پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون:کپتان کا اصل امتحان!

پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون:کپتان کا اصل امتحان!
پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون:کپتان کا اصل امتحان!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پنجاب اہم ہے اس لئے پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون بنتا ہے؟ سب سے اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ ہمارے ملتان کو یہ اعزاز ملتے ملتے رہ گیا، کیونکہ شاہ محمود قریشی ملتان کے شہباز ہونے کے باوجود ممولے سے ہار گئے۔ اب اُن کی حتی الامکان یہ کوشش ہے کہ عمران خان پنجاب میں کوئی مستقل وزیر اعلیٰ نہ بنائیں، بلکہ تین ماہ کے لئے عارضی وزیر اعلیٰ لگائیں اور جب وہ ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر آئیں تو انہیں مستقل وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شاہ محمود قریشی چیئرمین تحریک انصاف اور آئندہ وزیر اعظم عمران خان کے مشن کے ساتھ کس قدر سنجیدہ ہیں، یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ پنجاب میں ایڈہاک بنیادوں پر وزیر اعلیٰ تعینات کرکے صوبے میں کسی بھی تبدیلی کا گلا گھونٹ دیا جائے، کیونکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے۔ عوام تبدیلی کے لئے ایک ایک دن گن رہے ہیں اور مخدوم صاحب اسے ذاتی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے ذہن میں آج بھی مخدومی اور وڈیرا ازم گھسا ہوا ہے، حالانکہ تحریک انصاف کاسیاسی کلچر اس سے قطعی مختلف ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کو ایک نوجوان سلمان نعیم نے عبرتناک شکست دی۔ اس کی صرف وجہ یہ تھی کہ شاہ محمود قریشی نے آمرانہ انداز میں فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی حلقہ 217 سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا، جبکہ بچے بچے کو معلوم تھا کہ اس حلقے سے سلمان نعیم پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں، انہوں نے اپنی جیب سے حلقے میں کروڑوں روپے خرچ کرکے ترقیاتی کام کرائے تھے اور پارٹی فنڈ میں بھی کروڑوں روپے دیئے تھے، خود شاہ محمود قریشی انہیں حلقے میں بطور امیدوار متعارف کراتے رہے تھے،لیکن جب ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو انہوں نے سلمان نعیم کو ایک طرف کرکے خود 217 میں انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرلیا، جسے بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ان کی سیاسی بصیرت کا یہ حال ہے کہ شاہ محمود قریشی یہ سمجھتے رہے کہ سلمان نعیم کو کس نے ووٹ دینا ہے، خود تھک ہار کر بیٹھ جائے گا، موصوف کو حلقے میں چلنے والی ہوا کا بھی اندازہ نہ ہوسکا۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کا انتخاب تو جیت گئے، اسی حلقے میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب کیوں ہار گئے؟ اس کی وجہ عوام کا وہ غم و غصہ تھا، جو آخر وقت پر سلمان نعیم کی ٹکٹ ہتھیانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔

صوبے کو چلانے کے خواہش مند شاہ محمود قریشی اتنی سی بات نہ سمجھ سکے کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ پورے ملتان میں یہ اعلان کرتے رہے کہ آئندہ وزیر اعلیٰ پنجاب میں ہوں، لیکن اس بات سے بے خبر رہے کہ عوام تو اُن کے نیچے سے قالین کھینچنے والے ہیں، اگر ان کا ہدف وزارتِ اعلیٰ تھی تو اُن کی زیادہ توجہ تو صوبائی نشست پر ہونی چاہئے تھی، مگر زعم برتری نے انہیں اس طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہ دی۔

پھر چاہئے تو یہ تھا کہ آپ اگر پارٹی کے ایک ورکر سے شکست کھا گئے ہیں تو اسے گھر جاکر مبارکباد دیں، جو اعلیٰ ظرف لوگوں کا وتیرا ہوتا ہے، لیکن اس کی بجائے انہوں نے سلمان نعیم کی تحریک انصاف میں شمولیت کی مخالفت شروع کردی۔ اُن کی ہدایت پر جہانگیر خان ترین اور علیم خان کے خلاف ملتان میں صرف اس لئے مظاہرے کئے گئے کہ انہوں نے ملتان آکر سلمان نعیم سے ملاقات کیوں کی؟

جو پارٹی لیڈر اتنی سی بات نہ سمجھ سکے کہ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے ایک ایک ایم پی اے کی کتنی اہمیت ہے، وہ پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے خواب کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر جب جہانگیر ترین کی دعوت پر سلمان نعیم بنی گالا جا کر تحریک انصاف میں دوبارہ شامل ہو گئے تو فوراً ہی انہوں نے بچوں کی طرح یہ بیان جاری کر دیا کہ وہ وزیرخارجہ نہیں بننا چاہتے۔ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق اب وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ سلمان نعیم کو تحریک انصاف میں کیوں شامل کیا، البتہ یہ ممکن تھا کہ وہ وزارت لینے سے ہی انکار کر دیں۔ یہاں شہر سے جو دو تین ایم پی اے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر جیتے ہیں، انہیں تیار رہنے کا حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سیٹ چھوڑنے کے لئے تیار رہیں، کیونکہ مخدوم صاحب نے وہاں سے ضمنی الیکشن لڑنا ہے۔

یہاں ملتان کے حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ شاہ محمود قریشی نے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا تو ان کے ہارنے کا امکان زیادہ ہے، کیونکہ تحریک انصاف کو ایک لہر کی وجہ سے ووٹ ملے تھے۔ اب شائد ووٹرز ووٹ دینے نہ نکلیں، اس طرح شاہ محمود قریشی ایم پی اے بننے کی خواہش میں اپنی ایم این اے کی سیٹ بھی گنوا سکتے ہیں۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا ذکر آیا تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس بنیادی وجہ کا ذکر کر دوں جو اب تک عمران خان کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اگر تو پنجاب میں ایک عارضی وزیراعلیٰ بنانا ہے، تاکہ بعد میں شاہ محمود قریشی کو وزیراعلیٰ بنایا جا سکے تو اس کے لئے کسی ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا، جو بعد میں مان بھی جائے، اگر شاہ محمود قریشی کو مرکز میں ذمہ داری دے کر پنجاب میں ایک تگڑا مستقل وزیراعلیٰ لگانا ہے تو اس کے لئے کوئی دوسرا شخص تلاش کیا جائے گا۔

یہی وہ کشمکش ہے غالباً جس کی وجہ سے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی نامزدگی میں تاخیرہو رہی ہے۔ اگر تو مضبوط وزیراعلیٰ لانا ہے تو پھر دو نام بڑے اہم ہیں۔ پہلا علیم خان کا اور دوسرا میجر(ر) طاہر صادق کا۔

پنجاب میں تحریک انصاف نے اگر اچھی گورننس نہ دی تو اس کی ساری مقبولیت زمین بوس ہو جائے گی۔ پنجاب کی بیورو کریسی، پولیس اور دیگر انتظامی محکموں میں تعینات افراد کو قابو میں رکھنا ایک بہت بڑا ٹاسک ہے۔

دس پندرہ برسوں کی صورتِ حال نے پنجاب میں بہت کچھ بگاڑ دیا ہے۔ قانون کا کوئی خوف نہیں رہا اور ہسپتالوں میں تعینات عملہ اس قدر منہ زور ہو چکا ہے کہ مریض سامنے مرتے دیکھ کربھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

یونین ازم نے سارے ڈسپلن کو برباد کر دیا ہے۔ اب اس منظرنامے میں اگر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کسی ایسے شخص کو سونپ دی جاتی ہے جو مضبوط اعصاب کا مالک نہیں اور دلیرانہ فیصلے نہیں کر سکتا تو ایسے مٹی کے مادھو کی شاید موجودہ حالات میں قطعاً ضرورت نہیں۔

اب وقت قریب آتا جا رہا ہے، ظاہر ہے عمران خان کو فیصلہ کرنا ہوگاکہ کسے وزیراعلیٰ بنانا ہے؟ یہ ان کا پہلا بڑا امتحان ہے۔ یہ آئیڈیا تو کسی صورت نہیں چل سکتا کہ شاہ محمود قریشی کو لانے کے لئے تین ماہ صوبہ کسی کمزور وزیراعلیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔

جس تیزی سے عمران خان نے بطور وزیراعظم فیصلے کرنے ہیں، اسی تیزی سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نہ ہوئے تو عوام کی توقعات کو شدید ضرب لگے گی۔پنجاب پر حکمرانی کی خواہش کس جماعت کی نہیں رہی۔ پنجاب کی حکمرانی نہ ملے تو مرکز کی حکمرانی ہوا میں معلق نظر آتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو جتنی بار بھی مرکز میں اقتدار ملا، پنجاب میں اس کی حکومت بنی۔ نوازشریف اور شہباز شریف کی جوڑی نے ڈٹ کر حکمرانی کی، اگرچہ اس کا عوام کو وہ فائدہ نہ ملا، جو ملنا چاہئے تھا، تاہم یہ نہیں ہوا کہ بے نظیر بھٹو کی طرح پنجاب کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

میرا خیال ہے اگر بے نظیر بھٹو کو ملنے والے دوبار کے اقتدار میں پنجاب بھی ان کے پاس ہوتا تو ان کی کارکردگی کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ منظور وٹو کی شکل میں انہیں جو وزیر اعلیٰ ملا وہ پیپلزپارٹی کے ایجنڈے کی بجائے اپنے ذاتی ایجنڈے پر زیادہ کاربند رہا۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو سلمان تاثیر گورنر راج لگا کر پنجاب کے مدارالمہام بن گئے، لیکن عدالت کی طرف سے حکم آنے کے بعد انہیں اقتدار دوبارہ شہباز شریف کو سونپنا پڑا۔

2018ء کے انتخابات سے پہلے اکثریت کا خیال تھا کہ مرکزمیں تحریک انصاف کی حکومت بن بھی گئی تو پنجاب اسے نہیں ملے گا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب پر گرفت بڑی مضبوط ہے، مگر نتائج سامنے آئے تو دونوں میں فرق اتنا کم تھا کہ وفاقی حکومت کے وزن کی وجہ سے تحریک انصاف کا پلڑا بھاری ہونا ہی تھا۔ اب پنجاب بھی تحریک انصاف کے پاس ہے، گویا یہ عذر اب باقی نہیں رہا کہ پنجاب ہمارے پاس ہوتاتو ہماری کارکردگی کہیں بہتر ہوتی۔

اب تو کپتان کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں پنجاب میں وہ جسے بھی وزیر اعلیٰ بنائیں، مگر ایک لمحے کے لئے بھی صوبے کے معاملات سے غافل نہ رہیں، پنجاب میں اگر نظام ٹھیک کر دیا گیا، شہری سہولتوں کے حوالے سے جرأت مندانہ قدم اٹھائے گئے، کرپشن پر قابو پا لیا گیا توعمران خان ایک کامیاب وزیر اعظم ثابت ہوں گے۔

پہلے وہ خیبرپختونخوا کی مثالیں دیتے تھے، اب انہیں پنجاب کو بھی ایک فلاحی صوبہ بنانا ہے۔ ویسے تو ان پر پورے پاکستان کو فلاحی ملک بنانے کی ذمہ داری ہے، تاہم پنجاب پر اس لئے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس میں بگاڑ کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

مزید : رائے /کالم