وہ وقت جب شہزادی ڈیانا نے اپنے شوہر کو بے وفائی کرتے باتھ روم میں رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور پھر۔۔۔

وہ وقت جب شہزادی ڈیانا نے اپنے شوہر کو بے وفائی کرتے باتھ روم میں رنگے ہاتھوں ...
وہ وقت جب شہزادی ڈیانا نے اپنے شوہر کو بے وفائی کرتے باتھ روم میں رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور پھر۔۔۔

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)لیڈی ڈیانا 31اگست 1997ءکو پیرس میں ایک کارحادثے میں جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ان کی 20ویں برسی قریب آنے پر ان کے متعلق کچھ نئے انکشافات بھی منظرعام پر آ رہے ہیں۔ ان کے ایک ذاتی گارڈ نے بھی ایک ایسا ہی حیران کن انکشاف کیا ۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق کین وارفے نامی باڈی گارڈ نے چینل 4پر نشر ہونے والی ایک ڈاکومنٹری میں بتایا ہے کہ ”ایک بار لیڈی ڈیانا نے اپنے شوہر شہزادہ چارلس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ وہ باتھ روم میں بیٹھ کرفون پر اپنی محبوبہ کیمیلا سے فحش گفتگو کر رہا تھا۔ ڈیانا کو باتھ روم سے مشکوک قسم آوازیں سنائی دیں تو انہوں نے معاملے کی کھوج لگانے کا فیصلہ کیا۔ شہزادہ چارلس برہنہ حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اور اس نے اپنا فون کان سے لگا رکھا تھا۔ وہ کیمیلا کے ساتھ انتہائی فحش قسم کی باتیں کر رہا تھا اور ساتھ جنسی حرکات بھی کر رہا تھا۔ دوسری طرف سے بھی یقینا ایسی ہی باتیں کی جا رہی تھیں، جس کا اظہار چارلس کی حالت سے ہو رہا تھا۔ دراصل ایسا پہلی بار نہیں تھا کہ ڈیانا نے چارلس کو کیمیلا کے ساتھ قابل اعتراض باتیں کرتے پکڑا تھا لیکن یقینا ایسی فحش حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس کے کچھ دن بعد ایک ملاقات میں کیمیلا اور ڈیانا کے درمیان کچھ تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا تھا۔ اس روز ڈیانا کو یقین ہو گیا تھا کہ اب اس کی ازدواجی زندگی کا خاتمہ یقینی ہو گیا ہے۔“

کین وارفے نے بتایا کہ ”کیمیلا اور چارلس کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد جب پارٹی میں ڈیانا کا کیمیلا سے سامنا ہوا تو اس نے کیمیلا سے کہا کہ ’دیکھو! جو کچھ چل رہا ہے میں سب جانتی ہوں، تم مجھے احمق مت سمجھو۔‘اس کے جواب میں کیمیلا نے شہزادی ڈیانا سے کہا کہ ’اچھاڈیانا!یہ تمہارے لیے ٹھیک ہو گا۔ تم دو شاندار بیٹوں کی ماں ہو۔ اس سے جو اخذ کرنا چاہتی ہو کرو، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتی۔‘یہ وہ وقت تھا جب ڈیانا کو یقین ہو گیا کہ شہزادہ چارلس کے ساتھ مصالحت کی اب کوئی امید نہیں۔ ڈیانا کو اس ملاقات سے یقین ہو گیا تھا کہ چارلس اور کیمیلا کا تعلق ختم ہونے والا نہیں اور یہ ان کی شادی کے خاتمے کا آغاز ہے۔“

مزید :

برطانیہ -