جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر53

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر53
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر53

  



’’بولتی ہے یا پھر‘‘ میری گرج دار آواز سن کر وہ لرزرنے لگی۔

’’سپنا بی بی نے کہا تھا جب میں شرجیل بابو سے شادی کر لوں گی تو کبھی کبھی رات کو مم۔۔۔میں تمہیں بھی شرجیل بابو کے کمرے میں بھیج دیا کروں گی‘‘ گوری نے جھجکتے ہوئے بتا دیا۔ شرجیل کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا۔ ناعمہ اور صائمہ نے جلدی سے دوپٹوں میں منہ چھپا لیے۔ سپنا کا رنگ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہو چکا تھا۔ وہ پاس پڑی کرسی پر ڈھیر ہوگئی۔

’’سن لیا تم نے ۔۔۔؟‘‘ میں نے حیرت سے منہ کھولے شرجیل کو مخاطب کیا۔

’’فا۔۔۔فاروق۔۔۔بھائی میں کیا کہوں میری تو عقل خبط ہو چکی ہے‘‘ پھر وہ سپنا سے مخاطب ہوا۔’’سپنا میں نے تمہیں کیا سمجھا تھا اور تم کیا نکلیں؟ یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا؟‘‘ اس کے چہرے پر دکھ اور تاسف کے گہرے بادل چھا گئے تھے۔

سپنا نظریں نیچی کیے بیٹھے تھی۔ اس کا سارا تنتنا ختم ہو چکا تھا۔ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلتے ہوئے وہ شرجیل کی طرح دیکھتی پھر منہ نیچے کر لیتی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر52  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اس کلٹا کے کارن کئی گھر برباد ہوئے ہیں۔ نسیم نامی ایک ناری کے پتی کو اسنے اپنے منتروں سے ایسا بس میں کیا کہ وہ اپنا سارا دھن اس پر لٹابیٹھا، کیول یہی نہیں اس ابھاگی نے اپنی پتنی کو بھی چھوڑ دیا۔ اس دکھیاری نے اپنی کومل سپتری کی ہتھیا کرکے آتم ہتھیا کر لی‘‘ رادھا نے مجھے معلومات پہنچائیں۔

’’تمہاری وجہ سے کتنے گھر برباد ہوئے۔۔۔؟ کتنی عورتوں نے خو دکشی کرلی؟ تم ایک ڈائن ہو، تمہیں معاف کرنا انسانیت پر ظلم‘‘ میں نے نفرت بھری نظر سپناپر ڈالی۔

’’نسیم نامی وہ عورت تو تمہیں یاد ہوگی جس کے شوہر کو تم نے اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر اس سے سب کچھ لوٹنے کے بعد اس کی بیوی کو طلاق دلوا دی تھی۔ اس بے چاری نے اس غم میں اپنے ہاتھوں سے اپنی ننھی سی بیٹی کو مار کر خود کشی کر لی تھی۔ یاد ہے یا بھول گئیں۔۔۔؟ تمہارے گناہوں کی فہرست خاصی طویل ہے میں نے تو صرف ایک واقعہ بتایا ہے۔‘‘

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس سے زیادہ حیران شرجیل تھا۔

’’اس پاپن نے تمرے شریر کو اپنے پلید ہاتھوں سے چھوا تھا اس کارن راپ تو اسے او ش ملے گا۔‘‘ رادھا کو اپنی جلن ستائے جا رہی تھی۔

’’پھر کیا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے سوچ کے ذریعے رادھا سے پوچھا۔

’’دیکھتے جاؤ۔‘‘ رادھا چلتی ہوئی سپنا کے پاس کھڑی ہوگئی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ سپنا کو کچھ سزا دینا چاہتی ہے۔ صائمہ کو خوش کرنے کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔

’’تم نے اپنے گندے ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھامنے کی جرأت کی تھی۔۔۔کیا سمجھی تھیں میں بھی دوسرے احمقوں کی طرح تم پر ریجھ گیا ہوں؟‘‘ میری بات سن کر شرجیل کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ میں نے ڈائریکٹ اس پر چوٹ کی تھی۔

’’تمہیں اس گناہ کی سزا تو ضرور ملے گی‘‘ میں نے کنکھیوں سے صائمہ کی جانب دیکھا جس کا چہرہ خوشی اور فخر سے چمک رہا تھا۔ رادھا میری چالاکی سمجھ گئی تھی اس کے گلابی لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ آگئی۔ اس نے سپنا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ میری باتوں سے پہلے ہی ڈری بیٹھی تھی بری طرح چونک کر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی جو کسی نادیدہ گرفت میں آگیا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے تھانیدار والا واقعہ گھوم گیا جب رادھا نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور ا س کا خوبصورت ہاتھ انگارے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس سے تھانیدار کے جسم کو آگ لگ گئی تھی۔ میں لرز گیا۔ رادھا کی آنکھوں سے قہر ٹپکنے لگا۔ میں نے جلدی سے رادھا کی طرف دیکھا۔

’’رادھا! دھیان رکھنا صائمہ کے گھر والوں کے لئے کوئی مصیبت نہ کھڑی نہ لینا۔‘‘ میں نے سوچ کے ذریعے اسے مخاطب کیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کرمطمئن ہونے کا اشارہ کیا۔ اچانک سپنا اپنا ہاتھ جھٹکنے لگی۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی سب کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹ گئیں۔ سپنا کے ہاتھ پر موٹے، موٹے آبلے پڑ چکے تھے۔ اس کے خوبصورت شفاف ہاتھ پر بدنما داغدار آبلے نکل آئے۔ رادھا ایک طرف کھڑی دلچسپی سے سپناکو دیکھ رہی تھی۔ اچانک سپنا میرے قدموں میں گر پڑی۔ میں بری طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا۔

’’خداکے واسطے مجھے معاف کر دو۔۔۔تمہیں اللہ کا واسطہ۔۔۔ہائے میں مر گئی مجھے معاف کر دومجھ سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے‘‘ رادھا کے ہونٹ ہلے اس نے کچھ پڑھ سپنا پر پھونک دیا۔

میں نے دیکھا سپنا کسی معمول کی طرح اٹھی اور جا کر ناعمہ کے قدموں میں گر گئی۔

’’مجھے معاف کر دو ناعمہ۔۔۔مجھ سے بڑی بھول ہوئی کہ میں نے تمہارے خاوند پر جادو کرکے اسے اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔ میں مانتی ہوں کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے لیکن تم ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہو مجھے یقین ہے تم مجھے معاف کر دو گی‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

ناعمہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی۔ رادھا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ سب سے زیادہ خوشی صائمہ کو ہو رہی تھی۔ سپنا اٹھ کر دوبارہ میرے پاس آگئی۔

’’خان صاحب! میں آپ سے بھی معافی مانگتی ہوں آپ بہت علم والے ہیں، میں دو چار جنتر منتر سیکھ کرسمجھ بیٹھی تھی کہ میں ہی سب کچھ ہوں لیکن سچ کہتے ہیں ہر سیر کو سوا سیر ہوتا ہے۔ براہ کرم مجھے معاف کر دیں۔‘‘ اس کا ہاتھ سوج کا کپا ہو گیا تھا جس پر بڑے بڑے چھالے بن گئے تھے۔ اس کی چہرے کی بے چارگی دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔ شاید میں اسے معاف کر دیتا لیکن رادھانے میرے کان میں سرگوشی کی۔

’’یہ کلٹا اس سمے کیول اپنی جان بچانے کے وچار میں ہے۔ اس کے ہر دے میں کھوٹ ہے یہ اپنے اس پاپی گرو کے انتجار میں ہے کہ وہ آکر تم سب کو کشٹ دے سکے۔‘‘

’’تمہارے یہ مگر مچھ کے آنسو میرے اوپر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ میں خوب جانتا ہوں تمہارے دل میں کہا ہے؟ تم اس منحوس کالی داس کے انتظار میں جو تمہارا انتقام لے سکے۔ اس بات کا تو مجھے ذرا بھر خوف نہیں ہے کیونکہ تمہارا وہ مکروہ اور لعنتی استادمجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ لیکن جو کچھ تم نے بے گناہ لوگوں کے ساتھ کیا ہے اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی‘‘ میرے کہنے پر اس کا چہرہ ایک بار پھر سفید پڑ گیا۔ اس نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں بے بسی کا احساس بڑا واضح تھا۔

’’آپ بے فکر ہو جائیں فاروق بھائی! میں اسے ابھی پولیس کے حوالے کرتا ہوں وہ خود ہی اس سے سب کچھ اگلوالیں گے اگر یہ قاتلہ ہے تو میں اسے پھانسی کی سزا دلوا کر چھوڑوں گا‘‘ شرجیل نے اے سی ہونے کے زعم میں کہا۔ غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن آنٹی اور ناعمہ وغیرہ کا لحاظ مانع تھا پھر بھی میں نے کہا۔

’’بچو! یہ تمہارے بس کی نہیں اور یہ سارا کیا دھرا تمہاری نادانی کی وجہ سے ہوا ہے اگر تمہیں کسی فاحشہ سے شادی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پورا کر لو۔‘‘ میری آواز خوبخود بلند ہوگئی تھی۔ شرجیل کو توقع نہیں تھی کہ میں اس سے اس لہجے میں بات کروں گا۔ شرمندگی سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ لیکن کچھ تو میں اس سے بڑا تھا دوسرے وہ اپنی آنکھوں سے کھیڈے چوہڑے اور پھر اپنی معشوقہ کا حال دیکھ چکا تھا اس لئے کچھ نہ بول سکا، خاموشی سے سر جھکا لیا۔ صائمہ فخر سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ سپنا اپنی سزا سننے کے انتظار میں خوفزدہ کھڑی تھی۔

’’موہن! اس کلٹا کو جانے کا کہہ دو۔ اس کا ماس کھا کر میری سکھیوں کو بڑا سودا(مزہ) آئے گا‘‘ رادھا نے کہا۔ میں سمجھ گیا تھا رادھا کیا چاہتی ہے؟ ہو سکتا ہے میں اس کی سفارش کرتا لیکن جب رادھا نے مجھے بتایا کہ یہ کینہ پرور عورت ہم سے بدلہ لینے کا پروگرام بنا رہی ہے تو میں نے بھی یہی مناسب سمجھا اسے اس کے انجام تک پہنچ جانا چاہئے۔ کالی داس کے آنے کے بعد یہ ناعمہ کو ضرور نقصان پہنچاتی۔

’’ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔تمہارے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا‘‘ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔

’’مم ۔۔۔میرا ہاتھ‘‘ وہ خوفزدہ نظروں سے اپنے بدنما ہاتھ کی طرف دیکھ کر گھگھیائی۔

’’یہ تمہیں یاد دلاتا رہے گا کہ تم نے کتنے لوگوں پر ظلم کیا ہے۔۔۔؟ اس کے علاوہ اس ہاتھ کے ساتھ تم کسی کو اپنے حسن کا شکار نہ بنا سکو گی‘‘ میں نے سنگدلی سے جواب دیا۔ وہ کچھ نہ بولی آہستہ قدموں سے جانے لگی۔

’’اپنے استاد سے کہنا اگر اسے تم سے محبت ہے تو دائرے سے باہر آکر تمہارا ہاتھ ٹھیک کر دے‘‘ میں نے پیچھے سے آواز لگائی۔ اس نے مڑ کر زخمی نظروں سے میری طرف اور باہر نکل گئی۔

’’چلو چلیں‘‘ میں نے صائمہ کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’فاروق بھائی! بیٹھیں نا ابھی تو میں نے آپ کی کوئی خاطر مدارت بھی نہیں کی۔‘‘ شرجیل کے سارے کس بل نکل چکے تھے اب وہ بالکل فدوی بنا ہوا تھا۔ جب دیکھا کہ اس کی بات کا جواب بھی کسی نے نہیں دیا تو بری طرح شرمندہ ہوگیا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا