جج اور وکلاءاخلاق کا دامن نہ چھوڑیں ،آپس میں محبت قائم کریں اور مظلوموں میں انصاف بانٹیں:چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

جج اور وکلاءاخلاق کا دامن نہ چھوڑیں ،آپس میں محبت قائم کریں اور مظلوموں میں ...
جج اور وکلاءاخلاق کا دامن نہ چھوڑیں ،آپس میں محبت قائم کریں اور مظلوموں میں انصاف بانٹیں:چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ججوں اور وکلاءکا اولین مقصد سائلین کو انصاف فراہم کرنا ہے اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے باراوربنچ کو مثالی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔موجودہ دور انٹرنیٹ کا ہے نوجوان وکلاءکو دورحاضر کی جدیدتعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے صوبہ بھر کی بارزمیں ای لائبریریوں کاقیام عمل میں لایا جارہا ہے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،جج اوروکلاءایک دوسرے کی عزت واحترام کاخیال رکھیں۔

حافظ قرآن طالبہ کو اضافی 20نمبر کیوں نہیں دیئے ،ہائی کورٹ نے کنیئرڈ کالج کی پرنسپل سے جواب طلب کرلیا

چیف جسٹس ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ساہیوال کی دعوت پر بارروم میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میر ی خوش قسمتی ہے کہ میں ساہیوال کی عظیم بار سے خطاب کر رہا ہوں کیونکہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں ساہیوال کے وکلاءکا کردار نا صرف مثالی بلکہ تاریخی تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار کی قوت مل کر مظلوم لوگوں کو انصاف دلا سکتی ہے وکلاءاور ججز ایک خاندان ہیں ہم میں سے کسی نے ادھر سے ادھر جانا ہے اور کسی نے ادھر سے ادھر آنا ہے آج میں جج ہوں کل وکیل کے طور پر آپ میں بیٹھا ہوں گا اور کل آپ میں سے جج بن کر ہائی کورٹ میں آئیں گے، اس لئے ہمارا رشتہ مظبوط سے مظبوط ہونا چاہیے اگر ہم آپس میں اتحاد قائم کرکے مظبوط ہوں گے تو عدلیہ اور بار بھی مضبوط ہوگی۔ ججز اور وکلاءکو اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہے جس سے اس اتحاد میں مزید قوت بڑھے گی انہوں نے وکلاءاور ججوںسے کہا کہ میرے دروازے ہر وقت آپ کے لئے کھلے ہیں آپ میں سے کسی کوکوئی مسئلہ تو مجھے بتائیں اور آ ﺅمل جل کر ان دونوں اداروں کو مضبوط بنائےں محبت قائم کریں اور مظلوم لوگوں میں انصاف بانٹیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سسٹم صوبہ کے 36اضلاع اور 88تحصیلوں میں قائم کر دیا گیا ہے اور ہماری اول ترجیح لوگوں کے مسائل کو حل کرنا ، عدالتی سسٹم کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق کرنا ، عدلیہ میں بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں گی ، پاکستان میں عدلیہ کا مستقبل روشن ہے ہماری ینگ جنریشن تعلیم یافتہ ہے اور ہم نے ڈائریکٹوریٹ جوڈیشل سسٹم ری پلیس کرکے ایم آئی ٹی سسٹم لاہور سے منسلک کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مل جل کر ادارے کو مضبوط کرنا ہے ،عنقریب ڈویژنل سطح پرجو کورٹس ورکنگ پوزیشن میں نہیں ہیں ان کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس موقع پر انسپکشن جج ساہیوال جسٹس مامون الرشید ‘،مسٹر جسٹس امین الدین خان ،مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی ،رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سید خورشید انور رضوی ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال چودھری امیر محمد خان ،صدرڈسٹرکٹ بار چودھری انور،جنرل سیکرٹری چودھری عثمان علی ،کمشنر ساہیوال ڈویژن بابر حیات تارڑ،آری ساہیوال طارق رستم چوہان ،ڈی پی ساہیوال ڈاکٹر عاطف اکرام ، جوڈیشنل افسران اورو کلاءکی کثیر تعداد موجود تھی۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمپلیکس میں ای لائبریری ،گارڈین بلاک ،ایکسپریس الیکٹرک فیڈر سمیت کئی اہم منصوبہ جات کا افتتاح اورسنگ بنیاد رکھا۔انہوں نے فیملی اوروزیٹیشن روم اورمصالحتی سنٹر کا بھی عملی معائنہ کیا، مصالحت کارسول جج محمد نعیم نے انہیں مقدمات بارے بریفنگ دی جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اورانہیں شاباش دی۔قبل ازیں چیف جسٹس ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچے جہاں پر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔اس موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے جس کی نگرانی آر پی او ،ڈی پی او کررہے تھے اس موقع پرکمشنر سمیت انتظامی افسرا ن بھی موجود تھے ۔

مزید :

لاہور -