آر ٹی ایس۔۔۔تحریک انصاف بھی تحقیقات کی خواہاں 

آر ٹی ایس۔۔۔تحریک انصاف بھی تحقیقات کی خواہاں 

الیکشن 2018ء میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی متوقع حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی انتخابی نتائج میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے آر ٹی ایس کی ناکامی کے متعلق ’’توجہ دلاؤ نوٹس‘‘ سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آر ٹی ایس کی ناکامی کی وجوہ اور اس کی ناکامی سے انتخابی نتائج کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔پورا دن شفاف انتخابات کا عمل جاری رہا، نتائج کے وقت آر ٹی ایس کیسے ناکام ہوا اور اس ناکامی کے ذمہ دار کون ہیں اس سب کی تحقیقات ضروری ہے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن کابینہ ڈویژن کو خط لکھ چکا ہے جس میں اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کہا گیا ہے، تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کابینہ ڈویژن نے الیکشن کمیشن کے اس خط پر کیا فیصلہ کیا۔ سینیٹ کے ایک اور رکن رضا ربانی بھی یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے سینیٹ کے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو ٹی او آر بنا کر اس کی وسیع تر تحقیقات کرے۔ متحدہ اپوزیشن جماعتیں تو پورے انتخابی عمل ہی کو مشکوک قرار دے رہی ہیں اور ایم ایم اے اور جی ڈی اے نے مختلف مقامات پر مظاہرے بھی کئے ہیں، قومی اسمبلی کی تشکیل ہوتے ہی یہ ایشو ایوان میں آ جائے گا۔

سینیٹر اعظم سواتی کے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرانے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کو بھی تحقیقات کے معاملے سے اتفاق ہے گویا یہ مطالبہ اب تمام سیاسی جماعتوں کا مطالبہ بن چکا ہے۔اس لئے بلا تاخیر تحقیقات کا آغاز کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جب الیکشن کمیشن خود یہ جاننا چاہتا ہے کہ آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا اور اس کی ذمے داری کے تعین کے لئے اس نے کابینہ ڈویژن کو خط بھی لکھ دیا ہے تو پھر اس کارخیر میں تاخیر مناسب نہیں۔ ابھی سینیٹ کا اجلاس نہیں ہو رہا جونہی اجلاس طلب کیا جائیگا سینیٹر اعظم سواتی کے توجہ دلاؤ نوٹس کے حوالے سے اس معاملے پر بحث شروع ہو گی اور عین ممکن ہے اس کے ذریعے بعض ایسے معاملات بھی سامنے آ جائیں جن کے بعد تحقیقات کو روکنا ممکن نہ ہو اس لئے بہتر یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اس سے پہلے ہی دو سینیٹروں کی تجویز مان کر فل ہاؤس کمیٹی بناکر تحقیقات کا کام اس کے سپرد کردیں۔

سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوگی کہ آر ٹی ایس میں خرابی کیوں پیدا ہوئی اور اس نے کام کرنا کیوں چھوڑا، کام چھو ڑا بھی یا نہیں کیونکہ اس سسٹم کو تیار کرنے والے باوقار ادارے نادرا کا موقف ہے کہ جس وقت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ آر ٹی ایس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے یہ سسٹم اس وقت بھی کام کررہا تھا، اب سوال یہ ہے کہ اگر سسٹم درست طور پر کام کررہا تھا تو سیکرٹری الیکشن کمیشن کو یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی کہ آر ٹی ایس کام نہیں کررہا اس لئے اب نتائج پرانے طریقے سے جمع کئے جائیں گے اس سے پہلے اگر کسی کا خیال تھا کہ جیتنے والی جماعت کو اس معاملے سے دلچسپی نہیں کیونکہ وہ تو اب حکومت سازی کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے اور متوقع طور پر چند دن میں نئی حکومت بن جائیگی تو سینیٹر اعظم سواتی کے توجہ دلاؤ نوٹس سے واضح ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف بھی چاہتی ہے کہ نہ صرف اس معاملے کی تحقیقات ہو بلکہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھانے کے لئے نوٹس بھی دے دیا ہے اس لئے سینیٹ کو اس ضمن میں پہل کرکے کمیٹی بنا دینی چاہئے۔ اس طرح جو تحقیقات ہوگی وہ زیادہ جامع اور قابل اعتماد قرار پائے گی کیونکہ کمیٹی میں تمام کے تمام منتخب نمائندے شامل ہوں گے اور حکمران جماعت سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی ہوگی سرکاری سطح پر اگر کوئی تحقیقات بن بھی گئی تو ممکن ہے اس کی تحقیقات کا دائرہ کار محدود ہو اور وہ سچ سامنے نہ آسکے جو آئے بغیر معاملے کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہے۔

اس کام کے دو حصے ہیں اول یہ کہ ایک سسٹم جو پہلی بار آزمایا جارہا تھا ناکام کیوں ہوا کیا اس میں کوئی فنی خرابی تھی یا کوئی اور وجہ تھی دوسری بات یہ معلوم کرنے والی ہے کہ الیکشن کمیشن نے اگر کروڑوں روپے کے اخراجات سے یہ سسٹم بنوایا تھا۔ تو کیا اس امر کی یقین دہانی حاصل کرلی گئی تھی کہ یہ اطمینان بخش طور پر کام کرتا رہے گا اور کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی جس انداز میں سسٹم نے کام بند کیا اور الیکشن کمیشن اور نادرا حکام کا جو الگ الگ موقف سامنے آیا اس نے اِس سارے معاملے کے گرد اسرار کا ایک ہالہ سا بنا دیا ہے، پھر یہ تحقیقات بھی ضروری ہے کہ کیا سسٹم کی خرابی نے نتائج کو متاثر کیا یہ سوال اہم ہے کہ اگر سسٹم کام کررہا ہوتا تو کیا وہی نتائج آتے جو آئے، یہ جاننا اِس لئے ضروری ہے کہ آر ٹی ایس کی ناکامی نے اگر نتائج کو منفی یا مثبت متاثر نہیں کیا اور صرف نتائج کی تاخیر کا باعث بنا تو یہ الگ بات ہے اور اگر تاخیر کے ساتھ ساتھ یہ نتائج کو بھی متاثر کرنے کا باعث بن گیا تو یہ صورت حال بہت الارمنگ ہے ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر نیک نیتی کے ساتھ تحقیقات کا آغاز کردیاجائے تو معاملے کو سمجھنے میں پوری طرح مدد مل سکتی ہے، ابھی ارکان کے حلف اٹھانے کے بعد جو نشستیں خالی قرار پائیں گی ان پر ضمنی انتخاب بھی دو ماہ کے اندر ہوگا اندازے کے مطابق چالیس پچاس کے لگ بھگ نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی عام انتخاب کے بعد ایک بڑا کام ہوگا اور اسے ’’مِنی جنرل الیکشن‘‘ ہی قرار دیا جائیگا، الیکشن کمیشن کو بتانا چاہئے کہ کیا آر ٹی ایس ضمنی انتخابات کے نتائج ارسال کرنے کے لئے استعمال ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو کس حد تک لائق اعتبار ہوگا، کہیں پہلے کی طرح دھوکا تو نہیں دے جائیگا اس سے یہ بھی واضح ہوگا کہ آر ٹی ایس مستقل طور پر خراب ہوا ہے یا وقتی خرابی کے بعد دوبارہ قابل استعمال ہے، تحقیقات کا آغاز کردیا جائے تو ایسے سب سوالات کا جواب بھی مل جائیگا اس لئے بسم اللہ کر دینی چاہئے۔ 

مزید : رائے /اداریہ