شکست کے اسباب تلاش کیجئے

شکست کے اسباب تلاش کیجئے
شکست کے اسباب تلاش کیجئے

  

جی ڈی اے اور مجلس عمل کی ناکامی کے اسباب کیا ہیں،ان جماعتوں کے قائدین کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے بجائے اس کے کہ انتخابات میں دھاندلی کی شکایت کا ٹوکرا سر پر لئے پھر تے رہیں۔

جمعہ کے روز سندھ کے اکثر اضلاع میں ان دونوں سیاسی قوتوں نے انتخابات میں بقول ان کے دھاندلیوں کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔ قائدین کہیں بھی موجود نہیں تھے ۔

امیدواراں بھی کارکنوں پر تکیہ کر بیٹھے تھے ۔ کارکنان کو تو تمام ہی سیاسی جماعتیں بوقت ضرورت گنتی میں لاتے ہیں وگرنہ بے دام کے ان غلاموں کی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ احتجاجی مظاہروں میں جوش و خروش کی بھی کمی تھی۔

پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں 6913410 ووٹ حاصل کئے۔جی ڈی اے نے 1193444و وٹ لئے۔ایم کیوایم کو 731794 ووٹ ڈالے گئے۔ متحدہ مجلس عمل کو 2569971 ووٹ ملے۔تحریک لبیک 2234338 نے ووٹ حاصل کئے۔ 

پیپلز پارٹی کو ملنے والے ووٹوں سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے امیدواروں نے انتخابات کو انتخابات کے طور پر سنجیدگی سے لڑا۔ ن لیگ اور ایم کیو ایم کی ناکامی کی بظاہر وجوہات میں سے ایک بنیاد یہ ہے کہ دونوں کو گمان تھا کہ ووٹر جوق در جوق نکلیں گے جیسے عشاق کے قافلے نکلتے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچیں گے اور انہیں ہی ووٹ دینے کا ’’فرض‘‘ ادا کریں گے۔

فرض، قرض اور مرض جیسے الفاظ تو صرف پیپلز پارٹی کے حامیوں کے لئے ہی وقف تھے جو اب غرض بن گیا ہے۔ یہ غرض ہی تو تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں 3857346 لاکھ ووٹ پڑے۔ جی ڈی اے کے امیدواروں نے 1479573 ووٹ حاصل کئے۔ (الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کی جو تفصیل جاری کی ہے اس کے مطابق جی ڈی اے نے سندھ میں 1193444 ووٹ حاصل کئے۔ یہ فرق کیوں پیدا ہوا ہے)۔ جی ڈی اے کے پاس دو طرح کے ووٹ تھے۔ ایک وہ جو پیر پگارو کے مریدوں کے ووٹ ہوتے ہیں وہ تو ہر قیمت پر جی ڈی اے کو ملنا تھے۔

دوسرے جی ڈی اے میں شامل دیگر جماعتوں کے حامیوں کا ووٹ۔ حامیوں کے ووٹ میں ہی کوئی کمی رہ گئی،جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی اپنے تمام عیوب اور الزامات کے باوجود اتنے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ تحریک انصاف کو سندھ میں 1424605 ووٹ ملے جو جی ڈی اے کے ووٹوں سے کم ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کو 605887 ووٹ ملے اس کے مقابلے پر تحریک لبیک 408029 ووٹ حاصل کر گئی۔ تحریک لبیک کے حاصل کردہ ووٹ متحدہ مجلس عمل کے ووٹ ہی تو تھے۔ 

پاکستانی سیاست اور عوام کے مزاج سے سیاسی رہنما ناآشناء کیوں ہیں۔ پاکستانی عوام آخری بار ایوب خان کو اقتدار سے نکالنے کے لئے نکلے تھے۔ یہ لوگ تو بھٹو کے خلاف بھی بھرپور تحریک نہیں چلاسکے تھے۔

کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور کے علاوہ کہیں بھی جان دار تحریک نہیں چلی تھی۔ یہ عوام جنرل ضیاء الحق یا جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی تحریکیں چلانے کے لئے منظم نہیں ہوسکے تھے۔

اس سے بڑھ کر جو بات ہے وہ یہ کہ عوام دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں اقتدار کے کھیل کا ایسا جھمیلا جاری ہے کہ جو رات کو کسی کا دم (چلم کہنا بہتر ہوگا) بھر رہے ہوتے ہیں وہ دوسری صبح کسی اور کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ عوام نے اپنے آپ کو سیاسی رہنماؤں کے اس پراگندہ کھیل سے ہی الگ تھلگ کر لیا ہے۔ اسی لئے لاتعلقی محسوس ہوتی ہے۔

یہ لاتعلقی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سیاسی جماعتیں اپنا قبلہ درست نہیں کریں گی۔ 

پیپلز پارٹی کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ جو لوگ جنرل ضیاء کے بوٹ سیدھے کررہے تھے انہیں اپنی صفوں میں لاتی۔ نواز شریف کو کیا مجبوری تھی کہ راتوں رات ان سے انحراف کرنے والے افراد جب جنرل پرویز مشرف کے حامی بن گئے تھے تو انہیں دوبارہ اپنے گرد جمع کرتے۔

عمران خان بھی اسی غلطی کا شکار ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دئے جانے والے جہانگیر ترین جن کی سیاسی وفاداریاں کسی نظریہ یا اصول کی پابند نہیں ہے، عمران خان کی اکثریت کے لئے منتخب لوگوں کی سیاسی وفاداریوں کا سودا کر رہے ہیں۔ جو لوگ کل تک عمران خان پر تین حرف بھیج رہے تھے وہ آج ان کے ہم نوا بن رہے ہیں اور گلے میں تحریک انصاف کا طوق فخریہ اندا ز میں ڈال رہے ہیں۔

طوق کا لفظ تحریک انصاف کے رنگوں کے مفلر کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین کو پاکستانی سیاسی تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ جو بھی لوگ اقتدار میں آتے ہیں، وہ پہلی قربانی اپنے قریب رہنے والوں کی دیتے ہیں۔

تمام وزرائے اعظم اور فوجی صدور کی تاریخ کھنگال لیں، نام سامنے آجائیں گے۔جنرل ایوب خان نے تمام ساتھی جنرلوں سے لاتعلقی کرلی تھی۔ بھٹو نے اپنے اور ساتھیوں کے درمیاں نورا رکھ لیا تھا۔

وہ جسے چاہتا تھا، وہ صاحب سے ملاقات کرا سکتا تھا۔ جنرل ضیاء انہیں برسر اقتدار لانے والے ساتھیوں سے کٹ گئے تھے اور ایک وقت میں تو جنرل عارف کی تیار کردہ ملاقاتیوں کی فہرست پر ہی اکتفا کرنے لگے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے لئے طارق عزیز اہم ترین شخصیت بن گئے تھے۔

آصف علی زرداری کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ ساتھیوں اور با اعتماد دوستوں کی علیحدگی کا خمیازہ سب نے بھگتا ہے لیکن آنے والا سبق نہیں لیتا ۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھتا ہے۔

جہانگیر ترین بہر حال سرمایہ دار ہیں اور سرمایہ کاری کرنا جانتے ہیں، وہ اپنے خسارے اور فائدے کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔ 

ایم کیو ایم آپس کے جھگڑوں میں ہی مصروف تھی جو اس کی جیب کتر گئی اور تاریخی شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ ایم کیو ایم بڑے شوق سے تحریک انصاف کی ہمنوا بن جائے لیکن اسے کچھ حاصل اس لئے نہیں ہوسکے گا کہ تحریک انصاف بھی تو کراچی کے لوگوں کے دل اپنے لئے جیتنا چاہے گی۔ وہ کیوں چاہے گی کہ آئندہ انتخابات میں ایم کیو ایم کو تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں فوائد حاصل ہوں۔ ایم کیو ایم اور متحدہ مجلس عمل جس میں جماعت اسلامی شامل ہے، کی انتخابی حکمت عملی اس قدر ناقص تھی کہ اس مرتبہ حیدر آباد جیسے شہر میں ووٹروں کو گھروں پر ووٹ کی پرچی بھی پہنچانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے تمام پارٹیوں کے بڑی تعداد میں ووٹر بد ظن ہوکر گھر جا بیٹھے۔ متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے علاوہ باقی جماعتیں تو نمائشی حیثیت سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہیں لیکن جماعت اور جمعیت بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کا سبب یہ نظر آتا ہے کہ جماعت اور جمعیت کے ہمدردوں کا حلقہ سکڑگیا ہے۔ اب شکایات کا پلندہ سر پر اٹھا نے کا کیا فائدہ جب چڑیا ہی کھیت چگ گئی ہیں۔

بس آپ شور مچائے جائیے، جنہیں حکومت کرنا ہے وہ حکومت کریں گے۔ عوام کی لاتعلقی کی بنیاد پر جی ڈی اے ہو یا متحدہ مجلس عمل، اے این پی اور ن لیگ، کسی بھی قسم کی مزاحمتی تحریک چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم