اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش!

اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش!
اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا 2018ء کے انتخابات میں عمران خان کی کامیابی میں کسی مذہبی مسلک نے بھی کوئی رول ادا کیا؟۔۔۔ کیا مولانا فضل الرحمن کی قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ناکامی میں ان کے دینی مسلک کا بھی کوئی کردار تھا؟۔۔۔ کیا کبھی ایسا کوئی گیلپ سروے کیا یا کرایا گیا ہے جس میں پاکستان کے 21کروڑ عوام کے مسلکی رجحانات کی درجہ بندی کو مدنظر رکھا گیا ہو؟۔۔۔ کیا حالیہ الیکشنوں میں اہلِ سنت و الجماعت اور تحریکِ لبیک یا رسولؐ نے تحریک انصاف کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کے مشن میں کوئی مدد کی؟

درجِ بالا قسم کے سوالات میرے جیسے فوجی کے ذہن میں کبھی نہیں آئے تھے۔ فوج میں مذہب یا مسلک کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ آفیسرز ہوں کہ جوان ان کی سلیکشن میں جن باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے ان میں مسلک کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہوتا۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک آج تک کبھی شیعہ سنی، دیو بندی بریلوی اور اہلِ حدیث وغیرہ کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔

افواجِ پاکستان میں اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن ان کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ فوجی قیادت نے کبھی رنگ و نسل، ذات پات، مذہب، عقیدے یا مسلک کو کوئی اہمیت نہیں دی۔

یہ ہر فوجی کے اپنے ذاتی معاملات ہیں۔ نچلے رینک سے لے کر اوپر کے رینک تک پرموشن دیتے وقت کسی بھی رینک میں مذہب یا مسلک کو کبھی زیرِ نظر نہیں رکھا جاتا۔

فوج میں ہر سال نان کمیشنڈ (NCO)، جونیئر کمیشنڈ (JCO) اور کمیشنڈ آفیسرز کی جو سالانہ خفیہ رپورٹیں لکھی جاتی ہیں ان میں جن نکات اور پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ صرف پیشہ ورانہ نکات اور پہلو ہوتے ہیں اور کوئی کالم / خانہ ایسا نہیں ہوتا جس میں کسی فرد کے مذہب کے بارے میں بھی کسی قسم کا تبصرہ طلب کیا گیا ہو۔ کوئی سینئر آفیسر جب کسی زیر کمانڈ فوجی کی ACR میں اپنی رائے/ سفارش کا اظہار کرتا ہے تو وہ صرف پروفیشنل خوبیوں / خامیوں کو مدنظر رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج تک فوج میں مذہب یا مسلک کو کبھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ بات کہ کیا کوئی شیعہ آفیسر، کسی سنی آفیسر سے کسی عسکری خصوصیت میں کسی امتیازی وصف کا حامل ہوتا ہے اس کا خیال کبھی نہیں رکھا جاتا۔

اس لئے میں نے جب اگلے روز بازار میں کسی دکان پر چار پانچ لوگوں کو اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے پایا تو میرا رہوارِ خیال ان سوالوں کی طرف بھاگنے لگا جن کا ذکر کالم کے آغاز میں کیا گیا ہے۔

مجھے یہ بھی یاد آیا کہ عمران خان کی تیسری شادی کے بارے میں بھی مذہب یا مسلک کو موضوعِ بحث بنا کر کئی غلط سلط افواہیں اڑائی گئیں۔ دوسری شادی میں ریحام خان کی کتاب کا تو کیا ذکر کرنا کہ اس عفیفہ نے جن موضوعات کو مزے لے لے کر بیان کیا ہے وہ اردو ادب میں سعادت حسن منٹو کے کسی افسانے میں بھی نہیں ملتے اور نہ ہی عصمت چغتائی وغیرہ نے ان ’’اسرار و رموز‘‘ سے پردہ اٹھایا ہے جن کی تفصیل ریحام نے ’’کھول کھول‘‘ کر بیان کی ہے۔

اس کتاب کی آن لائن اشاعت، اور اس سے پہلے ’’سپائی کر انیکلز‘‘ (Spy Chronicles) وغیرہ پر الیکشنوں کے دوران جو ’’سیرحاصل‘‘ تبصرے ہو چکے ہیں ان سے پاکستان کا ہر شہری واقف ہے۔

لیکن کیا اس ایکسرسائز سے عمران خان کو یا پاک آرمی کو کسی بھی حجم کا کوئی نقصان پہنچا تو اس سوال کا جواب نہ صرف نفی میں ہے بلکہ ان کتابوں کی آن لائن اشاعت نے اپنے مقاصد کے برعکس نتائج دکھائے اور پاکستان کے سوادِ اعظم نے اس نہایت بھونڈی بلکہ قبیح حرکت کو سختی سے مسترد کر دیا۔

لیکن جس طرح 1970ء کے انتخابات نے مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کو کلین سویپ دے دی تھی اسی طرح 2018ء کے الیکشن میں عمران خان کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے میں مختلف عوامل نے جو رول ادا کیا،اس میں مسلک یا مذہب کو کوئی دخل نہیں تھا۔

ہاں اس کامیابی میں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور بہت کچھ کہا سنا گیا۔ خود خان صاحب نے اپنی 22سالہ سیاسی جدوجہد کا تذکرہ بار بار کیا۔ لیکن ان کی تیسری شادی جن ایام اور حالات میں ہوئی اس پر ان کے ناقدین نے جو تبصرے کئے ان پر کافی لے دے ہوتی رہی۔

سوال پوچھا گیا کہ ان کو اپنی سیاسی زندگی کے اس موڑ پر اس شادی کی ضرورت کیا تھی؟ کیا اس شادی میں کسی فزیکل احتیاج کو دخل تھا تو اس سوال کا جواب ہمیں بظاہر نفی میں ملے گا۔ البتہ خلقِ خدا میں جو کہانیاں مشہور ہوئیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس شادی میں فزیکل احتیاج کی بجائے روحانی احتیاج کا عمل دخل ضرور تھا۔

عمران خان کے ماضی کو دیکھئے۔۔۔ ان کی تربیت کسی خاص مسلکی ماحول میں نہیں ہوئی، ان کی تعلیم پر مشرقی کی بجائے مغربی تدریسی اداروں کا دخل رہا۔ان کو کرکٹ کے ایک سٹار کے طور پر شہرت ملی تو بعض ناقدین نے ان کو ’’پلے بوائے‘‘ تک کے لقب سے ملقب کیا۔۔۔۔ پھر ان کی پہلی شادی کے پس منظر اور پیش منظر پر نگاہ ڈالیں۔

انہوں نے ایک یہودن کو مسلمان کرکے اس سے شادی کی۔ ان کے بچے مسلمان ہیں اور ان کے نام بھی مسلمانانہ ہیں لیکن محبت کی اس شادی کا انجام جن وجوہات کی بنا پر ہوا، ان سے بھی سارا پاکستان واقف ہے۔۔۔۔ اس کے بعد ریحام خان کی باری آئی۔ وہ بھی ایک مطلقہ عورت تھی اور عمران خان بھی ایک ’’دوہا جو‘‘ تھے۔

اس شادی پر بھی بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن عمران کی ان دونوں شادیوں میں کسی مال وزر کے لالچ کی کوئی آلودگی نہیں پائی گئی۔۔۔۔ تو پھر کیا ریحام خان کا حسن، اتنا ہی عالم سوز تھا کہ جس کی تب و تاب میں عمران خان کو ریشہ خطی ہوجانا پڑا؟۔۔۔ کیا 60 برس سے زیادہ عمر والوں کے لئے ’’سٹھیا جانے‘‘ کا جو محاورہ زبان زدِ خاص و عام ہے، عمران خان، اس کی زد میں آگئے تھے؟ کیا وجہ ہوئی کہ عمران خان نے یا ریحام خان نے آناً فاناً یہ شادی کی اور پھر آناً فاناً طلاق ہوگئی۔۔۔ اس چٹ شادی اور پھرپٹ طلاق پر ابھی تک تحقیق و تفتیش کا میدان کھلا ہوا ہے!

اس کے بعد بی بی بشریٰ مانیکا کی طرف آئیے۔۔۔۔ اس بندھن کی وجوہات ہنوز پراسرار ہیں۔ اس سلسلے میں جو سٹوریاں وائرل ہیں ان کا تعلق کسی فزیکل احتیاج سے ہرگز نہیں اور نہ ہی ہوسکتا ہے، اس لئے روحانی احتیاج کا جو ذکر کیا جاتا ہے، وہ دل کو لگنے والی بات ہے۔ اس کے ثبوت میں آج کے میڈیائی دور نے بھی دوبار مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ عمران خان کا اپنی اہلیہ کے ہمراہ درگاہ بابا فرید گنج شکر کے دربار پر حاضر ہونا اور مزار کی دہلیز کو جھک کر بوسہ دینے کی کوشش میں ان کی اہلیہ کا اشارہ اور عمران خان کی ’’مودبانہ تعمیل‘‘ ٹی وی کے سارے ناظرین کے سامنے ہے۔

اس کے بعد بابا فرید کی لحد پر ان کے پاؤں والی سمت کو جھک کر بوسہ دینا بھی پاکستان کے سوادِ اعظم کے سامنے ہے۔۔۔ اور اس کے بعد سرگودھا کے نواح میں کسی سیالوی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینا، ان کے مزار کے اندرونی احاطے میں گلاب کے پھول بچھانا اور پھر باہر نکلتے ہوئے مزار کی زمین کو بوسہ دینا جس میں ان کی اہلیہ محترمہ کو دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کو مزید جھک جانے کا اشارہ دے رہی ہیں۔۔۔۔ یہ تمام مناظر ایک سابق ’’ پلے بوائے‘‘، کرکٹ ہیرو اور مغربی معاشرے کے سارے کے سارے حسن وقبح کے ثناساکے ’’شایانِ شان‘‘ نہیں کہے جاسکتے۔

پھر آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ اس شادی کے بعد عمران خان نسبتاً ایک بدلے ہوئے شخص بن گئے۔ ۔۔۔ ہاتھ میں تسبیح رکھنا، اپنی تقاریر میں قرآن کا حوالہ دینا،آنحضورؐ کی زندگی کی مثالیں اور حوالے دینا، علامہ اقبال اور قائد اعظم کی زندگیوں کو مثعلِ راہ قرار دینا، پاکستان کو مدنی ریاست کی مثیل بنانے کا عزم، سادگی، کفائت شعاری،وزیر اعظم ہاؤس ترک کرکے ایک عام گھر میں رہائش کا فیصلہ، الیکشن میں کامیابی کے بعد پہلی تقریر اپنی قومی زبان میں کرنا، لباس میں سادگی، میزبانی میں جز رسی کی آخری حدوں تک چلے جانا اور زائد از ضرورت پروٹوکول سے اجتناب کا ارادہ یقیناًایک تبدیل شدہ اور نئے وزیر اعظم پاکستان کی نوید دیتے ہیں اور اس تبدیلی کا بیشتر کریڈٹ ان کی زوجۂ محترمہ کو جاتا ہے۔

ہم سارے پاکستانیوں کو اس حوالے سے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ وہ تاریخ کی پہلی خاتون نہیں ہیں کہ جس نے اپنے شوہر کی زندگی میں داخل ہو کر ایک قابل فخر کردار ادا کیا۔ مسلم ہسٹری میں حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ، ہارون الرشید کی زبیدہ اور جہانگیر کی نور جہاں کی کنٹری بیوشن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

عورت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خود پیغمبر تو نہ بن سکی لیکن پیغمبروں کی ماں ضرور بنتی رہی۔۔۔۔ حضرت اقبال نے عورت کے بارے میں جو یہ کہا ہے:

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

تو اس حقیقت میں کوئی شک نہیں۔ اس مختصر نظم کے آخری شعر میں کہا گیا ہے کہ عورت اگرچہ مکالماتِ فلاطوں( افلاطون کی ایک مشہور تصنیف ’’ڈائیلاگ‘‘ کی طرف اشارہ ہے) تو نہ لکھ سکی لیکن افلاطون ایک عورت ہی کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔

مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اُسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ اِفلاطوں

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایک کثیر الجہتی اور کثیر المسلکی معاشرہ ہے۔ اس میں ہر مسلک کے لوگ تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب دونوں مسلم ممالک ہیں لیکن ان دونوں کے مذاہب اور مسالک جدا جدا ہیں۔ ان میں باہمی کشیدگی بلکہ دشمنی جن حدوں کو پہنچی ہوئی ہے ان سے سارا زمانہ واقف ہے۔ اگر یہ مسلکی اختلاف نہ ہوتا تو اندازہ کیجئے ان دونوں کی مشترکہ قوت، امت مسلمہ کو کہاں سے کہاں لے جاتی۔۔۔ایران کے سفیر مہدی ہنردوست کے ساتھ خان صاحب کی حالیہ ملاقات اور اس کے دوران ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی رول ادا کرنے کی پیشکش، ایک خوش آئند خبر ہے۔ پاکستانی قیادت پہلے بھی کئی بار یہ پیشکش کر چکی ہے۔

شاعرِ مشرق نے ایک صدی پہلے مسلم امہ کو خبردار کردیا تھا کہ اس مسلکی تفریق و امتیاز میں گرفتار نہ ہونا لیکن۔۔۔؟۔۔۔آگے کیا لکھوں؟۔۔۔ اقبال کا وہ متعلقہ شعر ہی پیش خدمت کرنے پر اکتفا کروں گا:

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش!

اے گرفتارِ ابوبکرؓو علیؓ ہشیار باش!

[اے وہ مسلمان کہ تو پوشیدہ اسرار کو نہیں جانتا، لیکن جو ظاہر ہیں ان سے تو ہوشیار رہ۔۔۔ اور اے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کی محبت میں زیادہ گرفتار ہونے والے، کچھ ہوش کر]

مزید : رائے /کالم