یہ لڑکی اپنے ملک میں انتہائی شرمناک حرکت کرکے بھاگ کر سعودی عرب آگئی، کیا کیا تھا؟ حقیقت سامنے آئی تو سعودی عرب میں بھی ہنگامہ برپاہوگیا، فوری پکڑنے کی کوشش شروع کیونکہ۔۔۔

یہ لڑکی اپنے ملک میں انتہائی شرمناک حرکت کرکے بھاگ کر سعودی عرب آگئی، کیا کیا ...
یہ لڑکی اپنے ملک میں انتہائی شرمناک حرکت کرکے بھاگ کر سعودی عرب آگئی، کیا کیا تھا؟ حقیقت سامنے آئی تو سعودی عرب میں بھی ہنگامہ برپاہوگیا، فوری پکڑنے کی کوشش شروع کیونکہ۔۔۔

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی ایک ممتاز یونیورسٹی میں لیکچرر کے عہدے پر فائز لبنانی خاتون کے متعلق اس انکشاف نے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ادویات کی جعلسازی کے مقدمے میں مطلوب ہونے کے باوجود مملکت میں ایک باعزت عہدے پر فائز ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس تہلکہ خیز انکشاف کے بعد سعودی وزیر تعلیم احمد العیسٰی کا بیان سامنے آیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ناردرن بارڈرز یونیورسٹی کے صدر ایک ایڈہاک کمیٹی قائم کریں جو اس معاملے کا جائزہ لے کہ مونا بالباکی نامی خاتون لیکچرر کو کس طرح سعودی عرب میں کام کرنے کیلئے منتخب کر لیا گیا۔

سعودی پولیس اس آدمی کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مارنے لگی، اس نے کیا خوفناک ترین کام کیا؟ جان کر کوئی بھی کانپ اُٹھے

میڈیا رپورٹس کے مطابق مونا اس سے پہلے لبنانی دارالحکومت کے رفیق حریری ہسپتال میں فارماسسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ان کے خلاف لبنان میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔ لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مونا بالباکی نے بطور فارماسسٹ اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کینسر کی ادویات میں جعلسازی کی۔ انہوں نے اصلی ادویات کی بھاری مقدار انتہائی مہنگی قیمت پر فروخت کر ڈالی جبکہ اس کے بدلے جعلی ادویات ہسپتالوں اور مریضوں کو فراہم کیں۔ الزامات کے مطابق ان کے اس فعل کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔ لبنانی حکام اس معاملے کی تفتیش کررہے ہیں۔

لبنان میں جاری تفتیش کے باوجود وہ سعودی عرب کی یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی ہونے کے الزامات سامنے آنے کے بعد روزنامہ اوکاز کو دئیے گئے ایک بیان میں مونا بالباکی نے ان تمام الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عید کی چھٹیوں کیلئے لبنان گئی ہیں اور عیدالاضحی کے بعد واپس آ کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

مزید :

عرب دنیا -