وفاق اور صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور فاٹا 891ارب روپے کے نادہند ہ ، پاور ڈویژن کا انکشاف

وفاق اور صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور فاٹا 891ارب روپے کے نادہند ہ ، پاور ڈویژن کا ...

اسلام آباد(آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاور ڈویژن نے مجموعی طور پر891ارب روپے کی وصولی کرنی ہے، صوبوں نے 40.38ارب روپے ڈسکوز کو ادا کرنے ہیں جن میں سے 7.2ارب روپے وفاق نے،99.2ارب آزاد کشمیر ، 26.9ارب روپے فاٹا ، 232ارب روپے بلوچستان ، کراچی نے 73.4ارب روپے ادا کرنے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضے کا اجلاس سینیٹر شبلی فراز کے زیر صدارت گزشتہ روز منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ نیپرا نے بجلی بلوں کی وصولی کی شرح100ٖفیصد رکھی ہے جو کہ نا ممکن ہے جبکہ ڈسکوز کے نقصان میں چلنے بھی گردشی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،ڈسکوز کے ٹیرف تعین کرنے کیلئے سالانہ کی بجائے 3ماہ بعد کرنے کی تجویز زیر غور ہے،توانائی کے شعبے کو اس سال 50ارب روپے سبسڈی دینے کی منظوری دی گئی ہے،سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بجلی کے مہنگے منصوبے لگا کر بجلی تو پیدا کر دی لیکن ہم اس خطے کی سب سے مہنگی ترین بجلی پیدا کر رہے ہیں، اگر کوئی گردشی قرضے ختم کر دے تو اسے نشان پاکستان دیں گے،بجلی چوری میں لائن مین سے لے کرسی ای اوز تک لوگ ملوث اور اپنا حصہ لیتے ہیں۔۔چیئرمین نیپرا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر سال کے پہلے ماہ میں تمام ڈسکوز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیرف پر نظر ثانی اور ٹیرف ریٹ جاری کرنے کیلئے درخواست دیں لیکن تمام ڈسکوز 0ماہ سے ایک سال کی تاخیر سے اپنی ٹیرف نظرثانی کی درخواست دیتے ہیں ۔ پھر ہم ان کی درخواست کے مطابق ٹیرف ریٹ نہ دیں تو معاملات کو عدالتوں میں لے جایا جاتا ہے جس سے کام میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔ اس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بجلی چوری اور دیگر نقصانات کا بوجھ ڈسکوز نیپرا پر ڈال دیتی ہیں۔ حکومت کیسے نیپرا کے کام میں مداخلت کر سکتی ہے۔اس پر پاوڑ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیپرا نے بجلی بلوں کی وصولی کی شرح100ٖفیصد رکھی ہے جو کہ نا ممکن ہے خاص کر ان علاقوں میں جہاں بجلی بلوں کی ادائیگی بہت کم ہے۔جوائنٹ سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیرف تعین کرنے کیلئے سالانہ کی بجائے 3ماہ بعد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔حالیہ دنوں میں بجلی کی پیداوار23,760میگا واٹ ہے اور تمام پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے گردشی قرضوں کو روکنے کیلئے کئی اقدامات کیے۔ پاکستان کا گردشی قرضہ 566ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے اوراگر پاور ڈویژن کو بقایا جات کی وصولی کر دی جائے تو سارا گردشی قرضہ ختم ہوسکتا ہے۔

پاور ڈویژن /انکشاف

مزید : صفحہ آخر