عدلیہ سرے محل کیس اور سوئس بینکوں کے کیسز کو کھول کر تحقیقات کرائے: اعجاز الحق

عدلیہ سرے محل کیس اور سوئس بینکوں کے کیسز کو کھول کر تحقیقات کرائے: اعجاز ...
عدلیہ سرے محل کیس اور سوئس بینکوں کے کیسز کو کھول کر تحقیقات کرائے: اعجاز الحق

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق نے عدلیہ سے سرے محل کا کیس کھولنے اور سوئس بنکوں میں پڑے 60 ملین ڈالرز اور لاکرز میں رکھے ہوئے زیورات بھی واپس لانے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو چاہیے کہ وہ این آر او کے تحت ختم ہونے والے کیس دوبارہ سنے کیونکہ این آر او کالعدم ہو چکا تھا اور اسی قانون کے تحت سرے محل،سوئس بنکوں میں پڑے ہوئے 60 ملین ڈالرز اور زیورات واپس لائے جانے چاہیے اور ان کی بھی منی ٹریل سامنے لائی جائے .

نواز شریف کو ہر فورم پر دفاع کا موقع ملا، نیب کیسز سے بچنے کے لئے سارا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے: عمران خان

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ضیاء) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق کا کہناتھا کہ جب سرے محل کا کیس چل رہا تھا تو آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن جب اسے قومی ملکیت میں لینے کی بات ہوئی تو اسے اپنی جائداد تسلیم کر لیا، یہ معاملہ عدلیہ کے ذریعے قانون کے مطابق اب حل ہونا چاہیے کیونکہ ان مقدمات پر سیف الرحمن نے لاکھوں ڈالرز خرچ کیے تھے۔سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور فوج سب کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ملک کو مسائل سے باہر نکالنا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں، مسلم لیگ(ن) میں نواز شریف کا کوئی متبادل نہیں ،سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہ ہونا ہی ہمارے جمہوری نظام کی کمزوری ہے تاہم ملک میں جمہوریت چلنی چاہیے۔ملک میں جمہوری عمل اس وقت مضبوط ہو گا جب سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لائیں گی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کمزور ہوئی تو وفاق میں بھی حکومت نہیں بنا سکے گی ، مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کا قلعہ نہیں چھوڑنا چاہیے اور اگلے عام انتخابات میں پہلے سے زیادہ بہتر نتائج کے لیے پنجاب پر توجہ دی جائے۔

جی ٹی روڈ سے خود کو بحال کرانے نہیں، گھر جا رہا ہوں،نااہلی کا فیصلہ ہو چکا تھا صرف جواز ڈھونڈا گیا ،نواز شریف

اعجاز الحق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حیثیت بہت ہی حساس جیو پولٹیکل ہے اور اس وقت ہندوستان کی جانب سے ہمیں چیلنجز ہیں، ہمارا ایٹمی پروگرام دشمن کی نظر میں کھٹک رہا ہے، سی پیک کے منصوے اور ضرب عضب اور گوادر کی وجہ سے ہمیں ہمارے دوست اور دشمن دونوں غیر مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، امریکہ نئی پالیسیاں لارہا اور افغانستان میں مزید فوج بھیج رہا ہے ، اسی لیے ہمارے ملک کے جمہوری اور دیگر تمام اداروں کو اپنے اپنے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے پوری توجہ سے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اور فعال ہونا چاہیے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -