تبدیلی کے دعوے باتوں تک ،پولیس لٹنے والے شہریوں کو مزید لوٹنے میں مصروف

تبدیلی کے دعوے باتوں تک ،پولیس لٹنے والے شہریوں کو مزید لوٹنے میں مصروف

  

پشاور(کرائمز رپورٹر) پشاور پولیس مال مسروقہ واپس دینے کے بجائے خود استعمال کرنے لگی، شہریوں کی نئی موٹر سائیکلیں رائیڈر سکواڈ نے کھٹارہ بنادیں، تفصیلات کے مطابق پشاور پولیس چوروں کو پکڑنے کے بعد پریس کانفرنس کے زریعے نیک نامی تو حاصل کر رہی ہے لیکن دوسری جانب مال مسروقہ متاثرہ افراد کو واپس کرنے کے بجائے اپنے زیر استعمال لاتی جا رہی ہے، ایک شہری نے روزنامہ پاکستان سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس کی موٹر سائیکل تقریباً چھ ماہ قبل چوری ہوئی اور چند روز بعد ہی پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے موٹر سائیکل برآمد کر لی، مگر کئی مرتبہ تھانے کے چکر لگوانے کے باوجود پولیس موٹر سائیکل نہیں دے رہی، شہری کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور موٹر سائیکل نہ ہونے کی وجہ سے وہ روزگار بھی نہیں کر پا رہا تاہم متعدد مرتبہ وہ اپنی موٹر سائیکل رائیڈر سکواڈ کے اہلکاروں کے استعمال میں دیکھ کر شدید زہنی پریشانی سے دوچار ہو رہا ہے، متاثرہ شہری نے بتایا کہ رائیڈنگ سے نا واقف اہلکار اسکی موٹر سائیکل خراب کررہے ہیں، واضح رہے کہ پشاور میں تھانہ کلچر میں تبدیلی محض مزاق بن کر رہ گئی ہے اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں عدالت میں چالان ہونے والے شہریوں سے لئے جانے والے موبائل فونز بھی اکثر واپس نہیں کئے جاتے، تاہم زیادہ بات کرنے پر ان افراد کو پولیس کی جانب سے ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے، ایک متاثرہ شہری نے یہ بھی بتایا کہ جب محرر سٹاف کی جانب سے اسے موبائل فون نہ ملا تو وہ شکایت لے کر ایس ایچ او کی طرف گیا لیکن پھر بھی اسے موبائل نہ مل سکا، البتہ احسان جتاتے ہوئے پولیس نے اسے میموری کارڈ واپس کرتے ہوئے خاموش رہنے کی ہدایت کردی۔ اس سلسلے میں پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہریوں سے زبردستی اشیاء ہتھیانے میں پشاور شہر کے تھانوں میں براجمان محرر مافیا کا بڑا ہاتھ ہے جو کہ عرصہ دراز سے شہری تھانوں میں تعینات ہیں اور اگر کسی کے خلاف کوئی شکایت کی جائے تو وہ فوراً ایک تھانے سے دوسرے شہری تھانے میں اپنا تبادلہ کروا لیتے ہیں، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محرر مافیا سے تعلق رکھنے والے ان اہلکار وں کو اعلیٰ افسران کی آشیرباد بھی حاصل ہے، اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو تھانوں بالخصوص شہری تھانوں میں ہونے والی نا انصافیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے پولیس میں سے کالی بھیڑوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -