20ہزار جعلی اسلحہ لائسنس تیار کرنے کا انکشاف ، سرکاری خزانے کو 38 کروڑ کا ٹیکہ

20ہزار جعلی اسلحہ لائسنس تیار کرنے کا انکشاف ، سرکاری خزانے کو 38 کروڑ کا ٹیکہ

لاہور(عامر بٹ سے)20ہزار جعلی اسلحہ لائسنس تیار کرنے کا انکشاف38کروڑ روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث اسلحہ برانچ میانوالی کے اہلکاروں کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب کی جانب سے بھیجے جانے والے ریفرنس اور ہدایت ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی، ڈپٹی کمشنر میانوالی با اثر اہلکاروں کے سامنے بے بس ہو گئے ڈھائی سال گذر جانے کے بعد بھی دھکے کھانے والے درخواست گزارنے چیئرمین نیب سے نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق میانوالی کے رہائشی محمد رمضان ولد محمد زمان کی جانب سے قومی احتساب بیورو پنجاب لاہور میں دی جانے والی واضح ثبوتوں پر مشتمل درخواست پر ڈھائی سال گذر جانے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہ کی جا سکی۔ قومی احتساب بیورو پنجاب میں محمد رمضان نے ایک بار پھر درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میری درخواست پر ابتدائی انکوائری کرنے کے بعدمورخہ 02۔11۔16کے تحت ڈی سی او کو انکوائری کرنے کے لئے تحریر کیا مگر تقریباً اڑھائی سال گذر جانے کے بعد نہ ہی ڈی سی او اور نہ ہی محکمہ کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ بلکہ درخواست ردی کی ٹوکری کی نظر کر دی گئی ہے۔ اسلحہ لائسنس سال 1999ء میں بند ہو چکے تھے لیکن ضلع میانوالی میں درج ذیل اہلکاران و پرائیویٹ اشخاص نے اس وقت سے لیکر اب تک رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دھڑا دھڑ اسلحہ لائسنس تیار کرتے ہیں۔ ان کو کمپیوٹر کرتے ہیں اور خزانہ سرکار و عوام کو لوٹ لیا گیا ہے۔ جن میں ملوث ملزمان اہلکاران محمد اقبال خان، عبدالجبار، مہران خان، سمیع اللہ، محمد رمضان جانی، شعیب مسعود، محمد فیاض جونیئر کلرک، محمد طارق خان، شیخ محمد اشرف سابقہ اسلم کلرک، فیض محمد و نوید اقبال پرائیویٹ ٹاؤن فخر اللہ خان گارڈ محکمہ جنگلات، عادل شاہ و ضیاء اللہ، حاجی احمد نائب قاصد ان، راؤ شکیل سپرنٹنڈنٹ و جملہ عملہ نادرا برانچ ڈی سی آفس میانوالی جعلی اسلحہ لائسنس تیار کرنے و کمپیوٹر کرنے میں ملوث ہیں۔ سائل نے چیئرمین نیب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

جعلی اسلحہ لائسنس

مزید : صفحہ آخر