نواز شریف کو تنگ نہیں کرنا چاہتے ، گلالئی کے الزامات سنجیدہ ، شفاف تحقیقات ہونی چاہئے : بلاول

نواز شریف کو تنگ نہیں کرنا چاہتے ، گلالئی کے الزامات سنجیدہ ، شفاف تحقیقات ...

  

چترال (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنی زندگی کا پہلا الیکشن چترال سے لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عائشہ گلالئی کے الزامات سنجیدہ ہیں انکی شفاف تحقیقات خواتین کو ہراساں کئے جانے سے متعلق موجود قانون کے تحت ہونا چاہیے ، پیپلزپارٹی خواتین کے کرادر پر بات نہیں کرتی بلکہ ان کی حقوق کیلئے جنگ لڑتی ہے ۔ عمران خان کا ملک میں گالم گلوچ اور جھوٹے الزامات کی سیاست کو فروغ دینا نقصان دہ ہے، سیاست میں الزامات برا رجحان ہے اور یہ کسی کیلئے بھی سود مند نہیں، خاص طور پر نوجوانوں کیلئے بری مثال قائم ہورہی ہے۔ شہباز شریف این اے 120کے الیکشن سے بھاگ رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے شرمندگی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ نواز شریف الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں، آخری وقت میں ہم تنگ نہیں کرنا چاہتے ،احتساب کا عمل سب کیلئے ہونا چاہیے، پارلیمنٹ کے تحت ایسے قوانین ہونے چاہییں کہ کو ئی احتساب سے بالاتر نہ ہو۔ 2018 کے انتخابات میں پتا چلے گا عوام (ن) لیگ کو مسترد کرتے ہیں، اب تک منصوبہ ہے کہ آئندہ الیکشن تنہا لڑیں گے اور کسی جماعت کیساتھ اتحاد نہیں کریں گے، میں انتخابی اتحاد نہیں چاہتا اور آزادانہ الیکشن لڑنا چاہتا ہوں۔گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کا چترال میں صحافیوں سے گفتگومیں مزید کہنا تھا پیپلزپارٹی ملک میں سیاست کو صاف طریقے سے چلانے کیلئے جلسے کرتی رہے گی اور اگلا جلسہ پی پی چنیوٹ میں 12اگست کو کرے گی ۔ عائشہ گلالئی کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہئے پیپلزپارٹی ایسی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی میں اپنے پارٹی ممبران کو ایسے سیاست کرنے کی اجاز ت دوں گا، خوا تین معاشرے میں باکرادر طریقے سے کام کریں تو ملک کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ عائشہ گلالئی کے معاملہ کو کچھ لوگوں اور میڈیا نے بڑا برے طریقے سے اچھالا ہے جس پر بہت دکھ ہوا ہے ۔ عائشہ گلالئی کے خاندان پر بات نہیں کرنی چاہے تھی۔عمران نیازی جس طرف سیاست کو لیکر جارہے ہیں وہ ملک اور قوم کیلئے ٹھیک نہیں ۔وہ کہتے ہیں آصف زرداری اور نواز شریف دونوں ملے ہوئے ہیں حالانکہ میرا باپ نواز شریف کیخلاف کتنے عرصہ سے لڑرہاہے اور بغیر کنوکشن (ثبوت) کے انہوں نے 11سال جیل کاٹی ہے ، پانامہ کیس سے ن لیگ کا چہرا پوری قوم کے سامنے عیاں ہوگیا ہے ۔آرٹیکل 62، 63 کے حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا تھا 1973 کے آئین کو اصل شکل میں بحال ، ضیا اور آمریت کی ترامیم پر کام کرنا پڑے گا۔

مزید :

صفحہ اول -