈاکٹر خالد حمید ممتاز زرعی سائنس دان ہیں آپ ان دنوں پیسٹی سائیڈ انڈسٹری کی مستند تنظیم پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین بھی ہیں ڈاکٹر خالد حمید نے برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، عملی زندگی میں اپنے اَن گنت کارہائے نمایاں کی بدولت زرعی شعبے میں بہت ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ گزشتہ دِنوں انہوں نے ’’بزنس پاکستان‘‘ کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تارا گروپ 2012ء میں قائم ہوا، چار برسوں میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کر کے اِس ادارہ کا زرعی شعبے کے پہلے پانچ گروپس میں سر کردہ مقام حاصل کرنا میرے اور رفقاء و ملازمین کے لئے بے حد باعثِ افتخار ہے۔ یہ قابلِ فخر مقام ہم انتھک محنت کے ساتھ اِس لئے حاصل کرنے میں کامیاب رہے کہ ہماری نیت نیک تھی، بہت زیادہ منافع کے لالچ میں ہم نے کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ تارا گروپ صرف پیسٹی سائیڈز بیچنے والی کمپنی نہیں، بلکہ کسان کی بھلائی اور رہنمائی ہمیشہ ہمارا اولین مشن رہا۔ ہمارا دوسرا اہم ترین مشن اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تارا گروپ ISO17025 کے تحت پیسٹی سائیڈز کھادوں کی وسیع تر رینج پر عالمی معیار یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والا زرعی شعبے میں مُلک کا پہلا ادارہ ہے۔

ہمارے نزدیک تحفظ نباتات صرف کیڑے مارنے کا کام نہیں بلکہ ہم فصل کے نقصان دہ اثرات کو بھرپور انداز سے تلف کرنے کے ساتھ فصل کو توانا رکھنے اور شاندار پیدوار کے ساتھ کسان کا اعتماد اور بھروسے پر پورا اترنے کو اپنا اولین مقصد بنائے ہوئے ہیں۔

قومی سطح پر کئی فصلوں کی فی ایکڑ کم پیداوار کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں فی ایکڑ پیدوار کم رہنے کے کئی اسباب ہیں جن میں زمین کی زرخیزی بڑھانے اور زمینوں کی پی ایچ یعنی تیزابیت کو کم کرنے کے لئے ہم نے موثر مائیکرو کھادیں متعارف کروائیں۔فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا ایک بڑا سبب 80فیصد ناقص اور غیر معیاری بیج کا استعمال ہے، چناچہ بین الا قوامی معیار کا بیج فراہم کرنے کے لئے ہم نے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی تحقیقی اداروں سے اشتراک عمل کے معاہدے کر کے اعلیٰ کوالٹی کے ہائبرڈ بیج رائس ٹی آر 786 اور TR77، ہائبرڈ بیج مکئی TG-4560 اور ہائبرڈ سائلیج بیج مکئی TG46B90، تربوز کا بیج WT-4001 اور WT-4002 گزشتہ سال متعارف کروائے جو شاندار پیدواری صلاحیت کے ساتھ کسانوں میں بے حد مقبول ہوئے جبکہ گندم، دھان، کپاس اور چارے وسبزیوں کے بیج ہم مقامی زرعی تحقیقی اداروں کے اشتراک سے بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارا بی ٹی کپاس کا بیج بھی تحقیق کے آخری مراحل میں ہے، جو آئندہ دو ایک سالوں میں متعارف کروائیں گے۔ مکئی کے ہائبرڈ بیج بالخصوص پاکستان کا پہلا باضابطہ منظور شدہ ہائبرڈ سائلیج بیج متعارف کروانے کا مقصد ڈیری صنعت کو بھرپور پیدواری صلاحیت کا سائلیج تیار کر کے مویشویوں کو توانا اور صحت مند رکھتے ہوئے ان کی دودھ اور گوشت کی پیداوار کو بڑھانا ہے تاکہ فصلوں کی اچھی پیداوار کے ساتھ کسان کو معقول اضافی آمدن کے مواقع مہیا کئے جاسکیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد حمید نے کہا کہ میڈیا زرعی پیش رفعت میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر یہ امر افسوناک ہے کہ ماسوائے ایک آدھ اخبار چینل کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اس شعبے اور کسان کے مسائل کو بُری طرح نظرانداز کر رہا ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ اگر زرعی شعبہ اور کسان میڈیا کی معاونت سے مثبت اور موثر زرعی پالیسیوں کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں تو چند برسوں میں پاکستان کی معیشت استحکام اور خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔بدقسمتی سے قیام پاکستان سے اب تک ماسوائے ایک دو ادوار کے زرعی شعبے کو مسلسل بُری طرح نظر انداز کیا گیا۔ اگرچہ موجودہ حکومت کے زرعی مداخل پر جی ایس ٹی ختم کرنے اور کھادوں پر سبسڈی بحال کرنے کے اقدامات سے کسانوں کو کافی حوصلہ ملا،مگر میری دانست میں دیرپا زرعی ترقی کے لئے بہتر ہو گا کہ حکومت کسان کو اس کی پیداوار کا معقول معاوضہ یقینی بنانے کے لئے سبسڈی کی رقوم کو فصلوں کی امدادی قیمت بہتر بنانے کے لئے مختص کر دے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی گزشتہ سال بوائی 12تا15 لاکھ ایکڑ کم ہوئی جس کا بڑا سبب یہ تھا کہ کسان کو گزشتہ دو برسوں میں کپاس اور چاول کی پیداوار پر ملنے والا کم معاوضہ خسارے کا سبب بنا۔ اس مرتبہ حکومتِ پنجاب کپاس کی ایک کروڑ گانٹھ کا پیداواری ہدف حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے، لیکن کاشتکار کے مفاد کا خیال نہ رکھا گیا تو خدشہ ہے کہ اس بار بھی ہمارا پیداواری ہدف پورا نہ ہو سکے گا اور صنعت کو خام مال پوری مقدار میں میسر نہ آ سکے گا۔اگر حکومت چاہتی ہے کہ ملکی کسان کپاس زیادہ سے زیادہ اُگائے اور موجودہ فصل کو بیماریوں و کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لئے تحفظ نباتات کی جدید ٹیکنالوجی بروقت اختیار کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول یقینی بنائے تو کپاس کی امدادی قیمت کا ابھی سے اعلان3500 روپے فی من پھٹی کے لئے مقرر کر دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے جبکہ باستمی چاول کی قیمت کا تعین 1600تا1800 روپے فی من اور موٹے چاول کی امدادی قیمت 1300 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان اِن دونوں فصلوں کے کسانوں کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ نئی زرعی پالیسیوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی پیداوار کے مابین توازن برقرار رکھنا از حد ضروری ہے۔ وگرنہ آبادی میں تیز تر اضافہ ہماری تمام شعبوں کی منصوبہ سازی کو بری طرح متاثر کرے گا۔

پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین کی حیثیت سے پیٹسی سائیڈ کی صنعت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چیئرمین تارا گروپ نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ماضی میں زرعی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل گریجوایٹس نوکریوں کے لئے مارے مارے پھرتے تھے،مگر اب انہیں زرعی شعبے کی نجی کمپنیوں کی جانب سے پُرکشش تنخواہوں پر روزگار کے وسیع مواقع میسر ہیں ہمارا نجی شعبہ دُنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ملک میں لانے کو تیار ہے،مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے نت نئے ضواط کے ساتھ ان پر شکنجہ کسنے کے لئے سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پیسٹی سائیڈز کی صنعت مُلک میں اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ سرفہرست ہے۔

ہم زیادہ تر کاروبار اُدھار پر کرتے ہیں اور کوئی کمپنی نہیں چاہے گی کہ وہ غیر معیاری مصنوعات پر عدم ادائیگی کے سبب اپنا کثیر سرمایہ ڈبو لے۔ بدقسمتی سے پیسٹی سائیڈز ایکٹ تو 1971ء سے موجود ہے، لیکن18 ویں ترمیم کے بعد بعض اختیارات وفاقی حکومت اور کچھ اختیارات صوبائی حکومتوں کو ملنے کے باعث نہ ہم اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے،اس پر مزید زیادتی یہ کہ وفاقی حکومت میں پیسٹی سائیڈز کی رجسٹریشن کے شعبہ میں ایک عرصہ سے ڈی جی کے عہدہ پر عدم تعیناتی اور صوبائی محکمہ زراعت میں پیسٹ وارننگ کے شعبہ کے ڈی جی کا عہدہ خالی ہونے کے باعث پیسٹی سائیڈز صنعت کا کوئی پُرسان حال نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دُنیا بھر میں سرکاری محکموں کے قوانین اور ضوابط متعلقہ انڈسٹری کو Support کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں کہ حوصلہ افزائی سے نجی شعبہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے،مگر ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے کہ یہاں پر نجی شعبے کو نام نہاد ضوابط کے نام پر بُری طرح کچلا جاتا ہے۔

ایک اور سوال پر ڈاکٹر خالد حمید کا کہنا تھا کہ ہمارے چھوٹے کاشتکار گزشتہ چند برسوں کے دوران زبوں حالی کا شکار ہو کر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔انہوں نے موجودہ حکومت کو ہدیہ تحسین پیش کیا جنہوں نے زرعی اجناس پر لاگو جی ایس ٹی کو ختم کرنے اور کھادوں و زرعی آلات پر سبسڈی دینے کے لئے اقدامات کئے۔انہوں نے کہا کہ زرعی پیکیجز کی رقوم کسان زرعی ترقی پر خرچ نہیں کر رہے اگر حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور کسان کی خوشحالی چاہتی ہے تو یہ زرعی پیکیجزز مداخل کو سستا کرنے اور امدادی قیمت کو بہتر بنانے کے لئے وقف کر دے تو کسان اور زرعی شعبہ تیزی سے ترقی کرے گا جو ملکی معیشت کے استحکام کا وسیلہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ نومنتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے زرعی ترقی کو اولین ترجیح بنانے کا اعلان کیا ہے۔انہیں فوری طور پر اپنے ایجنڈے کو واضح کرنا چاہئے اُن کے پاس وقت کم ہے وہ فوری طور پر کرنے والے اقدامات کو تو یقینی بنائیں۔ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ کپاس اور دھان کی فصل کے لئے ہماری عالمی معیاری پر مبنی ٹیکنالوجی میں یوں بہت سے پراڈکٹس ہیں جن میں سبز تیلے کے خاتمہ کے لئے پائروکس سپر سفید مکھی سے نجات کے لئے ایگزونا، تھرپس مائیٹس، لشکری اور امریکن سنڈی کے لئے فوکسل کپاس و دھان کے رس چوسنے والے کیڑوں و سنڈیوں کے خاتمہ کے لئے ونڈال اور دھان کے تنے اور پتہ لپیٹ سنڈیوں کے خاتمہ کے لئے تارا پائیڈان ہماری مقبول ترین پراڈکٹس ہیں، جنہیں کسان پورے اعتماد سے استعمال کر کے اپنی انفرادی اور مُلک کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ یقینی بنا سکتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -