وزارت خارجہ سنبھالتے ہی خواجہ آصف نے بھارت کو کشمیرپر مذاکرات کی پیشکش کردی

وزارت خارجہ سنبھالتے ہی خواجہ آصف نے بھارت کو کشمیرپر مذاکرات کی پیشکش کردی
وزارت خارجہ سنبھالتے ہی خواجہ آصف نے بھارت کو کشمیرپر مذاکرات کی پیشکش کردی

  

اسلام آباد،سیالکوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ کاقلمدان سنبھالتے ہی خواجہ آصف نے کشمیرکے مسئلے پر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان افغانستان اور انڈیا سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے ، پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کشمیر کے مسئلے کے حل سے ہی ممکن ہوسکتاہے ، ہماری خارجہ پالیسی عوام کی خواہشات اور ملک کے مفادات کے مطابق ہوگی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف کاکہناتھاکہ ’ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اپنی سرحدیں محفوظ بنانی ہیں تاہم لمبے عرصے تک امن کا حصول صرف مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی ممکن ہے ، بھارت کے ساتھ حالات معمول پر لانا چاہتے ہیں مگر اس کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملتا، بھارت کو بھی اپنے حصے کا کردار اداکرنا ہوگا، بھارت سرحد پر حالات خراب کرنے کے ساتھ ایل او سی پر بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے،بھارتی مداخلت کا بڑا ثبوت کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے، اگر ہندوستان امن کا خواہاں نہیں تو ہم کچھ نہیں کرسکتے تاہم ہم اپنی سرحدوں کا دفاع کرناجانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکنگ باو¿نڈری ہو یا لائن آف کنٹرول ہماری افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کشمیری اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کا حق مانگتے ہیں، کشمیر ی ہمارے بھائی ہیں ہم ان کی اخلاقی وسفارتی مددجاری رکھیں گے، کشمیری استصواب رائے کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں جو اقوام متحدہ سمیت ساری دنیا نے تسلیم کیاہے جبکہ کشمیر میں امن کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو 57 برس بیت چکے، تمام فریقین کی خواہش ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی حادثے کا شکار نہ ہو تاہم اگر سندھ طاس معاہدے کو نقصان ہوا تو مزید ماحول خراب ہو گا۔

ہم افغانستان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں مگر یہ صرف ہماری خواہش پر نہیں ہوگا، بھارت کو بھی اس میں کردار اداکرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی سے لڑرہاہے، پاکستان میں دہشت گردی پہلے سے کم ہوئی ہے جب کہ دہشت گردی کم کرنے میں فوج کی قربانیوں کا اہم کردار ہے۔

مزید :

قومی -