اس والی دھاندلی کا کیا کریں؟

اس والی دھاندلی کا کیا کریں؟
اس والی دھاندلی کا کیا کریں؟

  

پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران کتنے اخراجات ہوئے؟ فی الحال ٹھوس اعداد و شمار مرتب نہیں ہوئے مگر شماریاتی ماہرین اور معاشی لکھاریوں کا اندازہ ہے کہ لگ بھگ 40 ارب روپے کے سرکاری اخراجات منہا کر کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم پر تقریباً تین سے چار کھرب روپے خرچ کیے۔

پاکستان میں گذشتہ ماہ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے الیکشن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر 12,570 امیدوار تھے۔فرض کریں کہ ان کی انتخابی مہم پر تین کھرب روپے خرچ ہوئے۔

اس رقم کو اگر تمام امیدواروں پر تقسیم کر دیا جائے تو ہر ایک کے حصے میں دو کروڑ، 38 اڑتیس لاکھ روپے کے اخراجات آ رہے ہیں مگر قومی اسمبلی کے امیداوار کے اخراجات صوبائی امیدوار سے عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔چنانچہ تصویر یوں بنے گی کہ ایک صوبائی امیدوار کی مہم پر تقریباً ایک کروڑ، 19 لاکھ اور قومی اسمبلی کے امیدوار کی مہم پر تین کروڑ، 57 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

کچھ امیدوار غریب بھی تو ہوتے ہیں لہٰذا ہم مان لیتے ہیں کہ جنھیں جیتنے کی قوی امید تھی ان امیدواروں کی جانب سے قومی اسمبلی کی انتخابی مہم پر اوسطاً تین سے چار کروڑ اور صوبائی نشست پر دو سے ڈھائی کروڑ روپے کا خرچہ ہوا۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے امیدوار کی اخراجاتی حد 40 لاکھ اور صوبائی امیدوار کے لئے 20 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے۔ ہر امیدوار کو انتخابی اخراجات کے لئے ایک الگ اکاؤنٹ کھولنا پڑتا ہے اور تفصیلات انتخابی عمل مکمل ہونے کے دس دن کے اندر اندر جمع کرانا لازمی ہیں بصورتِ دیگر منتخب امیدوار رکنیت کا حلف نہیں اٹھا سکتا۔

اگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے انتخابی اخراجاتی گوشواروں کی روشنی میں دیکھا جائے تو کوئی ایک صوبائی یا قومی منتخب صادق و امین امیدوار ایسا نہیں جس نے 20 لاکھ یا 40 لاکھ روپے کی قانونی حد سے ایک ٹیڈی پیسہ اوپر خرچ دکھایا ہو۔نیا پاکستان بنانے والے عمران خان کے انتخابی حلقے این اے 131 لاہور کے انتخابی اخراجات دس لاکھ روپے سے بھی تین روپے کم ظاہر کیے گئے ہیں۔

(یہ اخراجات قومی اسمبلی کے اخراجات کی قانونی حد سے 30 لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے اخراجات کی قانونی حد سے بھی دس لاکھ روپے کم ہیں) سبحان اللہ۔ووٹ کو عزت دلوانے والے شہباز شریف کے حلقے این اے 132 لاہور کے انتخابی اخراجات 19 لاکھ، 34 ہزار روپے ہیں۔ یعنی انھوں نے قومی اسمبلی کی انتخابی مہم میں صوبائی اسمبلی کی اخراجاتی حد (20 لاکھ روپے) سے بھی کم خرچہ کیا۔ اللہ اللہ۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حلقے این اے 200 لاڑکانہ کی انتخابی مہم کے اخراجات 30 لاکھ، 36 ہزار روپے دکھائے گئے ہیں۔ یعنی مقررہ قانونی حد سے نو لاکھ، 64 ہزار کم۔ قربان جاؤں۔

اگر عمران خان گذشتہ برس تین لاکھ، 37 ہزار روپے اور بلاول دو لاکھ، 37ہزار، 152 اور آصف زرداری 26 لاکھ، 32 ہزار روپے ٹیکس ادا کر سکتے ہیں اور شہباز شریف کے بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ، 14 لاکھ روپے ہو سکتے ہیں تو یہ تفصیلات قبول کرنے والا الیکشن کمیشن کسی سے انتخابی اخراجات پر مشکل سوال کیوں کرے؟انتخابی اخراجات قانونی حد میں دکھانے کا فارمولا بہت سیدھا ہے۔ میں نے اپنی جیب سے ایک لاکھ روپے لگائے۔ میرے دوستوں اور حامیوں نے اپنی خوشی سے دو کروڑ روپے خرچ کیے۔

میری بہی خواہ کمپنیوں نے تین کروڑ روپے کی اشتہاری مہم کا بوجھ اٹھایا یعنی کل ملا کر پانچ کروڑ ایک لاکھ روپے کا حقیقی خرچہ ہوا۔

اب جب میں الیکشن کمیشن میں اپنے انتخابی اخراجات ایک لاکھ روپے دکھاؤں گا تو کوئی مائی کا لال چیلنج کر کے دکھائے کیونکہ الیکشن کمیشن اس کھکھیڑ میں تھوڑی پڑتا ہے کہ آپ کی انتخابی مہم پر کس دوست یا کس کمپنی نے کتنا پیسہ لگایا۔

کمیشن کو بس اس سے دلچسپی ہے کہ آپ کے ذاتی انتخابی اخراجات کتنے ہوئے؟اگر الیکشن کمیشن کسی امیدوار کے براہِ راست یا بلا واسطہ مجموعی اخراجات کا فورنزک آڈٹ کروائے تو جنرل سیٹوں پر جتنے امیدوار منتخب ہوئے ہیں ان میں سے شاید کوئی بھی نا اہلی اور صادق و امین کی آئینی تشریح سے نہ بچ سکے، مگر یہ وہ دھاندلی ہے جسے قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس بارے میں تمام ادارے اور جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔

اب یہی ارکانِ اسمبلی ایک بار پھر خدا کے نام پر حلف اٹھائیں گے اور عوام کو گڈ گورننس دینے کا وعدہ کریں گے یا پھر جمہوریت بچائیں گے، یوں ملک ایک اور شفاف دور میں داخل ہو جائے گا۔اب جب خدا نے ایک ملک گلے میں ڈال ہی دیا ہے تو جیسے کیسے بچانا تو پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم