’’لاگا انگلی پہ داغ‘‘

’’لاگا انگلی پہ داغ‘‘
’’لاگا انگلی پہ داغ‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پچیس جولائی کے دن کو بھی خوشی کے دِن کے طور پر لیا، اور اپنے روزانہ کے شیڈول میں تبدیلی کر دی۔ مثال کے طور پر صبح کی نماز کے بعد کی واک کو شام کے شیڈول میں رکھ دیا اور صبح کی واک کے بعد ناشتے سے پہلے اپنے ہارمونیم پراپنا پسندیدہ گیت

’’سیوں نی میرا دِل دھڑکے‘‘

کی جگہ، جگہ جگہ گونجنے والے گیت

’’عمران خان دے جلسے اج

میرا نچنے نوں جی کردا‘‘

گاتے ہوئے گلا صاف کیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ گلا اس قدر ’’بے باک‘‘ ہو گیا کہ واپس اسے اپنی جگہ پر لانے کے لئے مجھے ایک بار پھر

’’سیوں نی میرا دِل دھڑکے‘‘

گانا پڑا، پچیس جولائی کے لئے مَیں نے اپنا پسندیدہ کاٹن کا جوڑا مایہ لگا کے ایک دن پہلے ہی تیار کر رکھا تھا۔بالوں اور داڑھی کو بھی ایک ’’سپیشل کاریگر‘‘ سے بنوایا۔۔۔جس نے نہ صرف بالوں اور داڑھی کو ایک ’’لُک‘‘ دی بلکہ اس انداز میں رنگ بھی دیا کہ جوان جوان سا نظر آنے لگا،اِس بات کا احساس مجھے اپنی بیگم کے اس جملے سے بھی ہوا جب انہوں نے کہا۔۔۔آئندہ اِس’’نائی‘‘ سے حجامت نہیں کرانا، کم بخت نے بالکل لڑکوں جیسا حلیہ بنا دیا ہے۔

اِس بات کا مزید احساس مجھے اُس وقت بھی ہوا، جب مَیں گلی میں نکلا تو کل تک مجھے انکل انکل کہنے والے کئی نوجوانوں نے ’’بھائی جان بھائی جان‘‘ کہہ کے مخاطب کیا۔۔۔ بہرحال ناشتہ کرنے کے بعد مَیں سیدھا پولنگ سٹیشن کی طرف نکل پڑا۔ گزشتہ دو روز سے مَیں اپنے ووٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے نمبر پر میسج کر رہا تھا تاکہ تصدیق ہو جائے کہ میرا ووٹ کہاں ہے،مگر کوشش کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔۔۔مَیں سیدھا ایک جماعت کے انتخابی کیمپ میں گیا، جہاں وہ لوگوں کو ووٹ نمبر کی پرچی لکھ لکھ کر دے رہے تھے۔مَیں نے اپنا شناختی کارڈ اُن کے حوالے کیا تو دس پندرہ منٹ تک تلاش کے بعد انہوں نے کہا آپ الیکشن کمیشن کے فون نمبر پر میسج کریں تاکہ ووٹ کے حوالے سے معلومات مل سکیں، مَیں نے کہا گزشتہ دو روز سے کوشش کر رہا ہوں،مگر کوئی جواب نہیں مل رہا۔ بہرحال انہوں نے اپنے فون سے کوشش کی تو جواب آ گیا۔۔۔مَیں نے پرچی لی۔۔۔ اور پولنگ سٹیشن کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ سب سے پہلے ایک پولیس والے سے ٹاکرا ہوا۔

یہ صاحب اتنے صحت مند تھے کہ اگر ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا سنبھالتے تھے تو پیٹ گر پڑتا تھا اور اگر پیٹ سنبھالتے تھے تو ڈنڈا گر پڑتا۔

ان سے آگے پاک فوج کے ایک جوان کھڑے تھے، جو کہ خاصے سمارٹ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق بھی تھے۔

اس نے آگے بڑھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا۔۔۔ تو مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ یہاں ہماری بھی کوئی عزت ہے۔دوسرے لمحے انہوں نے مجھ سے شناختی کارڈ طلب کیا۔۔۔ اور پھر اندر جانے کی اجازت دے دی۔

اندر کا ماحول درمیانہ قسم کا تھا، یعنی مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ بعض چہروں پر غصہ بھی نظر آیا۔ایک بار پھر مجھ سے شناختی کارڈ طلب کیا گیا۔۔۔مَیں نے شناختی کارڈ دکھایا تو ان صاحب نے کبھی مجھے اور کبھی شناختی کارڈ کو دیکھنا شروع کر دیا،اِس دیکھا دیکھی میں انہوں نے اپنے چہرے کے ایسے ایسے ’’نمونے‘‘ بنائے کہ مجھے اپنا آپ مشکوک نظر آنے لگا۔۔۔اِس دوران انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا شناختی کارڈ کی تصویر اور آپ کے حلیے میں بہت فرق ہے۔مَیں نے کہا یہ میرا ہی شناختی کارڈ ہے۔انہوں نے کہا یہاں آپ کے بال بھی کم ہیں اور داڑھی بھی نہیں ہے۔

آپ کی تصویر آپ سے بہت مختلف ہے، مَیں نے کہا مَیں نے سر پر ٹوپی رکھی ہوئی ہے تو پھر ’’بال‘‘ کہاں سے نظر آئیں؟داڑھی مَیں نے اب رکھی ہے تو کیا اب ووٹ کے لئے داڑھی منڈوانی پڑے گی؟ہمارے درمیان یہ بحث ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ ووٹر نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا: ایک دوسرے کا شجرۂ نسب نہ پوچھو، ووٹ کی پرچی دو اور آگے بڑھنے دو۔۔۔ اس اچانک ’’افتاد‘‘ پر وہ صاحب تھوڑے کھسیانے ہوئے اور مجھے پرچی دینے سے پہلے میرے انگوٹھے پر سیاہی لگانے کا عمل شروع کیا،ووٹ ڈالنے کے بعد مَیں نے محسوس کیا۔۔۔ کہ انگوٹھے پر لگائی جانے والی ’’نیلی سیاہی‘‘ کا رنگ کالا پڑتا جا رہا ہے اور پھر ایک ’’داغ‘‘ کی طرح ہو گیا ہے۔الیکشن کو گئے کافی دن ہو گئے ہیں، مگر میرے انگوٹھے پر ’’کالا داغ‘‘ ابھی تک موجود ہے۔ مَیں نے اس ’’داغ‘‘ کو دھونے کی بہت کوشش کی، مگر یہ داغ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ مَیں نے بھی اب اِس داغ کو دھونے کی کوشش ترک کر دی ہے اور اب اسے ’’قومی نشانی‘‘ کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔مَیں نے بزرگوں سے سُنا ہے کہ ہمارے مُلک میں انتخابات کے نام پر،قومی مفادات کے نام پر، طاقت کے نام پر، انصاف کے نام پر، ناانصافی کے نام پر، جمہوریت کے نام پر، مارشل لاء کے نام پر، جمہوریت پر ہی نہیں، قومی زندگی پر بھی کئی داغ ہیں، جو دھونے سے کیا۔۔۔ جان کے نذرانے دے کر بھی نہیں مٹ سکے اور ابھی تک وہ ’’داغ‘‘ چمک رہے ہیں۔

اِس الیکشن پر بھی ’’داغ‘‘لگا دیا گیا ہے، جو مٹنے والا نہیں ہے۔مَیں سوچ رہا ہوں کہ ہم یہ ’’داغ‘‘ لگانا کیوں نہیں چھوڑتے؟ داغ پر داغ لگانے سے ہمیں کیا ملتا ہے۔ہم اپنی قومی زندگی میں تبدیلی کیوں نہیں لاتے۔۔۔ ہم عوام کا فیصلہ عوام پر کیوں نہیں چھوڑتے؟ہم ماضی سے باہر کیوں نہیں نکلتے۔

اِس مُلک کے فیصلے اس مُلک کے عوام نے کرنے ہیں تو پھر کیوں نہیں کرنے دیتے۔ نواز شریف ، عمران خان، زرداری اگر ان کے بارے میں عوامی فیصلہ کرانا ہے تو پھر عوام کو اختیار کیوں نہیں دیتے۔

ہم جو کر رہے ہیں کیا اس سے ہماری قوم کا اعتماد بڑھے گا۔۔۔؟ کیا قوم اداروں پر اعتماد کرے گی۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ قوم اداروں پر اعتماد کرے گی یا کرتی ہے۔۔۔ عملی طور پر اعتماد کی فضا نظر نہیں آتی،ہر ایک شخص اپنے اپنے انگوٹھے کے داغ کے ساتھ پریشان ہے اور اِس داغ کو دھونے کا مطالبہ کر رہا ہے،مگر مَیں اپنے انگوٹھے کے داغ کو دھونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔مَیں آئندہ الیکشن تک اِس داغ کو سنبھالنے کی کوشش کروں گا اور پھر پولنگ سٹیشن میں دوبارہ انگوٹھے پر نشان لگوانے سے پہلے ریٹرننگ آفس سے پوچھوں گا کہ جناب یہ الیکشن ’’داغ‘‘ تو نہیں بن جائے گا۔ اگر اس نے مثبت جواب دیا تو ٹھیک ورنہ ووٹ دیئے بغیر واپس گھر آجاؤں گا۔۔۔ کیونکہ ووٹ کے بدلے’’داغ‘‘ نہیں لیا جا سکتا، ہاں۔۔۔ اب مَیں نے اپنا گانا بدل لیاہے۔۔۔ اب ہر صبح مَیں

’’سیوں نی میرا دِل دھڑکے‘‘

کی جگہ

’’لاگا اُنگلی‘‘ میں داغ مٹاؤں کیسے‘‘

گا کے اپنا گلہ صاف کرتا ہوں

مزید : رائے /کالم