پاکستانی سنیما گھروں کو بھارتی فلموں کی یلغار سے نکالنا مشکل

پاکستانی سنیما گھروں کو بھارتی فلموں کی یلغار سے نکالنا مشکل

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستانی سنیماء گھروں کو بھارتی فلموں کے یلغار سے نکالنا مشکل ہوگیا۔ بیک وقت کئی پاکستانی فلموں کی ریلیز کے باوجود پاکستانی فلموں کو سنیماء برائے نام ملنے کا تسلسل جاری، پاکستانی فلموں پر سرمایہ کاری کرنے والے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگے، بھارتی سنیماء گھروں میں پاکستانی فلموں کی نمائش کا مسئلہ تاحال حل نا ہوسکا،مگر پاکستانی سنیماء گھروں میں بھارتی فلمیں پاکستانی فلموں کے باکس آفس بزنس کو متاثر کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی سنیما ء انڈسٹری کو چلانے کے لئے غیر ملکی فلموں کی نمائش کی اجازت دی گئی ہے تاہم ایسے حالات میں جب اپنی پاکستانی فلمیں بھی ریلیز کی جارہی ہوں ان فلموں کی نمائش پر پابندی لگانے کی کئی بار متعلقہ حکام سے درخواست کی گئی ہے لیکن اس پر کوئی عمل یا کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا جاسکا، گذشتہ ماہ عید الفطر پر بھارتی فلموں پر پہلے دو ہفتوں کی پابندی کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا تھا جس کے فورا بعد ہی اس کو کم کرکے ایک ہفتہ کی بھارتی فلموں کی بندش کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا جس کی وجہ سلمان خان کی فلم ’’ریس تھری‘‘ اور رنبیر کپور کی فلم ’’سنجو‘‘ کی ریلیز تھی۔ ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ غیر ملکی فلمیں بہت کم سرمائے سے پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز کو فراہم کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی خصوصا بھارتی فلموں کو فورا خرید لیا جاتا ہے اور سنسر بورڈ کی ملی بھگت سے فلم کو نمائش کے لئے سرٹیفیکٹ بھی دلوادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ریوائیول کرتی پاکستانی فلم انڈسٹری کی فلموں کا بزنس بْری طرح متاثر ہوتا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ ایک مضبوط مافیا ہے جو کہ انڈین کلچرل کو پاکستان میں فروغ دینے اور پاکستانی فلموں پر سرمایہ کاری کرنے والے پروڈیوسرزکو مالی نقصان پہچانے کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے۔

پاکستان میں اس وقت محدود وسائل اور کم بجٹ پر فلمیں پروڈیوس کی جارہی ہیں جو کسی بھی حوالے سے بڑے بجٹ کی بھارتی فلموں سے مقابلے کی اہلیت نہیں رکھتی اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان میں موجود غیر ملکی فلم امپورٹر ز اور سنیماء مالکان پاکستانی فلموں کو جان بوجھ کر زیادہ اسکرین نہیں دیتے اور مجبورا پاکستان فلم انڈسٹری کا مسلسل نقصان ہوتا چلا جارہاہے اور ایسے حالات میں پاکستانی فلم پروڈیوسر کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان فلم پروڈیوسر ایسویسی ایشن کا وفد نئی حکومت بننے کے انتظار میں ہے تاکہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کروایا جاسکے کیونکہ گزشتہ حکومتوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کے ساتھ صرف دعوے اور وعدے کئے جو کہ وفا نہیں ہوسکے بلکہ ریوائیول کرتی انڈسٹری کو

مزید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مزید : کلچر