تورڈھیر‘ سکول ٹیچر کا 8ویں جماعت کے طالبعلم پر تشدد

تورڈھیر‘ سکول ٹیچر کا 8ویں جماعت کے طالبعلم پر تشدد

  

تورڈھیر(نمائندہ خصوصی)پولیس چوکی جگناتھ کا بااثرسکول ٹیچرخالد اوراسکے بندوں سے ملکر آٹھویں جماعت کے طالبعلم پر حجرہ میں بندکرکے بدترین وحشیانہ تشدد،13 سالہ مجروح بچہ احتشام باچاخان میڈیکل کمپلکس شاہ منصور منتقل، ہسپتال کیجولٹی پولیس کا اپنے پیٹی بند چوکی انچارج جہاد خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے سے معذرت،مجروح بچے کے چھوٹے بھائی جماعت چہارم کے طالبعلم11 سالہ عادل پر رمضان سے قبل سکول ٹیچر خالد کے موبائل فون اورچار ہزار روپے نقدی چوری کرنے کا الزام تھا۔ اس سلسلے میں مجروح بچے کے چچاؤں ضابط الرحمن،نورخان اوردیگر نے ہسپتال میں میڈیاکے نمائندوں کو بتایا کہ تھانہ یارحسین کے ملحقہ گاؤں شہدادکلے (یعقوبی میرہ)کے رہائشی نادر خان کے چھوٹے بیٹے عادل مذکور پر رمضان سے پہلے موبائل فون اور نقدی چوری کرنے کاالزام تھا بعدمیں موبائل فون یارحسین بازار میں ایک دکان سے برآمد ہوا دکاندار نے بچے کانام پتہ بتادیا جس پر مدعی سکول ٹیچر خالد نے بچے کے خلاف مقامی پولیس چوکی کے انچارج جہاد خان سے مدد طلب کرلی پولیس نے ہفتہ کی شام خالد سکول ٹیچرکے حجرہ پر آکر دونوں بچوں کو وہاں پر بلالیا بچے حجرہ میں آتے ہی پولیس اور خالد وغیرہ نے انہیں بدترین تشدد کانشانہ بنایا بچے کی فلگ شگاف چیخ وپکار کے باوجود حجرہ میں موجود کسی ہمسایہ کی بچے کو ظالموں کی تشدد سے چھڑوانے کی جرأت نہ ہوسکی یہ واقعہ سناتے ہی بچے کے رشتہ دار میڈیاوالوں کے سامنے بھرے ہسپتال میں اپنی بے بسی پر زاروقطار روپڑے بچوں کے رشتہ داروں کو جب معلوم ہوا وہاں پہنچ گئے تاہم حجرہ کاگیٹ بند تھا اور انہیں اندر آنے نہیں دیا گیا جب بچہ تشدد سے نڈھال ہوگیا تو گیٹ کھولا ہم نے بچہ اٹھاکر شاہ منصورہسپتال پہنچایا یہاں پر آکر ہم نے متعلقہ پولیس اورخالد ٹیچرکے خلاف رپورٹ درج کرانا چاہی تاہم پولیس کے خلاف ہماری رپورٹ درج نہیں کرائی گئی یاد رہے کہ اس سلسلے میں تنازعہ کاحل نکالنے کیلئے جرگہ بھی بیٹھا تھا اوربچے کی ماں نے کانوں کی زیورات بھی اتار کر بطور موبائل فون کاعوض خالد سکول ٹیچرکو بھیجوائے تھے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -