ڈاکٹر طاہر امین کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم ، سٹوڈنٹس کا گروہ بے نقاب ، فوری کارروائی کا فیصلہ

ڈاکٹر طاہر امین کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم ، سٹوڈنٹس کا گروہ بے نقاب ، فوری ...

ملتان(خصوصی رپورٹر) زکریایونیورسٹی کے وائس چانسلر افواہوں کے خاتمے کیلئے خود سامنے آگئے ہیں ،پریس کانفر نس میں تمام الزامات کو مسترد کردیا بیماری کے بعد پریس کانفر نس کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے کہا کہ میڈیسن کے ری ایکشن سے حالت خراب ہوئی ہوش آیا تو آئی سی یو میں تھا مجھے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا حتکہ کے ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹرز نے سوالات کئے وہ بھی یاد نہیں ، مگر افواہوں کی وجہ سے میرے خاندان کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جو میڈیکل رپورٹ دی جاری ہے ان میں کوئی صداقت نہیں ، یونیورسٹی کے کچھ افراد افواہ ساز ی میں ملوث ہیں جواپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ، ہم نے تین سال کے عرصے میں یونیورسٹی میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے یونیورسٹی کی رینکنگ بھی بہتر ہوئی ہے ڈاکٹر طاہر امین نے کہاہے کہ اس خطے کے نوجوانوں اور ان کے والدین کے اعتماد کا نتیجہ ہے کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ اوپن ہونے کے تین دن کے اندر 2500درخواستیں آچکی ہیں اور یونیورسٹی کی 43سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ Onlineداخلے ہورہے ہیں اور بچوں کو پراسپیکٹس کے نام پر زیر بار نہیں کیا گیا۔ میں نے یونیورسٹی کی نیک نامی پر حرف لانے والے بڑے اہم مسائل کو حل کیا ہے جن میں لاہور سب کیمپس ، فاصلاتی نظام تعلیم کے مسائل سے سبھی صاحب الرائے واقف ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے ذمہ دار افراد اور ان کی وساطت سے اس خطے کے صاحب شعور کو اپنی ذات کے حوالے سے بعض تکلیف دہ افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری ایک ہی بیوی ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ان میں سے کوئی کینیڈا میں مقیم نہیں۔ میرے اوپر کسی قسم کا دباو نہیں۔ البتہ پچھلے ہفتے میڈیکل ایمرجنسی کے تحت ہسپتال میں داخلہ ہوا جس کے بعد میری یہ توقع رہی کہ اس درس گاہ کیلئے میری خدمات کی بنیاد پر تمام اہلِ خیر میری صحت یابی اور میرے افراد خانہ کی دلجوئی کریں گے۔ یہ وہ انسانی اقدار ہیں جن کے حوالے سے اس خطے کی صوفیانہ روایات مستحکم ہیں۔ میں نے یہاں آکر اپنے ساتھیوں کی مدد سے یونیورسٹی کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ آج بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو تحقیق کی دنیا میں ایک ایسا مقام حاصل ہو اہے کہ میری تحریک پر N.R.P.U 2018میں یونیورسٹی کے 26پراجیکٹس منظور کئے ہیں۔ یونیورسٹی کی ورلڈ رینکنگ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی 805ویں نمبر پر آئی ہیں۔ ایچ ای سی رینکنگ میں یونیورسٹی 4پوزیشن پر نمبر پر ہے۔ سیلیکشن بورڈ اور سینڈیکیٹ کے ذریعے تمام فیصلے کیئے ہیں۔ سینیٹ، اکیڈمک کونسل، ایڈوانس سٹڈیز اور سینڈیکیٹ کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کروائے ہیں، اس موقع پر وائس چانسلر کی بیٹی، ڈاکٹرسدرہ طاہر کاکہناتھا کہ والد کی بیماری میں آنے والی افواہوں سے تکلیف ہوئی پہلے دن سے تما م اہل خانہ ساتھ ہیں میڈیا کوریج میں اعتدال نہ ہونے کی وجہ سے معمولی واقعہ کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا گیا ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب ، ڈاکٹر عمر چودھری کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر کی حالت پہلے سے بہتر ہے اوروہ اپنے دفتر میں کام کررہے ہیں یونیورسٹی انتظامیہ تمام معلومات فراہم کرنے کے لئے 24 گھنٹے حاضر ہے اس موقع پر ڈاکٹر مقرب اکبر، ڈاکٹر اشرف خان، اور دیگر موجود تھے۔علاوہ ازیں زکریا یونیورسٹی کے آئی ٹی ماہرین نے وائس چانسلر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانیوالے سٹوڈنٹس کا پتہ چلا لیا، سائبرکرائم کو مقدمے کی درخواست دے دی گئی زکریا یونیورسٹی کے آئی ٹی ماہرین نے ان سٹوڈنٹس کو پتا چلالیا ہے جو سوشل میڈیا پر وائس چانسلر اور یونیوسٹی کے خلاف مہم چلارہے تھے جنہوں نے سوموار کی رات وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر امین کے انتقال کی خبر بھی پوسٹ کردی جس پر ایکشن لیتے ہوئے وائس چانسلر نے ماہر ین کو ان کا پتا چلانے کی ہدایت کی جس پر فیس بک اور ٹویٹر پر پیج بنانے والے حسن مرزا، محمد رمضان اور رومان ملک اور حماد کی نشاندہی ہوئی جو یونیورسٹی کے شعبہ ماس کام، آئی ٹی کے طالب علم ہیں اسی طرح ایک طالب علم احمد بگٹی جو تین بار یونیورسٹی نکالا جاچکا ہے بھی ایک پیج چلارہا ہے جس پر یونیورسٹی کے خلاف باتیں لکھی ہوتی ہیں ماہرین نے ان پتا چلنے پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو تحریری درخواست دیدی ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان پیجز کو بلاک کیا جائے۔

ملتان(سپیشل رپورٹر) ملک کے معروف سکالزز و بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین چند روز قبل ناسازی طبعیت کے باعث نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج رہنے کے بعد ان دنوں مکمل صحت یاب ہیں اور انھوں نے یونیورسٹی امور سنبھال کر کام شروع کردیا ہے۔ نشتر سے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے روزمرہ کے امور بھی سرانجام دیئے کیمپ آفس میں انہوں نے سینڈیکیٹ اجلاس کے منٹس پر دستخط کئے اوررجسٹرار سے دیگر معالات پر بریفننگ لی ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے ہمیشہ یونیورسٹی کے معاملات قاعدے اور قانون کے مطابق سر انجام دے ہیں اور اس سلسلے میں ان پر یونیورسٹی اساتذہ یا انتظامیہ کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ واضع رہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین اس سے قبل بھی طبعیت خراب ہونے پر2بار ہسپتال میں داخل رہ چکے ہیں ۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق وی سی ڈاکٹر طاہر امین تقریباً6ماہ قبل واک کر رہے تھے کہ ان کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی ۔ پتہ چلنے پر انہیں فوری طور پر ایک پرائیویٹ ہسپتال داخل کرایا گیا جبکہ بعد میں وہ لاہورکے ہسپتال میں شفٹ ہو گئے جبکہ تقریباً2ماہ قبل اچانک طبعیت خراب ہونے وہ ملتان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل ہوئے تھے ۔وی سی ڈاکٹر طاہر امین کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وی سی ہارٹ پیشنٹ ہیں اور رہائش گاہ میں اکیلے رہتے ہیں ۔زیادہ مقدار میں دوائی لینے کے باعث ان کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں نشتر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ۔وی سی نے یونیورسٹی کے کرپٹ مافیا کے خلاف سخت اقدامات کئے ۔ اس پر انہوں نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور پراپیگنڈہ کیا ۔وی سی ڈاکٹر طاہر امین کی کاوشوں سے مسلسل دوسرے سال عالمی ریکنگ میں آئی ہے ۔ اس بات سے بعض عناصر خائف ہیں ۔ اور ان کے خلاف خود کشی جیسے گھناؤنے الزامات کا پراپیگنڈہ کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر امین نے قبل ازیں اپنی ناسازی طبعیت کے باعث 16جولائی کو بھی چھٹی کی ایک درخواست دی تھی جو گورنر ہاوس سے مستر د کی جاچکی ہے جس میں انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کیلئے 7دن کی چھٹی مانگی تھی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1975 ء میں قائم ہونے والی بہاء الدین زکریایونیورسٹی نے مختصر مدت میں تعلیم ، ترقی ، ذہنی اور فکری کشادگی میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے. مگر اس امر کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ ایک دو انتظامی افسروں کی لغزشوں کے باعث ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس یونیورسٹی کی نیک نامی پر برا اثر پڑا.یہی وہ مشکل وقت ہے جب پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے وائس چانسلر کا منصب سنبھالا. اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ نہ وہ صرف ان غلطیوں کاازالہ کریں گے بلکہ ان لوگوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں گے جنہوں نے یونیورسٹی کی نیک نامی کو دھبہ لگایا تھا.اس راہ میں انہو ں نے دھمکیوں کی پرواہ کی نہ ترغیبات کی. اور تمام شواہد متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کرکے بہت بڑا کام کیا ہے. ہمیں رب ذوالجلال کا ممنون ہونا چاہیے کہ اس دیانت دار ، بااصول اور انتھک محنتی شخص نے زکریایونیورسٹی کو مالی بحران سے بھی نکالا ، تعلیمی انتشار سے بھی. اور ڈگریوں کو اعتماد کے بحران سے بھی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرطاہر امین نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی.بعدازاں کینیڈا کی کارلٹن یونیورسٹی سے بھی بین الاقوامی تعلقات عامہ میں عالمی معیار کی ماسٹر ڈگری حاصل کی. انہوں نے امریکہ کیMIT (Massachusetts Institute of Technology)دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی سے کنگ فیصل سکالرشپ پر سیاسیات (Politics ) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ ( Harvard University )سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ (Cambridge University ) میں علامہ اقبال چیئر سے وابستہ ہوگئے اور یہاں طویل عرصہ تک تحقیقی و تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے ڈاکٹر طاہر امین قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز( NIPS ) میں ڈائریکٹر بھی رہے. ڈاکٹر طاہر امین نے بین الاقوامی سطح کی چار معرکتہ الآرا کتب بھی تحریر کی ہیں. تھیوری اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے مضمون میں انہیں خصوصی عبور اور مہارت حاصل ہے. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین اپنے اہداف میں تسلسل کے ساتھ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں ملکی ترقی اور اقوام عالم میں باوقار مقام کے حصول کے لیے قانون پسند معاشرے کا قیام از بس ضروری ہے اس مقصد کے لیے قانون کی وسیع بنیادوں پر تعلیم کا اہتمام کیاگیا ہے. ڈاکٹر طاہر امین کی قیادت میں یونیورسٹی ہمہ وقتی تحقیق کو آگے بڑھانے میں مسلسل کامیابیاں حاصل کررہی ہے. جس کے ثمرات پوری قوم اور اس خطہ کے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں. ان کی ترجیحات میں زکریایونیورسٹی فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے پی ایچ ڈی سکالر کو ترقی یافتہ ممالک کی جامعات میں بھیجا جارہا ہے.یونیورسٹی میں کانفرنسز کے ذریعہ اسلامی تہذیب و ثقافت کی خصوصیات کو اجاگر کیاگیا ہے .بہاء الدین زکریایونیورسٹی میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں تحقیق کو فروغ دینے اور اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے. وائس چانسلر کی کاوشوں سے بہاء الدین زکریایونیورسٹی کو بین الاقوامی پہنچان مل رہی ہے.یونیورسٹی بین الاقوامی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے وائس چانسلر کی قیادت میں طلباء کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں. یونیورسٹی میں جدید تحقیق کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں. تحقیق کے جدید طریقہ کار کو اختیار کیا گیا ہے. یونیورسٹی میں تحقیق کے نئے ضابطوں اور طریقہ کار کو سکھایا جارہا ہے. تدریس اور تحقیق میں جدت کے ساتھ اعلی تعلیم کے لیے لائحہ عمل بھی تشکیل دیاگیا ہے. وائس چانسلر ڈاکٹر طاہرامین کی سربراہی میں 14 جولائی کو ہونیوالے سنڈیکیٹ کے اجلا س میں فیصلہ کیاگیا تھاکہ داخلوں کے روایتی طریق کار کو ترک کرکے 2018 تعلیمی سال سے ایم اے ایم ایس سمیت تمام داخلے آن لائن سسٹم کے ذریعہ ہوں گے.جس سے طلباء طالبات کے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ مالیاتی بوجھ میں بھی کمی ہوگی اور ان کو یونیورسٹی میں داخلہ کے حصول کے لیے ہونے والی روایتی پریشانی سے بھی نجات مل جائے گی . اس سے قبل بی اے بی ایس سی ، ایم اے ایم ایس سی کی رجسٹریشن کے لیے آن لائن سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے.وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین کی زیرنگرانی شعبہ اورک کا قیام عمل میں لایا گیا . شعبہ اورک کے تحت محقیقین نے ایچ ای سی اسلام آباد سے 8 کروڑ کے تحقیقی پراجیکٹ حاصل کرلیے ہیں . تحقیقی پراجیکٹس ریسرچ پروگرام برائے یونیورسٹیز کی این آر پی سکیم کے تحت حاصل کیے گئے ہیں . بہاء الدین زکریایونیورسٹی نے ایچ ای سی کو 117 ریسرچ پروپوزلز جمع کروائی تھیں جن کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایچ ای سی نے 50 ریسرچر پروپوزلز کو ایچ ای سی کے نامزد ماہرین کے پینل کے سامنے پیش کیاگیا. جن میں سے 27 ریسرچ پروپوزلز ریسرچ فنڈ ز کے لیے منظور کیاگیا بہائالدین زکریایونیورسٹی کو 27 ریسرچ پراجیکٹس میں 17 ریسرچ پراجیکٹس ایک ہی فیکلٹی آف ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو دیے گئے ہیں.اورک کے قیام سے یونیورسٹی میں تحقیق کے کلچر کو فروغ ملا ہے.وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کا13 واں کانووکیشن16 دسمبر 2016 اور 14 واں کانووکیشن26 ستمبر2017 کو کروایا چودہویں کانووکیشن میں 52 سکالرز کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کی اور 224 طلباء طالبات کو گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے. مجموعی طورپر کانووکیشن میں 7 ہزار سے زائد طلباء طالبات کو ڈگریاں ایوارڈ کی گئیں. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے بھی اپنے کوشش کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ مختصر عرصہ میں تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی کی ہے . اس وقت یونیورسٹی کا شمار ایشیاء کی تین سو بہترین یونیورسٹیز میں ہورہا ہے. یونیورسٹی کے تمام شعبے باقاعدگی سے کام کررہے ہیں یونیورسٹی میں بین الاقوامی کانفرسز کا انعقاد یونیورسٹی کے ماہانہ کیلنڈر کا حصہ بن چکا ہے. بین الاقوامی اداروں سے یونیورسٹی نے کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں. جس کے نتیجہ میں بیرونی سکالر ز یونیورسٹی آرہے ہیں. اور یونیورسٹی کے سکالرز بیرونی کانفرنسز میں شرکت کررہے۔ہیں.بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے اساتذہ اور ملازمین کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی اور بروقت طبی جانچ کے لیے ملتان میں قائم کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ساتھ بھی مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کیے گئے. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین کی سربراہی میں 20 اکتوبر 2017 کو اجلاس ہوا جس میں بہاء الدین زکریایونیورسٹی کا لودھراں سب کیمپس قائم کرنے کی منظوری دی گئی. لودھراں سب کیمپس میں انگلش ، سوشیالوجی ، آئی ٹی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں.بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان میں اس وقت بائیو ٹیکنالوجی کی بلڈنگ ، شعبہ فزکس ، کنٹرولر امتحانات کی توسیعی عمارات ، شعبہ اورک کی بلڈنگ،یونیورسٹی سیکورٹی کنٹرول روم کی بلڈنگ کی تعمیرشروع ہے .اساتذہ کرام کی محنت اور تحقیقی عمل میں اضافے کے باعث بہاء الدین زکریا یونیورسٹی پاکستان کی ان پانچ یونیورسٹیز میں شامل ہوگئی ہے جن کو ٹائمز رینکنگ نے دنیا کی 900بہترین یونیورسٹیز میں شامل کیا ہے جس میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا نمبر805ہے۔اساتذہ کرام اور اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک سال میں چھ سلیکشن بورڈ کروائے اور 150بہترین اور باصلاحیت اساتذہ وآفیسران صرف اور صرف میرٹ کی بنیادوں پر بھرتی کیے تاکہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر کیا جاسکے۔میرٹ کی بنیادوں پر گریجوایشن سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے داخلوں کو یقینی بنایا۔طلباء وطالبات کی فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا بلکہ ہاسٹل کی فیسوں میں کمی کی۔یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء کو ڈگریاں تقسیم کرنے کے لیے مختصر وقت میں بارہواں، تیرہواں اور چودھواں کانووکیشن منعقد کروایا ،سابق وزیراعظیم کی طرف سے دیے گئے 43سکالرشپ کی معطل شدہ گرانٹ کو بھرپور کاوشوں سے بحال کروایا۔سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے نظام میں بہتری لے کر آئے اور یونیورسٹی کی 13کلومیٹر چار دیواری کو خاردار تاریں، سی سی ٹی وی کیمرے اور لائٹس بھی لگوائی اوراس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے نظام پر نظر رکھنے کے لیے ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا۔ یونیورسٹی کی آئینی وقانونی اداروں سنڈیکیٹ کے چار اور سینیٹ کا ایک اجلاس منعقعد کروایا . نیز اکیڈمک کونسل کے دو اور بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے تین اجلاس منعقد کروائے۔یونیورسٹی میں موجود پریشر گروپس کو ختم کرکے فری اینڈ فیئر سنڈیکیٹ اور سینٹ کے انتخابات کروائے۔مستقبل کی منصوبہ بندی میں وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں میڈیکل کالج بنانے کے لیے تجویز بھی چانسلر کو ارسال کی تاکہ جنوبی پنجاب میں میڈیکل کی تعلیم کو عام کیا جاسکے۔

مزید : صفحہ آخر