پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی عدالت عظمیٰ میں چیلنج

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی عدالت عظمیٰ میں ...
پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی عدالت عظمیٰ میں چیلنج

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی کو سپریم کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کر دیا گیاہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی سے پاناما کیس کا ٹرائل متاثر ہو گا۔

شکست خوردہ سیاسی عناصر آج جو بیج رہے ہیں اس پر کل انہیں پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے گا:شہبازشریف

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں یہ آئینی درخواست وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ خان کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ سپریم کورٹ نے مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن کو پاناما کیس کے ٹرائل کے لئے مانیٹرنگ جج مقرر کیا ہے جو آئین کے آرٹیکل 10(اے )کے تحت فیئر ٹرائل کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے کہ اپنا جج کسی بھی کیس کے ٹرائل کے اوپر بٹھا دے، ٹرائل کورٹ کا جج سپریم کورٹ کے جج کے دباﺅ میں آکر ٹرائل کرے گا اور لازمی طور پر پاناما کیس کے ٹرائل کا فیصلہ میاں محمدنواز شریف خاندان کے خلاف ہی آئے گا، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ماضی میں ایک بھی عدالتی نظیر ایسی نہیں ہے جس میں سپریم کورٹ کے جج کو مانیٹرنگ جج تعینات کیا گیا ہو، پاناما کیس کے فیصلے کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اور ماضی کے ڈکٹیٹر سویلین حکومت کو غلط اور ڈکٹیٹرشپ کو درست قرار دے رہے ہیں جو آئین کی روح کے خلاف ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ پاناماکیس کے ٹرائل کے لئے اپنے جج کی بطور مانیٹرنگ جج تعیناتی کا حکم واپس لے، درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ سیاسی بھگوڑے افراد کو پاکستان لاکر ان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ کیا جائے۔

مزید :

لاہور -