وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر35

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر35
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر35

  

گاماں رستم زماں کے دیرینہ حریف زبسکو کا خط کیا آیا کہ ایک تہلکہ مچ گیا۔ مہاراجہ پٹیالہ تو غصے سے بھر گیا عوام بھی حیران تھے کہ گاماں سے شکست خوردہ رستم کو اٹھارہ سال بعد یہ کیا سوجھی ہے کہ گاماں سے دوبارہ کشتی کیلئے عجیب عذرلنگ پیش کر رہا ہے۔ زبسکو نے مہاراجہ کو لکھا۔

’’میرا گاماں سے مقابلہ ادھورا رہا تھا۔ میں آپ کے رستم سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں‘‘۔ مہاراجہ نے گاماں کو خط سنایا اور کہا۔ ’’دیکھو اس فرنگی کی اولاد کو کس بے شرمی سے اپنی شکست پر پردہ ڈال رہا ہے‘‘۔

گاماں نے کہا۔ ’’حضور! تو اس مقابلے میں تردد کیسا؟ میں تو تیار ہوں آپ اسے کہیں کہ آ جائے‘‘۔

مہاراجہ نے زبسکو کو خط لکھا اور اسے چالیس ہزار روپے سفری اخراجات کے طور پر مہیا کرنے کا بھی کہا۔ زبسکو خط ملتے ہی آ پہنچا۔ اس سے قبل مہاراجہ نے اس بین الاقوامی کشتی کیلئے ایک نیا سٹیڈیم بنانے کیلئے حکم دیا۔ سٹیڈیم ایک انگریز انجینئر نے چھ ماہ کے عرصہ میں بنا دیا تھا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جنوری 1928ء میں کشتی کا انعقاد کیا گیا۔ مہاراجہ نے تمام ریاستوں کے راجوں، نوابوں کو دعوت دی تقریباً 108 راجے، مہاراجے یہ کشتی دیکھنے کیلئے آئے۔

گاموں بالی والے نے یہ موقع غنیمت جانا اور گونگے کا چیلنج دے دیا۔ امام بخش نے اسے قبول کیا اور یوں اس بین الاقوامی کشتی سے ایک روز قبل گونگے اور امام بخش کے درمیان مقابلہ ہوا۔

یہ 28 جنوری کا دن تھا گونگا بپھرے طوفان کی طرح امام بخش پر جھپٹ رہا تھا۔امام بخش نے اسے کنڈا ڈال کر چت کرنا چاہا تو گونگا کا جوالامکھی اپنی انتہاؤں کو پہنچ گیا۔ اس نے دلیری کی ایک بے مثال تاریخ رقم کر دی اور امام بخش کو گردن کے زور پر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ امام بخش ایک پہاڑ تھا تو گونگا کی یہ جرات بھی حیران کن تھی۔ امام بخش گونگے کے گلے میں توری کی طرح لٹک کر رہ گیا۔ پھر وہ بمشکل اکھاڑے تک پاؤں پہنچانے میں کامیاب ہوا جیسے ہی اکھاڑے میں پاؤں ٹکے امام بخش نے گونگے کو ڈھاک مار کر چت کر دیا۔امام بخش کے ہاتھوں گونگا کی یہ تیسری شکست تھی۔

دوسرے روز یعنی 29 جنوری 1928ء کو گاماں اور زبسکو اکھاڑے میں اترے۔ زبسکو نے یہ کشتی دیسی طرز پر لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا۔وہ اپنی تیاریوں میں تھا۔ یہ کشتی بھی یک طرفہ تماشا تھی ادھر مناسک پہلوانی ادا ہوئے اور ادھر گاماں نے زبسکو کے پٹ کھینچ کر چت کر دیا۔ اس میں زیادہ سے زیادہ 30 سیکنڈ لگے تھے۔ تماشائیوں کو کشتی سے محفوظ ہونے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ گاماں جب مہاراجہ کو سلامی دینے پہنچا تو مہاراجہ نے کہا۔ ’’پہلوان جی آپ نے تو نظارے بھی نہیں کرنے دئیے۔ آپ نے کیا جنتر پھونک دیا تھا‘‘۔

گاماں نے کہا۔ ’’حضور جنتر منتو والی تو کوئی بات نہیں۔میں اگر اسے زیادہ وقت دیتا تو دنیا کیسے باور کرتی کہ میں رستم زماں ہوں۔ میرا کرشمہ یہی تھا کہ میں اسے ایک منٹ کے اندر اندر گرا دوں‘‘۔

انگریز انجینئر جس نے سٹیڈیم بنایا تھا وہ بھی قریب آ گیا۔اس نے شکایتاً کہا۔

’’پہلوان جی ہم نے سٹیڈیم بنانے میں چھ ماہ لگا دئیے آپ کم از کم چھ منٹ تک ہی کشتی کو طول دے دیتے‘‘۔

گاماں نے کہا۔ ’’نہیں صاحب بہادر میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اگر میں چھ منٹ صرف کر دیتا تو زبسکو کیلئے یہ عزت افزائی ہوتی اور میں اسے زیادہ خوش ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا‘‘۔

بعد میں جب گاماں جی سے اس کشتی کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے۔ ’’بھئی جس نے گھڑی دیکھی وہ کشتی نہ دیکھ سکا اور جس نے سگریٹ سلگایا وہ بھی کشتی دیکھنے سے محروم رہ گیا‘‘۔

گونگا علیا خاندان پر دانت تیز کرنے کا عادی ہو گیا تھا۔ گاماں کلو والا کو پے در پے شکستیں دینے کے بعد وہ دوبارہ عروج کی طرف گامزن تھا۔ گاماں کلووالا کے بعد اس خاندان میں کوئی بھی ایسا جوان نہ تھا جو گونگے کی صورت میں اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کر سکے۔ اب پھر یہی صورتحال تھی جو غلام پہلوان کی وفات کے بعد کیکر سنگھ نے پیدا کر دی تھی اور اس کیلئے کلو پہلوان کو اپنے خاندان کی عزت و وقار کی خاطر اکھاڑے میں آنا پڑا اور اس کی روک کی۔ گاماں کلووالا انتہائی فنکار اور جوشیلا و غصیلا تھا مگر گونگے نے اس کی تمام فنکاری کو مات دے دی تھی۔

اس ناامیدی کے دور میں رحمان پہلوان کا بیٹا عبدالحمید المعروف حمیدا پہلوان انگڑائیاں لینے لگا۔ ابھی وہ کم عمر ہی تھا جب اس نے اپنے بہنوئی امام بخش کی گونگا کے ہاتھوں رسوائی دیکھی۔ پھر جب گونگے نے اس کے تایا زاد گاماں کلووالا کو پے در پے شکستیں دیں تو وہ جھلا گیا اور اپنے گھر والوں سے کہتا پھرتا۔

’’میں گونگے سے لڑوں گا۔۔۔ مجھے کب موقع دو گے‘‘۔

اہل خانہ کیلئے حمیدے کا یہی رحجان کافی تھا۔ انہیں امید بندھ گئی کہ حمیدا اس خاندان کی ڈھال بن جائیگا۔ ادھر امام بخش نے بھی علیا خاندان کو مشورہ دیا کہ حمیدے کو تیار کیا جائے۔ اس کا ایک مقصد تہری ڈھال بنانا تھا امام بخش حمیدے کو اپنی ڈھال بنانا چاہتا تھا۔

حمیدے اور گونگے میں ایک قدر مشترک تھی۔ دونوں بچپن میں عام بچوں جیسے تھے۔ پہلوان کے رحجان سے نابلد تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ اس طرف راغب ہو گئے تھے۔ حمیدا پہلوان کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔ 29 نومبر بروز اتوار 1931ء میں گاماں کلووالا اور گونگے کے درمیان پھر مقابلہ طے پا گیا۔ عین وقت پر گاماں کلووالا بیمار پڑ گیا۔ کشتی ہر صورت میں ضروری تھی۔ لہٰذا حمیدا پہلوان کو گونگے کے مقابلہ میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ کشتی سرائے جگن ناتھ گورکھ نارتھ مال منڈی امرتسر میں ہوئی۔ منصفین میں احمد بخش بھکی والا، ملک سلیمان خاں مجسٹریٹ اور خواجہ محمد عمر ایس پی امرتسر شامل تھے۔ کشتی شروع ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے کہ دنیا نے ایک عجیب تماشا دیکھا۔

حمیدے کی تیاریوں میں انتقام کا جوش بھی تھا اور طوفان سے ٹکرانے کا تجسس بھی۔اس نے بڑی قلیل مدت میں خود کو ایک بڑے امتحان میں سرخرو ہونے کیلئے تیار کر لیا تھا۔ جوں جوں گونگے سے نبردآزما ہونے کا وقت قریب تر ہو رہا تھا، اس کی بے چینیوں کی انتہا ہو رہی تھی۔ ادھر گونگا بھی علیا خاندان کے ایک اور شاہ زور کو نگلنے کیلئے بے تاب تھا۔ وہ تو حمیدے کو کچھ بھی اہمیت نے دے رہا تھا بلکہ اسے مال مفت سمجھ کر ہڑپ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

کشتی کے روز حمیدے کا اکھاڑے میں اتارنا بڑا دلکش منظر تھا۔ امرتسری پہلوان حمیدے کو ایک جلوس کی صورت میں دنگل گاہ میں لائے۔ اس کے حواری ایک مضبوط بانس پر اس کے تایا غلام پہلوان رستم دوراں کا جانگیہ بطور علم لہرا رہے تھے۔حمیدا پہلوان سفید تہبند اور سفید اچکن کی کھلی آستین والی قیمض پہنے گلے میں سرخ ’’پرنا‘‘ لٹکائے ہوئے بڑی مست خرامی سے چل رہا تھا۔یہ حمیدے کے خاندانی رعب و دبدبے کا ایک بھرپور نظارہ تھا۔ وہ پہلوان ابن پہلوان تو تھا ہی مگر اس نے اب تک کی کشتیوں میں یہ بھی ثابت کر دیا تھا کہ وہ اپنے خاندانی جاہ و جلال کی نمود کا حق ادا کرنا جانتا ہے، تبھی خود اعتمادی کے ساتھ حواریوں کے جلو میں اکھاڑے میں یوں اتارے کو جائز سمجھتا تھا۔

امام بخش رستم ہند، گاماں رستم زماں، گاماں کلووالا، رحمانی پہلوان نے حمیدے کو لنگوٹ کس کر میدان میں اتار دیا۔ وہ بڑی پُراعتماد چال چلتا ہوا اکھاڑے میں آیا۔ اس کا فولادی بدن دیکھ کر ہر کوئی عش عش کر اٹھا۔ گونگا رستم ہند بھی سپاٹے مارتا ہوا اکھاڑے میں اترا۔ اس نے تماشائیوں کی طرف بڑی شان سے دیکھا اور اپنی دائیں ہتھیلی پر پھونک مار کر دھول اڑائی اور معنی خیز نظروں سے حمیدے کو دیکھا۔تماشائی جان گئے کہ گونگا کی ساکت زبان اشاروں کنائیوں میں کیا بیان کر گئی ہے۔ حمیدا گونگے کی اس حرکت پر متانت آمیز انداز میں مسکرایا۔ پھر مناسٹک کشتی ادا ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کو نظروں ہی نظروں میں تولنے لگے۔(جاری ہے)

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

طاقت کے طوفاں -