قمار بازی ، فحاشی اور سوشل و سائبر کرائم کا خاتمہ اولین ترجیح ہے

قمار بازی ، فحاشی اور سوشل و سائبر کرائم کا خاتمہ اولین ترجیح ہے

انتخا بات 2018کے حوالے سے جہاں پر ملک بھر میں حساس اداروں ، رینجر ز اور دیگر محکموں کا کر دار نما یاں رہا وہاں محکمہ پو لیس کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا ضلع شیخوپورہ میں 25جو لا ئی 2018کو الیکشن ڈے کے مو قع پر آجی پنجا ب پو لیس ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج اور ڈی پی او شیخوپورہ ڈاکٹر سر دار غیا ث گل خان کے حکم پر تمام پو لنگ اسٹیشنز میں پو لیس کی بھاری نفری تعینات کیئے جانے کے علاوہ شیخوپورہ شہر سمیت ضلع بھر کے تمام داخلی اور خا رجی راستوں پر سخت سکیو رٹی انتظامات کیئے گئے ،خار دار تاروں ،واک تھرو گیٹس اور مینٹل ڈیٹکٹر کا بھی استعمال کیا گیا ڈی پی او ڈاکٹر سردار غیا ث گل خان نے الیکشن ڈے سے قبل تمام تھا نوں کے ایس ایچ اووزاورایس ڈی پی اووز حضرات کے ساتھ خصو صی میٹنگ کر کے انہیں بر یفنگ دی کہ الیکشن کے روز شہر یوں کے جان ومال کے تحفظ کی خا طر ہمیں اپنی تمام تر محکمانہ تکنیکی صلا حیتوں کو بروئے کا ر لا کر اپنی جا نوں کے نذرانے بھی پیش کر نے سے گر یز نہیں کر نا ہو گا جس پر تما م فو رس نے حقیقی محب وطن کے جذبے کے تحت اپنی اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور اللہ پا ک کی رحمت سے الیکشن خیرو خیر یت سے گزر گیا اس کے علا وہ ڈی پی او کی مثبت حکمت عملی کے تحت کسی بھی سیا سی یا دینی جما عت کے امیدواروں کی طر ف سے کسی قسم کے غیر قانونی حر بے استعمال کر نے کی شکا یا ت بھی موصول نہیں ہو ئیں اس مر تبہ محکمہ پو لیس کا ایک منفرد کر دار تحریر کر نا ضروری سمجھتے ہیں جہاں پرپنجا ب پو لیس کے جو ا نوں نے نہ صرف کسی کے ممکنہ سا نحہ سے نپٹنے کیلئے خصو صی اقدامات کر رکھے تھے وہا ں پر انہوں نے رضا کا روں اور امدادیوں کا کر دار بھی بھر پور نبھا یاالیکشن میں ووٹ کا سٹ کر نے کے لیئے آنیوالی خوا تین اور معمر افراد کو پو لنگ کیمپوں سے لیکر پو لنگ بو تھ تک مکمل رسا ئی کر وا ئی گئی جس پر شیخوپورہ کی عوام پنجا ب پو لیس زندہ آبا د کے نعرے بھی لگا تی رہی اور متعدد پولینگ اسٹیشنز پر لوگوں نے پولیس آفیسران کو جذبہ خیر سگالی کے تحت پھولوں کے گلدستے بھی پیش کئے ایک اور اہم با ت یہ ہے کہ شیخو پورہ میں سا بقہ ڈی پی اووز کے اداروں میں بھی بہت سے کا رنا مے سر انجام دیئے گئے پو لیس اور عوام کے درمیان اعتماد اور اطمینان کا رشتہ بر قرار نہ ہو سکا موجودہ ڈی پی او سردار غیا ث گل خان کی تعیناتی کے بعد جہاں پر محکمہ پو لیس کے اندرونی معاملات میں بہتری آئی وہاں پر عوام کو بھی بڑی حد تک ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے بعض پو لیس ملا زمین اور جرا ئم پیشہ افراد کے ظلم و ستم کے ستائے ہو ئے لو گ جب متا ثرین بن کر ڈی پی اوشیخوپورہ کے آفس میں دا خل ہو تے ہیں اور انہیں را ستے میں کسی بھی قسم کی رکا وٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تو صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ان کی آدھی سے زائد پریشانی ختم ہو جاتی ہے یہ خصوصیت ہم نے پہلے کسی بھی ڈی پی او کے دور میں نہیں دیکھی اور پھر ضلع بھر کے تمام علاقوں کے عوام کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں پر ایس ایچ او زکی تعیناتیاں کرنا بھی کسی حکمت سے کم نہیں جب عوام اور پولیس آفسیران کے مزاج کو سمجھتے ہوئے معاملات کو پوری زمہ داری سے چلایا جائے تو لوگ بھی پولیس کے کردار پر رشک کرتے ہیں اور اس طرح لوگ پولیس سے خوف کھانے کی بجائے انہیں زہنی طور پر اپنا محافظ تصور کرتے ہیں کسی بھی سسٹم کو چلانے کے لیے ایک ذہین اور با صلاحیت کپتان کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا شیخوپورہ کی عوام پر بہت احسان کیا ہے کہ انہیں خداداد صلاحیتوں سے مالامال ڈی پی او ڈاکٹر سردارغیا ث گل خان کی خدمات میسر آئیں جہاں پر سسٹم کو تکنیک سے چلانے میں ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے وہاں پرڈی پی او سردار غیا ث گل خان نے سماج دشمن اور عناصر اور جرائم پیشہ لوگوں پر بھی کڑی نظر رکھی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تعیناتی کے تقریبا ایک ماہ کے عرصے کے دوران ہی شیخوپورہ پولیس نے ڈی پی او ڈاکٹر سردار غیا ث گل خان کی خصوصی ہدایت اور ان کی طرف سے دیئے گئے خصوصی ٹاسک پر عمل درآمد کرتے ہوئے سنگین مقدمات میں ملوث 150اشتہاری ملزمان کو کو گرفتار کیا تین خطر ناک نامور ڈکیت گنیگز’’ شہزاد گینگ‘‘ ، ’’ آصف عرف آسو گینگ ‘‘اور’’ فیاض عرف کھبو گینگ‘‘ کے درجنوں ساتھیوں کو مورچہ بند فائرنگ کر کے پولیس مقابلوں کے بعد گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران چھینی جانے والی درجنوں موٹر سائیکلیں ،درجنوں موبائیل فونز ،درجنوں ناجائز بلالائسنسی پسٹلز ،طلائی زیورات لاکھوں روپے نقدی اور دیگر مال مسروقہ بر آمد کر لیا ہے اور پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے ڈکیت گینگز سے ہم مزید تفتیش کر رہے ہیں اور دوران تفتیش ان سے مزید سنسنی خیز انکشاف کی بھی توقع ہے اور ضلع شیخوپورہ میں دیسی اور ولائتی شراب تیار کر کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں سپلائی کر نے اور علاقہ غیر سے ہیروئن اور چرس منگوا کر بڑے پیمانے پر سپلائی کرنے اور گلیوں محلوں اور تعلیمی اداروں میں مستقبل کے معماروں کی رگوں میں زہر بھرنے والے انسانیت کے قاتلوں کے متعددگینگز کو بھی گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے دیسی اور ولائتی شراب کی بھاری مقدار بر آمد کر نے کے علا وہ چا لو بھٹیاں اور شراب کشیدگی کے آلات بھی بر آمد کر لیئے ہیں جبکہ منوں کے حساب سے چرس اور ہیر وئن بھی بر آمد کی ہیں اور ان منشیات فروشوں کے خلاف 53مقدمات درج کیئے گئے ہیں جبکہ شیخوپورہ میں ریا ست میں ریا ست بنا نے کی گندی زہنیت کے حامل جرا ئم پیشہ درجنوں افرادسے بھاری مقدار میں نا جا ئز اسلحہ بر آمد کر کے ان کے خلاف 106مقدمات درج کیئے گئے ہیں ڈی پی او ڈا کٹر سردار غیا ث گل خان نے سا بقہ اداروں کی طرح جہاں پر نا جا ئز مقدمات کے اندراج کو روکنے پر خصوصی تو جہ دی ہے وہاں پر انہوں نے اعلیٰ اور شاندار کا گر دگی کے حامل پو لیس آفیسران کو نقد انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا سلسلہ بھی جا ری کر رکھا ہو ا ہے ایک ملا قات میں ڈی پی او ڈا کٹر سر دار غیا ث گل خان نے بتا یا کہ عوام کے جان ومال کی حفا ظت ریا ست کی اہم ذمہ داری ہے ہم پہلے مر حلے میں سنگین نو عیت کے مقدمات میں ملوث اشتہاری ملزمان کی گر فتاریوں کو یقینی بنانے اور ڈکیتی ،چوری،راہزنی اور سٹر یٹ کر ائم میں ملوث سما ج دشمن عنا صر کا قلہ قمہ کر نے میں مصروف ہیں مگر شیخوپورہ سے قما ری با زی ،فحا شی ،سو شل کرا ئم اور سا ئیبر کرا ئم کا خا تمہ بھی ہما ری تر جیحات میں شامل ہیں ۔

محکمہ پو لیس سمیت پا کستان کے تما م اداروں میں بلا شبہ کا لی بھیڑیں مو جو د ہیں جن کی وجہ سے اکثر اوقا ت پو رے پو رے محکمے کو بدنا می کا منہ دیکھنا پڑتا ہے مگر ہمیں مسلمان ہونے کے نا طے ما یو س نہیں ہو نا چا ہیے کیو نکہ ہما رے دین اسلام میں ما یو سی کو گنا ہ کیا جا تا ہے جب ملکی سطح پر تبدیلی آچکی ہے تو ہمارے ضلع شیخوپورہ میں تبدیلی کیو ں نہیں آ سکتی اب شیخوپورہ کی عوام کو یہ با ت سمجھ لینی چا ہیئے کہ ایک خان اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ گیا ہے تو ایک خان ہما رے ڈی پی او آفس میں بھی بیٹھا ہے جو مل کر سسٹم کی بہتری کے لیئے اقدامات کریں گے اور انشاء اللہ عنقریب شیخوپورہ کی عوام کو امن وامان کی فضاء مستقل بنیادوں پر حا صل ہو جا ئے گی اور جرا ئم پیشہ افراد کو ان کے عبر تنا ک انجام تک پہنچنا ہو گا ۔

مزید : ایڈیشن 2