ماہِ اگست اور پاکستان امیدیں ٹھوس حقیقت میں بدلتی ہیں

ماہِ اگست اور پاکستان امیدیں ٹھوس حقیقت میں بدلتی ہیں

اگست2018ء قومی سیاست اورملکی معاشرت کے حوالے سے بے شمار تبدیلیاں اورنت نئے واقعات لئے ہوئے ہے۔ اس مہینے کا سب سے اہم دن 14اگست ہے۔ یوم آزادی کی اہمیت کے ساتھ ساتھ وہ دن بھی نمایاں اور قابلِ توجہ ہیں جن دنوں میں انتخابات 2018ء کے نتیجہ میں حکومتیں سنبھالنے والوں نے حلف اٹھانے ہیں۔اسی مہینے میں تعلیمی درسگاہوں میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد پھر زوروشور سے پڑھائی کا آغاز ہوگا۔ اگست ہی میں عیدالاضحی کے مبارک تہوار کی آمد ہے اور اگست ہی میں لوگ بھادوں کے موسم کی سختیاں سہیں گے اور خواتین اپنے پہناوؤں اور لباس پر خصوصی توجہ دیں گی۔

یوم آزادی کی تیاریاں یکم اگست سے قبل ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ ان ایام کا جوش و خروش الیکٹرانک میڈیا کے زوروشور کا نتیجہ ہے اور اُس حکمت عملی کا مظہر ہے جو کارپوریٹ بزنس پر چون کی دکان سے لے کر بڑے شاپنگ مال تک ترتیب دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ڈوریوں سے بندھی جھنڈیاں ہوتی تھیں اور رات کو مٹی کے دیوں سے چراغاں کیا جاتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ مٹی کے دیے اُن کھانوں کے ساتھ ہی عنقا ہوگئے جو مٹی کی ہانڈیوں میں پکائے جاتے تھے۔ اب جھنڈیوں کی جگہ جھنڈوں اور اُن بے شمار یادگاری اشیاء نے لے لی ہے کہ جن کی گنتی مشکل ہے۔ اب 14 اگست کی یاد دِل میں گھر نہیں بناتی البتہ رخساروں پر پینٹ سے بنائے گئے جھنڈوں کی صورت میں عیاں ہوتی ہے۔ لڑکیاں بالیاں، سبز قمیض اورسفید شلوار پہن کر آزادی کے دن اس بات کا علامتی اظہار کرتی ہیں کہ سبز و سفید پرچم کے ساتھ ان کا رشتہ جنم جنم کا ہے۔ ایک ہفتہ کے بعد یومِ آزادی ہے اس لئے باقی باتیں اس دن کی آمد تک موقوف کرتی ہوں۔

اس مبارک مہینے میں اکہتر برس قبل جب ہمیں آزادی نصیب ہوئی تھی اور ایک نئی مملکت کا آغاز ہوا تھا، ایک نئے پاکستان کی روشن صبح کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ ایک جوان نسل ایک ترقی یافتہ اور کرپشن فری پاکستان کی تعمرِ نو کا بیڑہ اٹھا رہی ہے۔ اپنے رب کریم سے ہم بہتری اور اچھائی کی اُمید رکھتے ہیں۔ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔

وطن عزیز میں سیاسی و معاشی اونچ نیچ کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں۔ گوریمپ واک پر ماڈلز کی چہل پہل محدود ہے اور موسم کی سختی ڈریس ڈیزائنروں کے کام کو متاثر کئے ہوئے ہے تاہم خواتین اپنی پسند، سہولت اور آرام کے حوالے سے اپنے پہناوؤں اور لباس میں حسبِ ضرورت تبدیلیاں لارہی ہیں۔ مون سون کے بعد اِس موسم میں جس میں فضا میں مرطوبیت بڑھ جاتی ہے، ہوا مرضی سے چلتی ہے اور دَم گھٹتا محسوس ہوتا ہے، خواتین سادہ، ہلکے اور دھیمے رنگوں والے پہناوؤں کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں سے باہر نکلتے وقت انہیں موسم کی شدت کا خوف لاحق نہیں ہوتا اور بازاروں میں گھومتے پھرتے بھی تمازت و حبس سے انہیں پریشانی نہیں ہوتی۔

آج ساون کی 23تاریخ ہے۔ گئے وقتوں میں ساون کا کبھی مخصوص رنگ ہوتا تھا۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا رہتا تھا۔ کبھی کبھی گہرے سرمئی بادل ہاتھیوں کی طرح آسمان پر جھومتے تھے۔ بارش کی جھڑی اگر جمعرات کے روز لگتی تو پورا ہفتہ برستی رہتی۔ یہاں تک کہ لوگ اذانیں دینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ بارشوں سے جَل تھَل ہوتا لیکن سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کاروپ اختیار نہ کرتی تھیں۔ نِت نئے پکوان پکتے اور ایک دوسرے کے گھروں میں خوان بھیجے جاتے تھے۔ باغوں میں حقیقتاً جھولے پڑتے اور زندگی اپنی پوری تابندگی اور تازگی کے ساتھ ہمکتی تھی۔ موسم کیا تبدیل ہوا، کتنی ہی رونقیں معدوم اور گہما گہمیاں ٹھِٹھر کر رہ گئی ہیں۔

تحریک و تاریخ پاکستان میں اگست ایک یادگاری مہینہ ہے۔ پاکستان اسی مہینہ میں معرضِ وجود میں آیا تھا۔ رمضان کی 27تاریخ تھی جب پاکستان کا اعلان ہوا۔ جمعہ کا دن تھا اور بارشیں تھیں رُک نہ رہی تھیں۔ لاکھوں لوگ بارش، گرمی اور حبس میں خون بھری ہجرت کے عمل میں تھے۔ امریکی جریدے ’لائف‘ کی فوٹو گرافر مارگریٹ بور کے وائیٹ نے ان ہولناک ایام کو کیمرے کی فلم پر اس طرح محفوظ کیا کہ ہر تصویر درماندگی اور درندگی کی مونہہ بولتی شہادت ہے۔

بہر حال اگست 2018ء میں پاکستان کی قومی سیاست میں ایک امید افزاء تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ قوم نئے حکمرانوں سے ملک کی بہتری، ترقی اور نیک نامی وابستہ کئے ہوئے ہے۔ خواتین نے حبس جوش و خروش سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اسی جوش و خروش سے اب اچھے دنوں کے انتظار میں ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی زندگیوں ہی میں اس معراج کو پہنچے گا جس کا خواب اس ملک کے بنانے والوں نے دیکھا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1