پولیس افسروں کی مبینہ کرپشن ، نیب لاہور کا تحقیقات کا آغاز 

پولیس افسروں کی مبینہ کرپشن ، نیب لاہور کا تحقیقات کا آغاز 

نیب حکام نے پولیس کے تین اعلیٰ حکام کیخلاف کرپشن کی تحقیقات شروع کردی ہیں ان پولیس افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں کرپشن کے ذریعے لاہور میں کروڑوں روپے کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق لاہور کے سابق سی سی پی او امین وینس ‘ سابق ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹرحیدر اشرف اور آرگنائزڈکرائم انویسٹی گیشن انچارج عمر ورک کیخلاف نیب نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نیب حکام نے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو ایک مراسلہ بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں ان پولیس افسران کے نام پر خریدی گئی، بیچی گئی اور ٹرانسفر کی گئی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔گزشتہ دور میں پولیس حکام نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے اور پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص فندز کو ہضم کر گئے جبکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث مجرموں سے بھاری رشوت کا الزام بھی ان افسران پر لگایا گیا کئی پولیس افسران اب ارب پتی بن چکے ہیں ان کی جائیدادیں ان کے ذرائع آمدن سے کئی گنا زیادہ ہیں اس لئے نیب حکام نے تحقیقات کا حکم دیاہے۔نیب زرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب پولیس میں کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے پولیس افسران نے کرپشن کے ذریعے کس ہاوسنگ سوسائٹی میں کتنے گھر اور بنگلے بنائے ہیں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے بعد پنجاب پولیس بھی نیب کے ٹارگٹ پرآگئی ہے اور نیب نے گھپلوں میں ملوث پنجاب پولیس کے کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات کے لیے باقاعدہ ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے، اس حوالے سے نیب لاہور کی جانب سے مراسلہ موجودہ آئی جی پنجاب کو لکھا گیا ہے جس میں سازوسامان کی خریداری کی تفصیلات اور ملوث افسران کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کو مکمل ریکارڈ کی فراہمی کے لئے متعدد مراسلے لکھے جا چکے ہیں لیکن پنجاب پولیس نے تاحال مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا اس لئے نیب نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے آئی جی پنجاب کو بھی مراسلہ بھیجا جائے۔نیب لاہور نے ایس ایس پی عبد الرب چوہدری کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر پنجاب پولیس میں 2012 سے 2015 کے دوران بلٹ پروف اور سردیوں کے جیکٹس کی خریداری کی چھان بین، ڈولفن ہیلمٹس، ہتھکڑیوں, چھتریوں اور اینٹی رائٹس فورس کے سامان کی خریداری میں مبینہ گھپلوں اور پولیس افسران نے کرپشن کے ذریعے ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر اور بنگلے بنانے کی تحقیقات شروع کردی ہے جب کہ آئی جی پنجاب آفس میں تعینات رجسٹرار اور اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مبینہ کرپشن کے شواہد جمع کرلیے گئے ہیں۔نیب انوسٹی گیشن ٹیم نے اعلیٰ پولیس افسروں کے اثاثوں کی تحقیقات کا دائر ہ کار بڑھاتے ہوئے ایل ڈی اے اور سی سی پی او لاہور کو بھی مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں سابق ڈی �آ ئی جی آپریشن لا ہور ڈاکٹرحیدر اشرف ،سابق ایس ایس پی سی آئی اے عمر ورک ،سابق سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور دیگر پولیس افسروں کی تعیناتی سے لیکر ابتک ہونے والی ترقیوں ،ٹرانسفر پوسٹنگ سمیت دیگر ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔ واضح رہے یہ اقدام سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے جرائم میں ملوث ہو نے کے شواہد ملنے کے بعد کیا گیا ہے ۔کراچی میں سابق آئی جی پولیس سندھ اور سیکریٹری داخلہ نے پولیس افسران کے کرمنل ریکارڈ کی ایک رپورٹ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش کی ۔ جس کے مطابق گریڈ 17 سے 18 تک کے افسران مختلف جرائم میں ملوث پائے گئے ۔اس رپورٹ کے بعدسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ پولیس افسران کے کرمنل ریکارڈ کا کیس کی سماعت بھی ہوئی ۔دوسری جانب سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ جرائم میں ملوث گریڈ 17 کے پولیس افسران کی تعداد 31 ہے، گریڈ 18 سے 21 تک 35 افسران ایسے ہیں جن کے خلاف کارروائی ہونی ہے۔سابق آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ جرائم میں ملوث پولیس افسران کیخلاف کارروائی کرناتھی وہ ہم نے کی، گریڈ 16 اور اس سے کم گریڈ کے 184 پولیس افسران کو سزائیں دے دی ہیں، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے خلاف کارروائی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کرتا ہے، سابق آئی جی سندھ گریڈ 15 تک کے افسران کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے، گریڈ 16 سے اوپر سینیر افسران کے خلاف کارروائی ان کا اختیار نہیں۔واضح رہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کرپشن کیسز میں ملوث گریڈ انیس اور بیس کے افسروں کو ترقی دینے والی فہرست میں شامل کرنے پر ر ناراضگی کا اظہا ر کیا تھا۔ گریڈ انیس سے بیس اور بیس سے اکیس میں مختلف سروسز گروپوں کے افسروں کو ترقیاں دینے کا جب سینٹرل سلیکشن بورڈ ہو نا تھا بورڈ سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عبا سی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو ہدایت کی کہ صرف ان افسران کے نام پروموشن بورڈ کے سامنے پیش کئے جائیں جن پر کر پشن کا کوئی کیس نہ ہو اور ان کے خلاف نیب یا کسی دوسرے ادارے میں تحقیقات نہ ہو رہی ہوں۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور کر پشن میں ملوث ہو نے کے باوجود متعدد افسران ترقی حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔

بدعنوانی ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔پاکستان کی بدنصیبی یہ رہی کہ اسے نہ تو قانون بنانے والے ادارے ہی ڈھنگ کے میسر آئے، نہ ہی قانون نافذ کرنیوالے، بلکہ اْلٹا ان دونوں نے گٹھ جوڑ کرکے کتے بلی کا جانگلوسی کھیل کھیلنے کا سمجھوتہ کرلیا، اور ریاست کو عدم تحفظ اور داخلی دہشت گردی کے منہ میں دھکیل دیا۔ اس میں اندرونی مفادات اور بالادستی کا مکروہ کاروبار پنہاں تھا جس نے آج وطن عزیز کو پولیس اسٹیٹ، دہشت گردوں کی جنت، کرہء ارض کا جہنم اور بالخصوص ایک ناکام ریاست کے القاب و خطابات سے نواز رکھا ہے۔ ملکِ خداداد میں پولیس کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے۔اس کی نمایاں وجہ سیاسی بصیرت سے عاری وہ افراد ہیں جنھوں نے ہر دور میں طاقت اور جبر کے بل پر پارلیمنٹ پر قبضہ جمائے رکھا اور عوام کے بنیادی حقوق غصب کرکے پاکستانیوں کو کبھی ایک قوم نہیں بننے دیا۔ پاکستان کے اعلیٰ ادارے ان اوباش تماش بینوں کے گھر کی لونڈیاں بنے رہے، اور چند چکنے چپڑے نوالوں کی خاطر اپنے پیروں میں گھنگرو اور گلے میں زنجیریں تک بندھوانے میں کبھی عار نہ سمجھا۔ 

آج پولیس کا ادارہ ناقابلِ ادراک حد تک تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ پولیس نے پاکستان کے معصوم شہریوں کو تختہء مشق بنارکھا ہے اور اس کے اسی شرمناک کردار کی وجہ سے آج ہر شریف شہری اس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا ہے۔ یہ پولیس کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے کہ معاشرہ بحیثیتِ مجموعی بے پناہ حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔شہروں، دیہاتوں، جنگلوں اور ویرانوں میں چہار دانگ، جابجاڈاکو، راہزن، چور، موالی اور دیگر ہر طرح کے جرائم کارعناصر آزاد اور بے لگام دندناتے پھرتے ہیں اوراپنی من مانیوں میں مگن پولیس ایسے مجرموں کی بلاجھجک پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔ بااثر مجرموں، سیاستدانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ پولیس کے کارندوں کی بخشیش و تحائف کی روایت اور پولیس افسران کی اپنے ان آقاؤں پر نوازشات کی ثقافت ایک دوسرے کی بانھوں میں بانہیں ڈالے دیسی بھنگڑے کی انگلش بِیٹ پر دیوانہ وار ناچ رہی ہیں۔ ریاست کے تمام پولیس اسٹیشنز تھانیداروں کے ذاتی ڈیروں اور تھوک پرچون کی دکانوں کا روپ دھارچکے ہیں۔وہاں صرف ان ہی کی داد رسی ہوتی ہے جن کی یا تو کوئی بہت بڑی سفارش ہو یا ان کی جیبوں میں نوٹوں کی گڈیاں چمکتی ہوں‘ اس کے بغیر ان دکانوں پر جو بھی جاتا ہے سوائے بے عزتی اور بدسلوکی کے کچھ نہیں پاتا۔یہ وطیرہ بھی پولیس ہی کا ہے کہ مخالف پارٹیوں سے رقم ان ہی مظلوم اورکمزور لوگوں کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور ان پرناکردہ جرائم ڈال کر بڑے بڑے خطرناک مقدموں میں پھنسا دیا جاتا ہے جن میں کچھ تو اپنے گھر بار بیچ کر جان بخشی کروالیتے ہیں اور بعض عمر بھر جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، یا پھر پولیس تشدد اور مقابلوں میں ماردیے جاتے ہیں جب کہ اصل مجرموں کو تفتیشوں اور انکوائریوں میں پاک دامن ثابت کرکے قانون کے شکنجوں سے بچا لیا جاتا ہے۔ خیر بات کسی اور طرف چل پڑی ہے لیکن یہ باتیں شواہد کی تصویر پیش کر تی ہیں کیو نکہ مظلوم اور ظالم کی خبر یں فائل کر تے مجھے بھی 22سال ہو گئے ہیں کئی واقعات میں مظلوم کی بے بسی اور افسران کی بے حسی ہمیں بھی چین سے سونے نہیں دیتی۔ بات کر رہے تھے کر پشن میں ملوث افسران کی تونیب نے بڑے پیمانے پر اداروں اور افراد کیخلاف انکوائریاں شروع کردی ہیں، ،

یہ بڑا خوش آئند امر ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ملتان میٹروپراجیکٹ میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی،پنجاب میں 56پبلک لیمیٹیڈکمپنیوں میں مبینہ بدعنوانی کی شکایات پر انکوائری ،پاکستان سٹیل ملز کی بربادی اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے انکوائری اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کے علاوہ گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انڈسٹریل اور کمرشل پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان کا نوٹس جیسے فیصلے قلیل عرصہ میں لینے سے ثابت ہوتا ہے کہ چیئرمین نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی سرگرمیوں کی راہ میں کرپشن کے ذریعے روڑے اٹکانے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں

مزید : ایڈیشن 2