ہندوستان سے پاکستان کا سفر کرتے جابجا بکھری لاشیں دیکھیں، عبد الرشید قریشی

ہندوستان سے پاکستان کا سفر کرتے جابجا بکھری لاشیں دیکھیں، عبد الرشید قریشی

  

ملتان (سٹی رپورٹر) قیام پاکستان کے بعد 1947میں بھارت کے ضلع گورداس پور کی تحصیل کلر نو ر سے پاکستان ہجر ت کرکے آنے والے 97سالہ بزرگ الحاج محمد عبد الرشید قریشی نے کہاہے کہ تحریک پاکستان سے قبل ہندؤں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت بہتر تھے ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے کسی کو کسی سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن کئی علاقے ایسے تھے جہاں ہندوؤں کی اکثیریتی تھی وہاں کچھ مسائل ضرور تھے لیکن جب ہندوستان کو تقسیم کرنے اور پاکستان کی کو بنانے کے (بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

تحریک چلی تو ہندوؤ ں نے آنکھیں پھیر لیں ایسا لگتا تھا کی کبھی ہماری ان سے کوئی جان پہنچان ہی نہیں ہے تحریک پاکستان کے دوران میری عمر تقریباً25سال تھی میں اپنے دیگر دوستوں رشتہ داروں کے ہمراہ مسلم لیگ کے جلسہ میں شریک ہوتے تھے کئی کئی قوس پیدل چل کرجانا معلوم تھا انہوں نے کہاہے کہ مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں جب قائد اعظم محمد علی جناح نے مجھے پر جوش انداز میں نعرے لگاتے دیکھا تو اشارہ کرکے پاس بلایا اور پیار کیا اس کے بعد جوش و جذبے میں اتنا اضافہ ہوا کہ پھر کوئی جلسہ نہیں چھوڑا نہوں نے کہاہے جب ریڈیو ہندوستا ن پر پاکستان بننے کا علان ہوا تو ایسا لگا جیسا جسم سے جا ن نکل گئی ہو خوشی کے مارے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کیا جائے لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر خوشی کے مارے رو رہے تھے پاکستان کے اعلان ہوتے ہی لوگوں نے پاکستان جانے کے لئے تیاریاں شروع کر دی تھی ایک بڑے قافلے کے ذریعے ضرورت کا سامان اٹھا کر پاکستان کی طرف روانہ ہو گئے خواتین کو قافلے کے درمیان جبکہ ارد گرد نوجوانوں کی ڈیوٹیاں لگا ئی گئی تھی راستے میں جگہ جگہ سکھوں وہندو ؤں کی ٹولیوں سے سامنا کرنا پڑا جن کے ہاتھوں چھرے ،خنجر ، لوہے کے اوزار ، تلواریں،بڑے بڑے لٹھ تھے لیکن ہم نے بھی ہار نہ مانی ان کے ساتھ کھل کر مقابلہ کیا اس معرکے میں ہمارے قافلے کے کئی نوجوان زخمی ہو ئی لیکن اللہ نے ہمارے حفاظت کی انہوں نے کہاہے کہ راستے میں جگہ جگہ بچوں خواتین اور نوجوانوں کی نعشیں موجود تھی کئی افراد ایسے تھے جن سانسیں چل رہی تھی بھرتے کیا نہ کرتے ان ہی نعشوں سے گزر کر قافلے نے اپنی آگے کی راہ لی ، انہوں نے کہاہے کہ کوئی ہم سے پوچھے کہ قیامت کیا ہو تی ہے تو میں بس اس کو واقعہ ہجرت سنا دو ں تو کافی ہو گا انہوں نے کہاہے بھارتی فوجیوں نے ہر جگہ قافلے کی حفاظت کی انہی نگرانی میں ہم نے کئی دن ریلوے اسٹیشن پر گزارے آخرکار ریل میں سوار ہوکر پاکستان پہنچے جہاں کیمپ میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین موجود تھے جن کو بے شمار مسائل ہر سامنا تھا ہر طرف چیخ و پکار تھی کوئی خاندان ایسا نہں تھا جس کے گھر کا کوئی شخص راستے میں شہید نہ ہوا ہو انہوں نے آج کا پاکستان اور ملک کے حالات دیکھتے ہیں تو قیام پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیاں اور شہداء یا د آتے ہیں کہ انہوں نے آج کے پاکستان کے قربانیاں دی تھی اور اپنے گھر بار چھوڑے تھے انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ بھائی خدا کے لئے ان مہاجرین اور ان کی اولادوں نہ بھولو جنہوں نے اس ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے آج کوئی سوچ بھی نہیں سکتا صرف اپنا شہر چھوڑ کر دوسرے شہر چلا جائے اس وقت مہاجرین نے اپنا تن من دھن اس ملک کے لئے قربان کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -