پولیس شہدا کے ورثا کے اعزاز میں خصوصی تقریب 

پولیس شہدا کے ورثا کے اعزاز میں خصوصی تقریب 

پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں یوم شہدا پولیس منایا گیا اس سلسلہ میں ایک عظیم الشان تقریب پولیس لائن گجرات میں منعقد کی گئی یہ امر قابل ذکر ہے کہ جرائم کی بیخ کنی اور پولیس مقابلوں کے دوران 14سو سے زائد پولیس افسران و ملازمین نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 7سو سے زائد پولیس افسران و ملازمین ضلع گجرات میں شہید ہوئے کسی بھی ضلع میں سب سے زیادہ شہدا کا تعلق گجرات سے ہے جو ایک طویل عرصہ سے قانون اور جرم کی جنگ کے دوران جام شہادت نوش کرتے چلے آ رہے ہیں انہی 7سو شہدا کے ورثا کے اعزاز میں گزشتہ روز غازی کیپٹن رومیل اکرم ڈی پی او گجرات نے ایک انتہائی خوبصورت ترین تقریب منعقد کی جس میں تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو مدعو کیا گیا تقریب کی مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عظمی اختر چغتائی تھیں جنہوں نے پولیس کی اس تقریب میں شرکت کر کے انتہائی خوبصورت الفاظ میں شہدا کو سلام اور ان کے ورثا کو عظیم والدین ‘ بہن بھائی قرار دیتے ہوئے عقیدت کے پھول نچھاور کیے اور کہا کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ ان شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتا جو اپنی صبح کا چین اور رات کی نیند کو قربان کرتے ہوئے قوم کی حفاظت کرتے ہیں فوج ہمارے بارڈ کی نگہبان ہے اور پولیس ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہے یہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا فرض ادا کرتے ہیں ڈی پی او غازی کیپٹن (ر) رومیل اکرم نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25سال قبل جب انہوں نے پولیس کی یونیفارم پہنی تھی تو وہ کے پی کے کی پولیس کا حصہ بنے 2003میں پولیس سروس اختیار کرنے کے بعد یکدم ملک کے حالات تبدیل ہوگئے امریکہ افغانستان میں داخل ہوا اور انتہائی بدترین حالات کا سامنا کرناپڑا جس کے لیے ہم بالکل تیار نہ تھے پشاور میں محرم کے دن شروع ہو چکے تھے اور ان کے ڈی آئی جی جنہیں خفیہ ایجنسیوں نے آگاہ کر رکھا تھا کہ ایک ازبک نوجوان اس وقت آپ پر حملہ کریگا جب آپ لوگوں سے بات چیت کر رہے ہوں گے تو انہوں نے میری بات کو مسکرا کر ٹالتے ہوئے کہا رومیل جو رات قبر میں ہے باہر نہیں ‘اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں ‘ محرم کے دنوں میں ہی ان کے ڈی آئی جی خود کش حملے میں جام شہادت نوش کر گئے یہ واقعہ وہ ابھی تک نہیں بھول پائے فوج اور پولیس کی قربانیوں کی بدولت پاکستان آج بھی ایک آزاد ملک ہے جہاں پر قانون کی حکمرانی ہے ہم ایک زندہ قوم ہیں لوگ اس وقت یہ تبصرہ کرنا شروع ہو گئے تھے اب ملک قائم نہیں رہ سکتا دہشت گرد اسلام آباد‘ تربیلا ‘ اور دیگر حساس مقامات پر پہنچ چکے ہیں وہ وقت دور نہیں جب صرف یہ اعلان ہونا باقی ہے کہ جس کے دہشت گرد متمنی تھے مگر اس غیر اعلانیہ جنگ میں پاک فوج اور پولیس کو ایسی شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں جس کی بدولت آج وطن عزیز میں دہشت گردی کا نہ صرف خاتمہ ہوا ہے بلکہ عوام بھی تحفظ محسوس کرتے ہیں ہم عوام کی اس طرح حفاظت کرنا چاہتے ہیں جس طرح والدین اپنے کمسن بچوں کی ‘ شہدا کے ورثا قابل تحسین ہیں جن کی اولاد نے شہادت کا جام نوش کیا مگر ہم انہیں ہر گز لاوارث نہیں چھوڑیں گے ان کے بچوں کی دیکھ بھال ‘ تعلیم و تربیت ‘ علاج معالجہ محکمہ پولیس کے ذمہ ہے ان کی جدائی کا غم تو کبھی پورا نہیں ہو سکتا مگر ان کے ورثا کے غم میں شرکت کر کے انہیں احساس تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے مذکورہ تقریب میں گجرات کے تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے وسیع پیمانے پر شرکت کی اور اسکے انتہائی خوبصورت انتظامات کیے گئے قومی فوجی ‘ اور ملی نغموں نے ایک ایسا سماں باندھ دیا کہ محفل میں موجود ہر شخص داد تحسین دینے پر مجبور ہو گیا بالخصوص ’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے‘‘ تو لبدی پھریں بازار کڑے‘‘پر حاضریں محفل کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے کیپٹن(ر) رومیل اکرم جو کارگل جنگ کے غازی بھی ہیں اور جرات و بہادری کی وجہ سے انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا ہے پہلے وہ پاکستان کی سرحدوں کے محافظ تھے اور ہندوستانی فوج کے ساتھ جنگ کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے مگر انہوں نے شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنا مورچہ نہ چھوڑا اور 6سو سے زائد ہندوستانی سورماؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہندوستانی فوج یہی تصور کرتی رہی کہ اس مقام پر پاک فوج کی ایک بریگیڈ متعین ہے جو ان کے راستے کی رکاوٹ ہے مگر حقائق اسکے برعکس تھے رومیل اکرم کے ساتھی یکے بعد دیگر ے جام شہادت نوش کرتے رہے اور کیپٹن (ر) رومیل اکرم جو اس مورچے پر تن تنہا وطن کی سرحدوں کا دفاع کر رہے تھے ڈٹے رہے اور زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے بھارتی فوج کا مقابلہ کیا ان سے بہتر موت اور زندگی کا فاصلہ کون جانتا ہوگا جو ایک راکٹ لانچر کا شیل لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئے تھے آج خداوند کریم نے انہیں محکمہ پولیس میں عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے تو وہ اسی طرح محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں جس طرح وہ کارگل کے محاذ پر ڈٹ کر وطن کا دفاع کر رہے تھے ان کی تعیناتی کے دورمیں ہونیوالے تمام جرائم کا سراغ لگایا گیا انتہائی خوش اخلاق‘ بردباد اور ماتحت ملازمین کے لیے شفقت پدری رکھنے والے اس پولیس آفیسر سے ملک وقوم کو بے پناہ توقعات وابستہ ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ شاندار تقریب کا اہتمام کرنے میں پی آر او اسد گجر پیش پیش تھے اور انہیں محکمانہ طور پر شاباش دی گئی ۔

مزید : ایڈیشن 2