جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور معاشرتی بے حسی

جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور معاشرتی بے حسی
جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور معاشرتی بے حسی

  

میں اپنے علاقے میں رپورٹ ہونے والے ایک جنسی زیادتی کے واقعہ کی چھان بین کر رہا ہوں۔ جس لڑکی سے مبینہ زیادتی ہوئی ہے اس کی عمر اسی مہینے چودہ سال ہوئی ہے، لیکن وہ دماغی اور جسمانی خدوخال سے گیارہ سال کی لگتی ہے اور پوری طرح نارمل نہیں ہے۔ اس بچی کا باپ معذور ہے، بچی کی والدہ بھی پوری طرح صحت مند نہیں ہے۔

بیان کے مطابق اس بچی کو اپنے ہی محلے کے ایک متمول اور طاقتور کنبے کا لڑکا بے ہوش کر کے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا( گھر خالی پڑا ہوا ہے) اور رات بھر لڑکی سے زیادتی کرتا رہا اور صبح لڑکی کو بے ہوشی کے عالم میں چھوڑ کر اپنے دوسرے گھر (جہاں لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہے) چلا گیا اور جب لڑکی کو دن گیارہ بجے کے قریب ہوش آئی تو اس نے دیکھا اس کی قمیض ساتھ بیڈ پر پڑی تھی اور قمیض دونوں اطراف سے پھٹی ہوئی تھی۔

لڑکی نے قمیض پہنی اور لڑ کھڑاتی ہوئی اپنے گھر پہنچی۔ لڑکی کے دادا پہلے ہی متعلقہ تھانے میں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا چکے تھے۔ لڑکی کے گھر پہنچنے اور اپنی روداد ظلم سنانے کے بعد لڑکی کے دادا لڑکے والوں کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے وہی لڑکا باہر نکلا اور ان سے الجھنے لگا اور الجھتے ہوئے لڑکی کے دادا کے ساتھ ان کے گھر تک چلا گیا ،جہاں انہوں نے لڑکے کو کمرے میں بند کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس موقع پر پہنچی اور لڑکے کو گرفتار کر کے لے گئی۔ اب اس کیس کو مختلف رنگ دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور حسب معمول ارد گرد کے لوگ بے حسی اور بے بسی کی تصویر بنے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

میں نے جب یہ خبر سوشل میڈیا کے ذریعے سنی تو اس وقت لاہور میں تھا، اگلی صبح میں اس گاؤں پہنچا اور فریقین سے ملا اور اس معصوم بچی سے بھی بات چیت کی۔

اب آگے دیکھتے ہیں کہ کیا کارروائی ہوتی ہے اور مقدمے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

میں اس سوچ میں غرق ہوں کہ پچھلے کئی سال سے پاکستان میں اس طرح کے کئی کیس سامنے آئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ پوشیدہ بھی ہوں گے۔ بالخصوص کم عمر بچیوں اور بچوں کے ساتھ یہ قبیح فعل ہو رہا ہے اور کئی بچوں کو بد فعلی کے بعد قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ کئی واقعات بہت مشہور بھی ہوئے ہیں اور عوامی غم و غصہ اور احتجاج بھی سامنے آیا ہے۔

قانون بھی کبھی کبھار حرکت میں آیا ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ روز بروز اور سال بہ سال ایسے واقعات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ جنسی زیادتی صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس معاشرتی جرم کا ارتکاب کم و بیش پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور تناسب کے حساب سے کئی ممالک میں پاکستان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو جنوبی افریقہ، امریکہ، بھارت اور میکسیکو جیسے ممالک سرفہرست ہیں۔ مجموعی طور پر جنوبی افریقہ میں سالانہ پانچ لاکھ، مصر میں دو لاکھ اور برطانیہ میں پچاسی ہزار ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اسی طرح امریکہ میں اوسط ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

اس کے برعکس چائنہ جیسے آبادی کے لحاظ سے بڑے ملک میں ایسے کیسز کی تعداد اکتیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جن ممالک میں ایسے بھیانک جرائم کی شرح بہت ہی کم ہے ان میں سرفہرست آرمینیا اور قطر ہیں ،جہاں ایسے واقعات درجنوں سے زیادہ نہیں ہوتے۔ ایشیا میں سب سے زیادہ بری حالت بھارت کی ہے، جہاں آئے روز جنسی زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ انڈیا میں سیاح محفوظ ہیں نہ انڈین خواتین۔ 

ایک بات یہ بھی ہے کہ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں ایسے واقعات کی پردہ پوشی کی جاتی ہے، بہت زیادہ واقعات کو دبا دیا جاتا ہے اور وہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 90 فیصد واقعات سامنے نہیں آتے ۔ یہ ایک اور جرم ہے کہ شرم اور عزت بچانے کی خاطر ایک بھیانک جرم پر پردہ پوشی کی جاتی ہے۔

ہمیں عزت اور بے عزتی کے معانی کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معاشرہ ظاہری شان و شوکت اور عزت بے عزتی کے پیچھے کئی جرائم کو پناہ دیتا ہے۔ مثال اس کی یہ ہے کہ ایک عورت بیک وقت کئی مردوں کے ساتھ اپنے ناجائز تعلقات قائم کر کے رازداری سے یہ کام کئی سال تک کرتی رہے پھر بھی وہ ایک شریف اور باوقار رہتی ہے اور ایک معصوم لڑکی کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ،جس میں اس کی اپنی کوئی غلطی ہی نہیں ہوتی، لوگوں کی نظروں میں گر جاتی ہے اور اس سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

یہ ایک بڑا تضاد اور ظلم کی انتہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریف لوگ اپنی عزت کی خاطر اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے درندے اسی طرح دندناتے پھرتے ہیں اور اپنے اگلے شکار کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کو ایک نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی ضرورت ہے، پرانی اور فرسودہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں حقیقی عزت اور بے عزتی میں پہچان کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی بچیوں، جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔

ان کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی عزت کرنے ، ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ان کو اس بات کا احساس دلاتا چاہیے کہ آپ معصوم ہیں، آپ کی کوئی غلطی نہیں لہذا آپ کیوں شرمندہ ہوں۔ شرم تو اس وحشی کو آنی چاہیے، جس نے جرم کا ارتکاب کیا اور ایک بیٹی کی نہیں، بلکہ معاشرے کی عزت کو تار تار کیا ہے۔

جی ہاں ایسے جرائم پورے معاشرے اور ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ اس وقت ایسے ہی جرائم کی وجہ سے بھارت پوری دنیا میں بدنام ہے۔ ہمارے ہاں ایک اور بڑی غلط سوچ ہے وہ یہ کہ ہم ایسے واقعات کے پیچھے لڑکیوں کی حرکات و سکنات کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ جیسا کہ لڑکی کپڑے کیسے پہنتی ہے، اس کا اپنا کردار کیسا ہے، وہ کہاں آتی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ جان لینا چاہیے کہ جرم جرم ہوتا ہے اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بد ترین اور بدنام ترین مجرم کی بھی عزت نفس ہوتی ہے اور اس کے جرائم کو جواز بنا کر اس کے ساتھ اس طرح کی زیادتی یا بد فعلی کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ آو سب مل کر اس بھیانک جرم کے خلاف جہاد کریں اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔

اس کے لیے خواتین کو اعتماد دینا بہت ضروری ہے۔ خواتین کو ان کے حقوق دینا اور ان کے حقوق سے روشناس کرنا بہت ضروری ہے، ہمیں اپنی خواتین کو معاشرے کے اجتماعی معاملات میں شریک کرنا اور ان کی رائے کا احترام کرنا ہو گا۔

ان کو اپنی عزت اور بے عزتی کی بھینٹ چڑھا کر پردوں میں چھپانے کی بجائے ملکی معاملات میں شریک کریں اور ان کو بااختیار بنائیں، تاکہ ہم جنسی جرائم سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں۔

ایسے بھیانک جرائم کے مرتکب لوگوں کی مدد کرنے والے بھی اس جرم میں شریک ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے درندوں کو کوئی رعایت نہ دیں۔

مزید : رائے /کالم